کیاوزیراعظم کی نا ا ہلی آئین کی دیوار کا نوشتہ بن چکی؟

کیاوزیراعظم کی نا ا ہلی آئین کی دیوار کا نوشتہ بن چکی؟
کیاوزیراعظم کی نا ا ہلی آئین کی دیوار کا نوشتہ بن چکی؟

  


سپریم کورٹ میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے کیس کی سماعت کے دوران ا ٹارنی جنرل عرفان قادر نے ایک مرتبہ پھر ایسا رویہ اختیار کیا جس پر چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کو انہیں تنبیہ کرنا پڑی کہ وہ ایسی باتیں کرکے حدود سے تجاوز نہ کریں۔ کیا دیوار دستور پر کوئی ایسا فیصلہ لکھا جا چکا ہے جسے پڑھ کر اٹارنی جنرل اتنے بے چین ہو رہے ہیں۔ گزشتہ روز اٹارنی جنرل عرفان قادر، وزیراعظم کے وکیل چودھری اعتزاز احسن اور وفاق کے وکیل منیر پراچہ نے وزیراعظم کی نااہلی کے لئے دائر درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزاروں کا کوئی حق مجروح نہیں ہوا ہے۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ ہر شہری کا حق ہے کہ اس پر ایسا شخص حکمرانی نہ کرے جو اہلیت کی شرائط پر پورا نہ اترتا ہو۔ اس سے زیادہ کسی شہری کا حق کیا مجروح ہو گا کہ اس کی نمائندہ حکومت کی باگ دوڑ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جو آئینی طور پر اس کا اہل نہ ہو۔ سرکار کے وکلاءکے دلائل میں کئی تضاد بھی نظر آئے۔ ایک طرف تو وہ این آر او کیس اور توہین عدالت کیس کے فیصلوں میں عدالتی اختیارات کو محدود بتاتے رہے اور دوسری طرف اس زیر نظر مقدمہ میں مذکورہ دونوں فیصلوں کو ”ری وزٹ“ کرنے کی استدعا کرکے عدالتی دائرہ اختیار کی وسعت پذیری کی حمایت کرتے نظر آئے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سوئس حکومت کو خط لکھنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا تھا کیونکہ عدالتی دائرہ اختیار ملکی سرحدوں تک محدود ہے۔ اعتزاز احسن اور منیر پراچہ کا مو¿قف تھا کہ وزیراعظم کو عدالتی حکم عدولی پر سزا دی گئی تھی۔ فرد جرم میں ان پر عدالت کی تذلیل اور تضحیک کا الزام نہیں تھا۔ سرکاری وکلاءکی اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو پھر این آر او کیس اور توہین عدالت کیس کو ”ری وزٹ“ کرنے سے متعلق اٹارنی جنرل کی دلیل کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اگر عدالت فرد جرم سے باہر نہیں جا سکتی تو وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق اس کیس میں وسیع تر اختیارات کیونکر استعمال کر سکتی ہے؟

یہ سمجھنے کی بات ہے کہ توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ نے فرد جرم سے تجاوز نہیں کیا بلکہ مجرم (وزیراعظم) کے جرم کی شدت کے اظہار کے طور پر قرار دیا تھا کہ انہوں نے عدالتی حکم نہ مان کر اس عدالت اور عدلیہ کی تضحیک کی ہے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو سید یوسف رضا گیلانی کو آرٹیکل 63 (1) جی کے تحت نااہل بناتے ہیں اور اس معاملہ کا عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ توہین عدالت کیس کے اتنے واضح فیصلے کے بعد سپیکر وزیراعظم کی نااہلی کا ریفرنس کیسے مسترد کر سکتی تھیں؟

