دستورپاکستان اور موجودہ صورت حال

دستورپاکستان اور موجودہ صورت حال
دستورپاکستان اور موجودہ صورت حال

  

پاکستان کی موجودہ صورت حال ایک جاسوسی ناول کی شکل اختیار کر چکی ہے، ایک ایسا ناول جو آغاز سے ہی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، جس کے کردار الجھے ہوئے ہیں، جن کی پرتیں جب کھلنے لگتی ہیں تو قاری حیران اور ششدر رہ جاتا ہے۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ اس کا اختتام کیا ہوگا اور آخری باب میں کرداروں کی کون سی شکل سامنے آئے گی؟ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک کے موجودہ حالات اہل وطن کے لئے کوئی نئے نہیں ہیں، جہاں آئے روز کوئی نہ کوئی ڈرامہ چلتا رہتا ہے، جس میں سسپنس بھی ہوتا ہے، ہیرو بھی ہوتا ہے، ولن بھی موجود ہوتا ہے اور جس میں رومانس کی بھی کمی نہیں ہوتی۔ یہ ہمارے لئے انٹریٹنمنٹ تو فراہم کرتا ہے، لیکن یہ اہل وطن کو اصل مسائل سے بھی دور کر دیتا ہے۔ قوم کے اصل مسائل نظروں سے اوجھل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس وقت بھی آپ دیکھ لیں کہ ملک کے اصل مسائل.... مہنگائی، بے روزگاری، غربت، لوڈشیڈنگ، خارجہ پالیسی، معاشی پالیسی اور سماجی مسائل.... پس منظر میں چلے گئے ہیںاور قوم غیر ضروری معاملات میں الجھی ہوئی ہے۔

بدقسمتی سے اس قوم کو اصل مسائل کے بارے میں سوچنے اور ان کا حل تلاش کرنے کا موقع ہی نہیں ملا .... یا ان مسائل کے حل کے لئے سنجیدگی اور خلوص کی کمی ہے۔ موجودہ حالات کتنے بھی سنگین ہوں، مایوسی کتنی بھی زیادہ ہو، لیکن ان میں روشنی کی کرنیں بھی بہت زیادہ ہیں، ملکی معاملات آئین اور قانون کے مطابق چل رہے ہیں۔ 8جون کو روزنامہ ”پاکستان“ نے بہت ہی خوبصورت مین ہیڈ لائن لگائی جو کم سے کم الفاظ میں موجودہ صورت حال کو بخوبی اجاگر کرتی ہے اور اس میں ملک کے مستقبل کے بارے میں امید کی کرنیں دکھائی دے رہی ہیں۔ ہیڈ لائن کے الفاظ ہیں۔ ”دستور پاکستان نے چیف جسٹس کو بینچ سے علیحدگی پر مجبور کر دیا“.... اس خبر سے اور ان مختصر الفاظ سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ دستور پاکستان سپریم ہے، پاکستان کا آئین ہمارے رویوں کو کنٹرول کرتا ہے، ہمارا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا ادارہ دستور پاکستان کے تابع ہے۔ یہ دستور ہماری خواہشات سے بالاتر ہے، ہماری ذاتی رائے اور سوچ دستور پاکستان پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ ہمارے اداروں نے دستور پاکستان کا تحفظ کرنے اور اس پر عمل کرنے کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔ پوری قوم پر بھی دستور پاکستان کی پاسداری لازم ہے۔

حالات کتنے بھی خراب ہوں، مایوسیوں کے سمندر کتنے بھی گہرے ہوں، کرپشن کی کہانیاں کتنی بھی عام ہو جائیں، اس ملک کو اس وقت تک نقصان نہیں پہنچ سکتا، جب تک یہ قوم اور اس کے ادارے آئین پاکستان کے تابع رہیں گے اور اس کی پاسداری کرتے رہیں گے۔ انسان آخر انسان ہی ہوتا ہے، ہم سب انسان ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی فرشتہ نہیں۔ ہم سب دولت بھی کمانا چاہتے ہیں، اپنا معیار زندگی بہتر بنانا چاہتے ہیں، ہم عیش و عشرت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، ہم طاقت کے بھی بھوکے ہیں اور ہماری دولت کی ہوس بھی ختم نہیں ہوتی۔ ہم لوگوں کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں، اپنی برتری کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں، ہم بڑی بڑی کاروں، عالیشان کوٹھیوں اور دنیا کے چوٹی کے ہوٹلوں میں قیام کو پسند کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیںکہ ہمارے بچے دنیا کے مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کریں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائیں، وہ دنیا کے امیر ترین انسانوں کی صف میں شامل ہوں، وہ بل گیٹس کا مقابلہ کریں۔ ہم میں سے بعض ایسے بھی ہوں گے جو صدر پاکستان بننے کے متمنی ہوں گے یا وزیراعظم پاکستان بننے کے خواہش مند.... اس طرح کی ہزاروں خواہشات ہیں جو ہمارے دلوں میں مچلتی رہتی ہیں، ہم انہیں پورا کرنا چاہتے۔ ان خواہشات کو پورا کرنا ہمارا حق ہے، اس کے لئے ہمیں محنت کرنے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن اس ضمن میں ہم من مرضی نہیں کر سکتے۔ ہم پوری طرح آزاد نہیں ہیں، ہمارا دائرہ کار محدود ہے، ہم ایک خاص حد سے تجاوز نہیں کر سکتے، ہماری تمام سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے اور انہیں ایک خاص دائرہ کار تک محدود رکھنے کے لئے دستور پاکستان موجود ہے۔ جب تک ہم دستور پاکستان اور ملکی قانون کے دائرے میں رہ کر کوششیں کریں گے تو یہ ایک قانونی عمل ہوگا جو ملک و قوم اور خود ہمارے لئے بھی بہتر ہوگا۔ جب ہم دستور پاکستان اور ملکی قانون کی حدود پار کریں گے تو ہم غیر قانونی افعال کے مرتکب ہوں گے اور یہ صورت حال نہ صرف ہمارے لئے، بلکہ ملک و قوم کے لئے بھی تباہ کن ہوگی۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قوموں نے بڑے سے بڑے بحرانوں کا مقابلہ قانون کی طاقت سے کیا ہے۔ انصاف کی فراہمی ہو، امن و امان قائم کرنے کا مسئلہ ہو، حقوق کے حصول اور تعین کی بات ہو، سیاسی تنازعات حل کرنے کا مسئلہ ہو اور اقتدار کے کھیل کے قوانین اور ضوابط مرتب کرنے کا معاملہ ہو۔ ان تمام امور کی انجام دہی میں ملکی دستور ہی رہنمائی کا واحد ذریعہ ہے۔

ترقی یافتہ جمہوری اقوام ملکی قوانین اور دستور کو باقی تمام باتوں پر مقدم رکھتی ہیں۔ ان ممالک میں آئینی معاملات طے کرتے وقت ملکی قوانین کو مقدس قوانین پر ترجیح دی جاتی ہے، ملکی قوانین اور دستور کے اس تقدس کی وجہ سے وہاں پر قوانین اور دستور سپریم حیثیت کے حامل ہیں اور تمام ادارے اور عوام دل و جان سے ملکی قوانین کی پاسداری کرتے ہیں۔ یہ بات تسلیم ہے کہ ہمارے مسائل گھمبیر ہیں، ہماری مایوسیوں کی بھی انتہا نہیں، ہماری سماجی برائیوں اور کرپشن کے سُر بھی بہت اونچے ہیں، جن کی وجہ سے عوام اپنے مستقبل سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں، لیکن ہمارے ہاں امید کی کرنیں بھی نظر آ رہی ہیں، ہمارے پاس نہ صرف دستور پاکستان موجود ہے، بلکہ اس پر عمل کرنے کی آرزو بھی پائی جاتی ہے۔ ان حالات میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ جب گندگی صاف ہوتی ہے تو بدبو بہت زیادہ ہوتی ہے، اگر ہم دستور پاکستان پر عمل کرتے رہے تو یہ بدبو عارضی ثابت ہوگی اور اس عمل کے نتیجے میں مطلع ضرور صاف ہوگا اور مایوسیوں کے اندھیرے روشنی کی کرنوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔  ٭

مزید :

کالم -