45فیصد نوجوان ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے؟

45فیصد نوجوان ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے؟
45فیصد نوجوان ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 حکومت نے نو مہینے لگا کر منتیں،ترلے کر کے آئی ایم ایف کو منا ہی لیا ہے اور اس طرح منایا ہے کہ1.1ارب ڈالر حاصل کرنے کی جدوجہد میں تین ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کرلیا ہے،حکمرانوں کے لئے، ریاست پاکستان کے لئے لاریب یہ بہت بڑی کامیابی ہے وگرنہ ہم ڈیفالٹ ہونے جا رہے تھے، ہمارے کئی ماہرین تو کہہ رہے تھے کہ ہم عملاً ڈیفالٹ ہو چکے ہیں صرف اعلان باقی ہے، مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور انصافی حکومت کے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی ٹیلی ویژن سکرین پر آ کر مکرر کہا کرتے تھے کہ ہم ڈیفالٹ ہو چکے ہیں،بہت سے حکومت دشمن سیاست دانوں اور ان کے پیرو کاروں کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے،لیکن سب کی امیدوں پر اوس پڑ چکی ہے، سردست پاکستان ڈیفالٹ سے نکل چکا ہے، ہماری قومی معیشت خطرے سے باہر نکل چکی ہے،لیکن عوام ڈیفالٹ کر گئے ہیں۔مثال ہے کہ ایکسیڈنٹ ہو چکا، ڈرائیور ہلاک ہو گیا ہے، لیکن اس کا چہرہ مسخ ہونے سے بچ گیا ہے،اللہ کیا منطق دی جا رہی ہے کہ ہم نے ملک بچا لیا ہے، آئی ایم ایف کو منا لیا ہے قرضہ پا لیا ہے واہ جی واہ۔ شہباز شریف زندہ باد۔ اسحاق ڈار زندہ باد۔


پاکستان اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے لاتعداد مثبت اعشاریوں کی موجودگی کے باوجود ہماری معیشت پسماندگی کا شکار ہے،آبادی ہے کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے،وسائل بڑھنے کی وہ رفتار نہیں ہے جو ہونی چاہئے،نتیجہ غربت میں اضافہ اور غریبوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ملک کو کمزور کرتی چلی جا رہی ہے۔پاکستان کو ایک دفاعی ریاست کے فلسفے کے تحت چلایا جاتا رہا ہے، کہا جاتا ہے کہ کیونکہ ہندوستان ہمارا دشمن ہے ہمیں ختم کرنا چاہتا ہے اس لئے ایک مضبوط دفاعی نظام ضروری ہے اسی فلسفے کے تحت ہم نے ایک کثیر الجثہ فوج بنا لی۔ایٹم بم بنا لیا، عسکری اعتبار سے اپنا دفاع ناقابل ِ تسخیر بنا لیا۔اب ہندوستان ہمیں عسکری طور پر فتح نہیں کر سکتا، ایٹمی صلاحیت ہونے کے باعث ہمارے ساتھ کھلے عام جنگ نہیں کر سکتا۔پاک بھارت جنگ اب آپشن نہیں رہا،  کھلے عام جنگ کبھی نہیں ہو گی،لیکن کیا ہم محفوظ ہو چکے ہیں؟ہر گز نہیں۔
اِس سال دفاع کا بجٹ14فیصد خرچ کیا جانا طے پایا ہے یہ بہت بڑا خرچ ہے جو ہمارے دفاع کے لئے لازم ہے ہماری خارجہ پالیسی بھی اسی دفاعی ریاست کے نظریے پر چلتی رہی ہے، ہم امریکی حصار میں عافیت محسوس کرتے رہے ہیں لیکن امریکی دوستی پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم ہونے سے نہیں روک سکی۔اب نئے عالمی و علاقائی منظر نامے میں ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہمارا آئندہ لائحہ عمل کیا ہو گا۔ پہاڑوں سے اونچی اور شہد سے میٹھی پاک چین دوستی کا کیا ہو گا۔سی پیک جسے ہمارے حکمران گیم چینجر کہتے رہے ہیں، ابھی تک ہمارے لئے رحمت کی بجائے زحمت ہی بنا ہوا ہے۔ امریکہ ہمارے لئے عرصہ حیات تنگ کر رہا ہے کہ ہم چینی دوستی سے دستبردار ہو جائیں۔سی پیک رول اوور کر دیں ہم ابھی تک بے یقینی کی حالت میں کھڑے  ہیں نہ مکمل طور پر اِدھر ہوئے ہیں اور نا ہی اُدھر۔معلق ہیں ایسے ہی ہماری قومی معیشت معلق ہے نہ ڈیفالٹ کر رہی ہے  اور نہ ہی سنبھل رہی ہے۔عامتہ الناس دو وقت نہیں صرف ایک و قت کی روٹی کے لئے ترسنے لگے ہیں۔