سرکاری وکلاءکا کہنا ہے کہ سپیکر اسمبلی کے فیصلے کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ اس حوالے سے متعدد عدالتی فیصلے موجود ہیں جن میں سپیکر کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ عدالتی فیصلوں کے ذریعے طے ہونے والے اس اصول کے خلاف عدالتی نظائر ڈھونڈنا جوئے شیر لانے سے کم مشکل کام نہیں ہو گا۔ علاوہ ازیں سپیکر کی رولنگ کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 69 کے تحفظ کی دلیل بھی زیادہ جاندار نہیں ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت پارلیمینٹ کی کسی کارروائی کے دوران ضابطہ کار کی کوئی بے قاعدگی عدالتی جائزہ سے مستثنیٰ ہے۔ پارلیمینٹ کے پاس کردہ قوانین اور دیگر حتمی اقدامات کا نہ صرف عدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے بلکہ آئین سے متصادم ہونے کی صورت میں انہیں کالعدم بھی کیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کی بنیاد پر سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) اسمبلی کا منظور کردہ ”حسبہ بل“ ہی غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔ آئین کے آرٹیکل 63 (1) جی میں واضح کر دیا گیا ہے کہ عدلیہ کی تضحیک پر سزا یافتہ کوئی شخص 5 سال کے لئے پارلیمینٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔ وزیراعظم کو توہین عدالت کے کیس میں سزا ہو چکی ہے جس میں فاضل بینچ نے انہیں عدلیہ کی تذلیل اور تضحیک کا مرتکب بھی قرار دیا تھا۔ ایسی صورت میں عدالت عظمیٰ کو نااہلی کے اس آرٹیکل اور توہین عدالت کیس کے فیصلے کی تشریح سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ عدالت آرٹیکل 63 (1) جی اور توہین عدالت کیس کے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم کو نااہل قرار دے سکتی ہے۔ عدالت اس آبزرویشن کی روشنی میں چیف الیکشن کمشنر کو ریفرنس بھیجنے کے علاوہ الیکشن کمشنر کو وزیراعظم کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم بھی دینے کی مجاز ہے۔ چودھری اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں چیف الیکشن کمشنر کے حلف کی عبارت کو بھی شامل کیا اور کہا کہ آئین کا تحفظ اور دفاع کرنے کے الفاظ چیف الیکشن کمشنر کے حلف میں شامل نہیں ہیں۔ کیا اعتزاز احسن یہ کہنا چاہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر ارکان اسمبلی کی نااہلی کے آرٹیکل 63 (1) جی کے تحفظ کا اختیار نہیں رکھتے۔ اس لئے وہ اس آرٹیکل کے تحت وزیراعظم کے خلاف سپیکر کے ریفرنس کے بغیر کارروائی نہیں کر سکتے۔ اعتزاز احسن معاملے کو الجھانے اور طول دینے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ ایک ماہر قانون دان کی حیثیت سے یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر آرٹیکل 214 کے تحت حلف اٹھاتے وقت دستور اور قانون کے تحت اپنے فرائض انجام دینے کا عہد کرتے ہیں۔ وہ خود اپنے دلائل سے عدالت کو کئی آئینی گتھیاں سلجھانے کا موقع فراہم کر رہے ہیں جس کے بعد کی تصویر چودھری اعتزاز احسن اور اٹارنی جنرل دونوں پرو اضح ہے۔ وہ آئین اور قانون کی منشاءکو بہتر جانتے ہیں، لیکن اس منشاءکو اپنی خواہشات کا لبادہ پہنانا چاہتے ہیں۔ عرفان قادر تو ماضی میں اس حد تک بھی جا چکے ہیں کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں اپنے خلاف ایک مقدمہ میں یہ نکتہ اٹھانے کی کوشش کی تھی کہ ججوں کی بحالی کے نوٹیفکیشن کی پارلیمینٹ سے توثیق ہونا باقی ہے۔ ان کا عدالت میں رویہ اس بات کا غماز ہے کہ ان سے اب بھی کچھ بعید نہیں ہے۔

مزید : تجزیہ


loading...