احساس کرو پاکستان سے پیار کرو!

 احساس کرو پاکستان سے پیار کرو!
 احساس کرو پاکستان سے پیار کرو!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


سپیڈو بس میں سفر کر رہا تھا مسافروں کا رش تھا تمام سیٹیں پر تھیں خواتین اور مردوں کے حصے میں مسافر کھڑے تھے۔ میری نظر ایک سیٹ پر بیٹھے نوجوان پر پڑی وہ احترام سے اٹھ گیا میں خوشی خوشی سیٹ پر بیٹھ گیا اس دوران ایک اور بزرگ تشریف لائے، دوسری طرف والا لڑکا کھڑا ہو گیا، وہ بزرگ بھی بیٹھ گئے راقم کو سمجھ آ گئی یہ ملک کیوں چل رہا ہے بچوں کو دعا دی اب یہ ملک آپ نوجوانوں نے چلانا ہے ہم بوڑھوں کو آرام کرنے دو دنیا و آخرت میں تمہارا مقام بلند ہو۔اندھیرا کتنا گہرا ہو روشنی کی ایک کرن اُجالا کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے اس سے کوئی مطلب نہیں عوام آنے جانے میں مشکلات کا سامنا کریں یا زندگی کی بازی ہار جائیں۔
ڈاکٹر سعادت سعید جی سی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں ٹی ہاؤس میں ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک لڑکے سے سوال کیا تم دہشت گرد کیوں  نہیں بنے، اس نے جواب دینے سے معذرت طلب کی کہنے لگا میں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا اس کی کالی رنگت پر سفید دانت چمک رہے تھے، جبکہ وہ گفتگو کرنے کا ماہر تھا،راقم اس کے قریب بیٹھا تھا، ہاتھ کھڑا کیا کہا میں اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ڈاکٹر صاحب نے مجھے بات کرنے کی اجازت دے دی ہال نوجوان لڑکوں سے بھرا ہوا تھا۔ لڑکے میری طرف حیرت سے دیکھنے لگے۔


راقم نے کہا۔ ڈاکٹر صاحب جنت تو آسانی سے مل جاتی ہے، والدین کی خدمت کرنے سے  پیاسے کو پانی پلانے سے بھوکے کو کھانا کھلانے سے راستے کے کانٹے پتھر ہٹانے سے، اپنا کام ایمان داری سے سچ کا علم بلند کرنے سے تو مجھے کیا ضرورت ہے دہشت گرد بننے کی۔
حاضرین تالیاں بجانے لگے جیسے ایک بڑا مسئلہ حل ہو گیا ہو۔ عیدالضحیٰ ابھی مسلمانوں نے منائی ہے۔ قربانی صاحب حیثیت پر واجب ہے اُسے قربانی کر کے غریبوں میں حصہ تقسیم کرنا چاہئے، مگر اس عمل میں بھی کمی آ گئی ہے۔ کہا گیا ہے اگر آپ سارا رکھنا چاہئیں تو رکھ لیں۔اب خود فیصلہ کریں کیا یہ طریقہ درست ہے سارا سال عام آدمی گوشت نہیں خرید سکتا، اسے عید پر امید ہوتی ہے اگر تیسرا حصہ تقسیم کر دیا جائے تو غریب آدمی بھی گوشت بچوں کے ساتھ کھا کر دعا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق خوبصورت بنائی ہے جب کہ قربانی کا جانور خریدتے وقت سب سے پہلے جس کا چہرہ دیکھتے ہیں اگر وہ دیکھنے میں پیارا خوبصورت لگے تو ہم اس کی زیادہ قیمت دے کر خرید لیتے ہیں مگر افسوس یہی حصہ یعنی اس کا سر مبارک کوڑے  میں یا گلی محلے میں پھینک دیتے ہیں، البتہ پائے رکھ لیتے ہیں پھر شوق سے پکاتے کھاتے ہیں۔
عید کے موقع پر ہم کبھی سیکیورٹی اداروں کی طرف ملنے گئے ہیں جو ہر وقت پاکستان کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں؟ دشمن کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہر ہفتے، مہینہ میں دو چار سیکیورٹی والے افراد شہید کر دیئے جاتے ہیں۔
مشہور دانشور اشفاق احمد مرحوم صاحب سے میں نے سنا وہ عید پڑھنے کے بعد تھانے جاتے۔ ان سے عید ملتے، گوشت بھی دیتے، اسی طرح وہ پولیس والوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کر لیتے وہ ملک اور ادارے میں چوبیس گھنٹے کے ملازم ہیں۔ ان کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں جب ملک میں جلوس ہنگامے توڑ پھوڑ سڑکیں بلاک، کارروبارِ زندگی متاثر سکول کالج بند ہسپتال مریضوں کا جانا مشکل جگہ جگہ ٹائر جلا کر راستے بلاک کر دیتے ہیں۔


اس طرح ہم وطن پاک کی کیا خدمت کر رہے ہیں، ہم آزادی کا مطلب نہیں جانتے، قانون کا احترام نہیں کرتے جس سے دوسرے لوگوں کے لئے مسائل پیدا ہوتے ہیں انہیں حق نہیں ملتا وہ پریشان رہتے ہیں اور قانون شکن فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ان ممالک کو دیکھیں جہاں ہر وقت جنگ جاری رہتی ہے، کسی بھی وقت بم گرتا ہے سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے اور ہمیں سب کچھ آرام سے مل جاتا ہے پھر بھی وطن کو برا کہتے ہیں اپنی مرضی کرتے ہیں پاک وطن ہمیں ماں کی طرح دیکھتا ہے ہمارے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اس کا احساس کریں پاکستان سے پیار کریں!

مزید :

رائے -کالم -