سعودی عرب،پاکستان اور معیشت 

سعودی عرب،پاکستان اور معیشت 
سعودی عرب،پاکستان اور معیشت 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پاکستان کے لئے یہ گزشتہ دو ہفتے مالی اور معاشی لحاظ سے بڑے اچھے ثابت ہوئے ہیں کیوں کہ پاکستان کے ڈیفالٹ کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا تھا لیکن پہلے تو آئی ایم ایف کاپاکستان کے ساتھ سٹینڈ بائی معاہدہ ہوا اور اس کے بعد برادراسلامی ملک سعودی عرب نے بھی پاکستان کے سٹیٹ بنک میں دو ارب ڈالر ڈیپازٹ کرا دیئے ہیں جس کے بعد پاکستان کی سٹاک ایکسچینج میں بھی تیزی آئی ہے اور اس کے علاوہ ڈالر جس کوپر لگ چکے تھے اسے بھی بریک لگ گئی ہے۔ پاکستان کو ان مشکل معاشی حالات سے نکالنے میں جہاں سول قیادت نے اہم کردار ادا کیا ہے وہاں پاکستان کی عسکری قیادت کا کردار بھی قابل تعریف ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے تو باقاعدہ طور پر اعلان کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کو پاکستان کی مالی مدد پر راضی کرنا پاکستان کی مسلح افواج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی محنت کا نتیجہ ہے کہ پاکستان مشکل معاشی حالات سے نکلنا شروع ہو گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں گرین انقلاب کی بنیاد بھی رکھ دی گئی ہے جس میں پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی سوچ کارفرما ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے تو زراعت ہی پاکستان کو مشکل حالات سے نکالنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے برملا کہا ہے کہ پاکستان میں زرعی انقلاب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سیّد عاصم منیر کا ویژن ہے۔ اس سے آئندہ پانچ سال میں 50 ارب ڈالرز تک کی سرمایہ کاری ہو گی اور چالیس لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہے، ملک میں 1960 کے بعد دوسرا سبز انقلاب برپا کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کھلے دل کے ساتھ اعتراف کیا کہ پاک فوج کے سپہ سالار یعنی جنرل حافظ سید عاصم منیر نے سبز پاکستان اقدام کی بات کی اور مشورہ دیا کہ ہمیں اس معاملے کو آگے بڑھانا ہے اور مل کر بہت بڑے ویژن کو عملی جامع پہنانا ہے جس پر میں جنرل سید عاصم منیر کا ممنون ہوں۔

اس کے بعد اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سیّد عاصم منیر نے تقریب کے شرکاء کو یقین دلایا کہ پاک فوج خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت تمام حکومتی اقدامات کی حمایت کرے گی اور گرین پاکستان انیشی ایٹو میں پاکستانی قوم کی امنگوں پر پورا اترے گی،اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت مل کر ملک کو بھنور سے نکالنے کیلئے متحرک ہو چکی ہے، یہی سول اور عسکری قیادت کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کو معاشی محاذ پر جن چیلنجز کا سامنا تھا ان سے وہ نکلنے میں آہستہ آہستہ کامیاب ہو رہا ہے۔ یہاں برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی تعریف کرنا اور ان کے مشکل وقت میں پاکستان کے کام آنے کو یاد کرنا ضروری ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں دو ارب ڈالر کی رقم کے جمع ہونے کی خبر کے بعد مارکیٹ میں مزید تیزی آئی۔سعودی عرب پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور اس نے ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کی ہے اور کبھی پاکستان کو مایوس نہیں کیا ہے جب بھی پاکستان کو مالی معاملات میں مشکل پیش آئی  تو سعودی قیادت شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور محمد بن سلمان جوہمیشہ پاکستان کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور مشکل حالات میں مدد کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں یعنی برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے تو اپنا بھائی ہونے کا فریضہ ادا کر دیا ہے۔ اب یہ پاکستان کی سول قیادت کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کی معیشت کو مشکل حالات سے نکالے کیوں عسکری قیادت نے بھی اب اپنا فریضہ انجام دے دیا ہے اور انہوں نے اپنے فرض سے بڑھ کر پاکستان کی خدمت کی ہے۔

بنیادی طور پر توآرمی چیف کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے اور ملک کے دفاع کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ہوتی ہے لیکن پاکستان کے مشکل معاشی حالات کی بدولت آرمی چیف کو اپنے متعین کردار سے بڑھ کرمعاشی حوالے سے بھی متحرک ہونا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کو پاک فوج کا یہ کردار ایک آنکھ نہیں بھا رہا اور اسی لئے پاک فوج کیخلاف سازشوں کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے متنبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ جو مادر پدر آزادی ہے اس کو ختم ہونا چاہئے اور سوشل میڈیا پر جو دشمن عناصر پاکستان کیخلاف سازیشں کر رہے ہیں ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔یہ ہمارے اداروں کا فرض ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر لگام ڈالیں کیوں کہ سوشل میڈیا ایسا میڈیم بن چکا ہے جہاں کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور حدود و قیود سے آزاد پلیٹ فارم مہیا ہونے کی وجہ سے دشمن کو یہاں کھل کر اپنی سازشیں کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ بھی کرنا چاہئے کیوں کہ مادر پدر آزادی ہمارے معاشرے کو تباہی کی جانب لے جا سکتی ہے اور اس میں اہم کردار سوشل میڈیا کا ہے۔ سانحہ 9 مئی بھی سوشل میڈیا کی وجہ سے ہی رونما ہوا تھا اور اب یہ حکومت کا فرض ہے کہ جب ملک مشکل حالات سے نکلنے کی تگ و دو کر رہا ہے وہ مزید کسی سانحہ کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے سوشل میڈیا کو قانون کے دائرے میں لا یا جائے تا کہ دشمن عناصر کو یہاں پاکستان کیخلاف سازشیں کرنے کا موقع نہ مل سکے۔

مزید :

رائے -کالم -