جنوبی پنجاب کا نام سرائیکی صوبہ کیوں؟

جنوبی پنجاب کا نام سرائیکی صوبہ کیوں؟
جنوبی پنجاب کا نام سرائیکی صوبہ کیوں؟

  


وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی آج کل زیادہ تر سرائیکی زبان میں تقریر کیا کرتے ہیں۔ اکثر اوقات وہ کہا کرتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کا نام سرائیکی صوبہ اگر ہم نہیں رکھیں گے تواور کون رکھے گا؟.... گویا پیپلز پارٹی نے اقتدار اس لئے حاصل کیا ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کا نام سرائیکی صوبہ ضرور قرار دے گی۔قیام پاکستان سے پہلے جنوبی پنجاب میں ہندو، سکھ اور چمار وغیرہ بھی مقیم تھے۔ ان کی مادری زبان بھی سرائیکی ہی تھی۔ اُنہوں نے تو کبھی ایسا مطالبہ نہیں کیا، نہ گیلانی صاحب کے آباو¿ اجداد نے، جو ہمارے وزیراعظم صاحب نے شروع کر رکھا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد مشرقی پنجاب کے مسلمان مہاجر ہو کر مغربی پنجاب میں آبسے تھے، ان کی مادری زبان پنجابی ہے۔ بھارت کے دیگر علاقوں سے جو مسلمان مغربی پنجاب میں آگئے تھے، ان کی مادری زبان زیادہ تر اردو ہے۔ ان مہاجرین کو سرائیکی قرار دینا زیادتی کے مترادف ہوگا۔ جنوبی پنجاب میں بلوچ بھی ہیں اور پٹھان بھی۔ آج تک اردو زبان کو نجانے کیوں قومی زبان قرار نہیں دیا جاسکا۔

 پیپلز پارٹی کے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں جو آئین مرتب کیا تھا، اس میں یہ بھی درج ہے کہ پندرہ سال تک اردو زبان کو قومی اور دفتری زبان قرار دے دیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نجانے کیوں اس آئین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، جو پیپلز پارٹی کے بانی نے نافذ کیا تھا۔ وزیراعظم صاحب کبھی انگریزی میں خطاب کرتے ہیں، کبھی سرائیکی میں، یہی حال پیپلز پارٹی کے دیگر وزراءکا ہے۔ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے بھی کبھی اس آئین کی پرواہ نہیں کی، جو پیپلز پارٹی کے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو نے مرتب کیا تھا۔ زرداری صاحب نے انگلش میں تقریر کر کے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ ہم ابھی تک انگریزوں کے زیر قبضہ ہیں۔ بھٹو صاحب نے جو آئین نافذ کیا تھا، اُسے پیپلز پارٹی والے نہیں مانتے، نہیں جانتے۔

انگریز تو عرصہ ہوا برصغیر سے چلے گئے تھے، مگر وہ جو اپنی زبان ادھر چھوڑ گئے تھے، وہ ہماری حکومت چھوڑتی دکھائی نہیں دیتی۔ ایم کیو ایم والے بھی اردو زبان کو قومی زبان بنائے جانے کا مطالبہ نہیں کرتے، حالانکہ اُن کی مادری زبان اردو ہے، یعنی وہ اردو سپیکنگ ہیں۔ اس کے برعکس وہ بھی جنوبی پنجاب کو سرائیکی صوبے کا نام دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ بھی بھول چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے بانی نے پاکستان کے آئین میں یہ بھی لکھ رکھا ہے کہ آئندہ پندرہ سال تک اردو کو قومی زبان قرار دیا جا سکے گا۔

لسانی بنیاد پر بننے والے صوبے اگر ترقی کر سکتے تو خیبر پختونخوا ترقی کی کافی منازل طے کر چکا ہوتا۔ پشتو بولنے والے عرصہ دراز سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ صوبہ سرحد کا نام صوبہ پختونستان رکھا جائے، تاکہ پشتو بولنے والے بھی ترقی کر سکیں۔ ان کے اس مطالبے سے لسانی بنیاد پر صوبے کا نام تبدیل کر دیا گیا، مگر وہ ترقی پھر بھی نہ کر سکے۔ پیپلز پارٹی والے لسانی بنیاد پر جنوبی پنجاب کا نام تبدیل کرنے کی بجائے صوبہ بلوچستان کی ترقی کے لئے کوئی معقول سلسلہ شروع کریں، مگر پیپلز پارٹی اب تک آئیں بائیں شائیں کے سوا کچھ نہیں کر سکی۔ اگر وہ کچھ کر سکتی تو امریکہ بلوچستان میں مداخلت کیوں کرتا؟.... رہی بات صوبہ خیبر پختونخوا کی تو وہاں کی حالت بھی اچھی نہیں ہے، وہاں آئے روز امریکی ہوائی جہاز بے گناہ شہریوں کو بمباری کر کے شہید کرتے رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کو وہاں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کو لسانی بنیاد پر صوبے کا نام تبدیل کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ ایسا کرنے سے ان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

مزید : کالم


loading...