بجلی گیس کی قیمتیں ہوں یا سنہری دال کے نرخ، ہر اشیاء ضروریہ کی قیمت حقیقتاً بے قابو اور ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے اب تو اس مہنگائی کا ہمارے حکمران بھی دفاع کرنے سے دستبردار ہو چکے ہیں،مہنگائی اس قدر ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں کہ حکمران اس کا دفاع کرنے کی بجائے تاویلیں دینے لگے ہیں،لیکن حالات اپنی پستی کو چھو چکے ہیں معیشت اس سے زیادہ بدحال ہو نہیں سکتی، اپنی پستی کی آخری حدوں کو چھو چکی ہے۔اب ذرا الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ووٹرز لسٹ کا مطالعہ کریں تو حیران کن،بلکہ پریشان کن احوال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،مجموعی تعداد 12 کروڑ60لاکھ 66ہزار ہے جن میں 18تا35 سال عمر کے ووٹرز کی تعداد پانچ کروڑ 61 لاکھ بتائی جا رہی ہے یہ مجموعی ووٹرز کا45فیصد بنتا ہے گویا حق رائے دہی پر نوجوان غالب آ گئے ہیں،آئندہ الیکشنوں میں یہی نوجوان بچے بچیاں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ان نوجوانوں نے نفرت اور تشدد کے بیانیے میں پرورش پائی ہے انہیں لڑنے،مرنے،مارنے کی ترغیب و تربیت دی گئی ہے جس کا ایک ہلکا سا نظارہ9مئی کو پورے ملک میں گھیراؤ جلاؤ اور مرو مارو کی صورت میں دیکھنے کو ملا، ایسے ہی نوجوانوں نے ایسے بڑوں کی ہدایات پر ملک کے محترم اور پاکیزہ نشانات اور مقامات پر حملے کئے انہیں جلایا، برباد کیا،ان کی بے حرمتی کی اور اپنی تربیت کا اظہار کیا۔ اب الیکشن آیا ہی چاہتے ہیں،12اگست کے بعد کیئر ٹیکر حکومتیں قائم ہو جائیں گی پھر60یا90دنوں کے اندر اندر انتخابات ہوں گے، ذرا غور کریں جب انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہو گا اور ایک آزاد فضاء قائم ہو گی تو جاری حالات کے تناظر میں یہ نوجوان کس طرح ری ایکٹ کریں گے،نظام کی خرابیوں اور بوسیدگیوں کے باعث ہماری سیاست میں نفرت اور تشدد کے نظریات کو مقبولیت ملی تھی، غیر ملکی سرمایے کی شمولیت نے بچے کھچے نظام کے تارپود بکھیرنے میں معاونت کی۔ ریاست کو للکارنے والا ابھی تک شکنجے سے باہر ہے،اس کا کروفر قائم ہے،اس کی تقریروں کا زہریلا پن بھی اسی طرح قائم ہے جیسے9مئی سے پہلے تھا،اس کی حمایت میں اسرائیل بھی کھل کھلا کر میدان میں آ چکا ہے، آئی ایم ایف کے وفد کی اس سے ملاقات سے طاقتور ہونے کا تاثر پختہ ہوا ہے۔ حکومت کی کمزوری کہیں یا کچھ اور کہیں،لیکن سچی بات یہی ہے کہ اتنا کچھ ہونے اور اتنا کچھ سامنے آ جانے کے بعد بھی اگر اسے کچھ نہیں کہا جا رہا ہے، وہ اپنی طاقت، نخوت اور غرور کے ساتھ ابھی تک غرا رہا ہے،للکار رہا ہے،جبکہ دوسری طرف صرف مقدمے ہی قائم کئے جا رہے ہیں،پارٹی کو توڑنے کی کاوشیں تو کامیابی سے جاری ہیں،کہیں استحکام پاکستان پارٹی کی شکل میں اور کہیں پی ٹی آئی پیٹریاٹ کی تشکیل کے ذریعے اسے تنہا کرنے کی کاوشیں کی جا رہی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی ضرب کاری نہیں لگائی جا سکی ہے۔ انتخابات کے اعلان کے بعد کیا ہو گا، 45 فیصد نوجوان ووٹر  کیا کریں گے،ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے، آیئے انتظار کرتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -