اللہ کا شکر ہے!

اللہ کا شکر ہے!
اللہ کا شکر ہے!

  


خواتین و حضرات! ہم پاکستانی آج کل بہت سی پریشانیوں کا شکار ہیں، یہاں بدعنوانی اور بے ایمانی بھی پائی جاتی ہے۔ لوگ عورتوں پر ظلم اور تشدد بھی کرتے ہیں۔ پاکستان مخالف قوتیں بھی ہیں اور وہ اکثر سرگرم عمل بھی رہتی ہیں۔ پاکستان میں سیاسی بے چینی اور بدامنی بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ دہشت گردی میں بھی گزشتہ چند برسوں سے اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ لوگ خودکشیوں پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اگر ہم عالمی تناظر میں پاکستان کے حالات دیکھیں تو اور بھی تشویش ہوتی ہے اور اب تو معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ پاکستان کی سالمیت تک کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

خواتین و حضرات! آپ نے یہ بھی محسوس کیا ہو گا کہ ہر پاکستانی پریشان اور ملک کے مستقبل کے متعلق آپ کو فکر مند ہی نظر آئے گا۔ چاہے وہ ملکی سیاست کا مسئلہ ہو یا مہنگائی کا یا پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کی بات ہو۔ اگر آپ بس یا ویگن میں سفر کریں تو آپ دیکھیں گے کہ مسافر چاہے ایک دوسرے کو جانتے بھی نہ ہوں، آپس میں جو گفتگو کرتے ہیں، اس کا موضوع پاکستان میں امن، خوشحالی اور سیاسی استحکام سے متعلق فکرمندی کی بات ہوتی ہے۔ ہر دوسرا شخص ملکی سالمیت کے متعلق پریشان دکھائی دیتا ہے۔ بالخصوص امریکہ سے تعلقات، ڈرون حملے، بلوچستان کے حالات، بھارت اور اسرائیل کے خطرناک عزائم مزید تشویش اور پریشانی پیدا کرتے ہیں۔

اگر آپ بازار میں سودا سلف لینے جائیں تو دکاندار سے اشیاءکی بڑھتی قیمتوں سے بات شروع ہوتی اور ملکی سالمیت پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ اخبارات اٹھائیں تو ایسی ایسی خوفناک خبریں، تبصرے، کالم اور مضامین پڑھنے کو ملتے ہیں کہ خدانخواستہ (خاکم بدھن) پاکستان چند روز کا مہمان ہے۔ ٹیلی ویژن کے تبصرے مزید خوف کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ گھر، دفتر، شادی کی تقریب یا فوتگی یا کسی چہلم کی تقریب ہو.... اصل موضوع سے ہٹ کر بات گھوم گھام کر پاکستان کے حالات سے متعلق تشویش پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ اب ہمارے بچے۔ خاص طور پر نوجوان نسل پاکستان سے بالکل مایوس اور بددل نظر آتی ہے۔ انہیں یہاں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے اور ہرکوئی دوسرے ملک میں جانے کے لئے کوشاں ہے۔

جیسا کہ حالات اور خبروں سے پتہ چلتا ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اسی سال انتخابات ہوں یا کم از کم اس کا جلد اعلان متوقع ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کی اکثریت اب بھی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ انتخابات سے بھی حالات بہتر نہیں ہوں گے اور الیکشن ملک میں بہتری، امن اور خوشحالی نہیں لا سکیں گے۔ لوگ سیاسی پارٹیوں سے مطمئن نظر نہیں آتے کہ ان سب کو آزمایا جا چکا ہے۔ عمران خان کے متعلق اکثر لوگ کہتے سنے گئے ہیں کہ وہ اس قدر بگڑے ملک کو کیسے ٹھیک کر سکے گا؟

خواتین و حضرات! آپ نے کبھی نوٹ کیا ہے کہ ہمارے ملک میں جب بھی ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا ہے تو اس پر سلامتی بھیجتا ہے۔ السلام علیکم کہتا ہے۔ پھر شاید آپ نے یہ نہ نوٹ کیا ہو گا کہ آپ جس شخص سے بھی پوچھیں کہ کیا حال ہے؟وہ یہی کہے گا: ” اللہ کا شکر ہے،۔ ”مولا کا بڑا کرم ہے“۔ چاہے اس شخص نے دو دن سے کھانا بھی نہ کھایا ہو۔ ہر شخص ملک کے حالات، مہنگائی، بیماری، غربت، دہشت گردی، بدامنی اور عالمی سازشوں کے باوجود بھی، پاکستان کے حالات سے مایوس ہو کر بھی، جب بھی اس کا حال پوچھا جائے گا، وہ کہے گا ” اللہ کا شکر ہے، الحمد للہ، اس ذات کا کرم ہے“۔ یقین کیجئے مَیں نے ایک 75 سالہ بیمار اور بوڑھے موچی کو تپتی دھوپ میں بیٹھے کبھی جوتیاں سیتے اور کبھی سارا دن بیکار بھی دیکھا ہے، مگر جب بھی اس کا حال پوچھا، یہی جواب ملا ” اللہ کا شکر ہے“۔

جون کی گرمی میں سڑک بناتے مزدور، عمارت کی دسویں منزل پر جان خطرے میں ڈال کر تعمیر میں مصروف راج مزدور، گدھا گاڑی پر سارا دن پھیری لگانے والا، سائیکل پر پسینے سے شرابور، بوڑھا، بے روزگار نوجوان، گھروں میں کام کرنے والی بوڑھی ملازمہ، ویگن کا ڈرائیور، کوئلے کی کان کے مزدور یا سیاہ چن کی برفباری میں ملک کی حفاظت کرتے فوجی جوان، جون کے مہینے میں تندور پر روٹیاں لگاتا شخص، گلی میں جھاڑو دینا خاکروب، دفتر کا نائب قاصد، بستر پر لیٹا مریض، گرمی سردی بارش میں اخبار گھروں میں پھینکنے والے لڑکے.... الغرض آپ جس سے پاکستان سے متعلق بات کریں گے، وہ پریشان نظر آئے گا اور اس ملک کی سالمیت پر تشویش کا اظہار کرے گا.... لیکن جواب یہی ہوگا: ” اللہ کا شکر ہے، جو روکھی سوکھی مل جائے اس کا کرم ہے“۔ ہمارے ملک میں بعض الفاظ تقریباً ہر شخص ادا کرتا ہے دانستہ یا نادانستہ.... ” اللہ مالک ہے، ”اس مولا کا کرم ہے، ”وہ جو اوپر بیٹھا ہے، ” اللہ ہی کرم کرے گا“۔

اس سارے عمل میں آپ کو ایک شخص بھی اللہ سے ناراض، باغی یا شکایت کرتا نظر نہیں آئے گا۔ ”اس میں بھی اللہ کی کوئی بہتری ہے“ کا جملہ آپ ایسے لوگوں سے سنیں گے جو شدید پریشانی میں ہی مبتلا کیوں نہ ہوں۔ خواتین و حضرات اتنی پریشانیوں میں گھری قوم کے افراد دن میں کئی مرتبہ ایک دوسرے پر سلامتی بھیجتے ہیں، کئی مرتبہ ” اللہ کا شکر ہے“ کہتے ہیں ” اللہ مالک ہے“ کہہ کر سب کچھ اس کے سپرد کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جس ملک کے 18 کروڑ لوگ دن میں کئی مرتبہ خدا کا شکر ادا کرتے ہوں، کیا اللہ تعالیٰ انہیں اور اس ملک کا تحفظ نہیں فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ دو باتیں پسند ہیں، ایک اس سے توبہ استغفار طلب کی جائے، دوسرے اس کا شکر ادا کیا جائے اور الحمد للہ پاکستان کے18کروڑ لوگ دن میں کئی مرتبہ کہتے ہیں کہ ” اللہ کا شکر ہے۔ مالک کا بڑا کرم ہے“.... کیا اتنے لوگوں کا شکرانہ اس ذات کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوگا۔ کیا وہ اس پریشان حالی میں اللہ کا شکر کہنے والوں کو بے یارو مددگار اور بے آسرا چھوڑ دے گا۔ ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ شکر ادا کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور اپنے پسندیدہ بندوں کو آزمائش میں تو ڈال سکتا ہے، مصیبت میں نہیں۔

مزید : کالم


loading...