پیپلز پارٹی کا وزیراعظم ’قیادت‘ پر’قربان‘ہوگیا، نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری

پیپلز پارٹی کا وزیراعظم ’قیادت‘ پر’قربان‘ہوگیا، نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری
پیپلز پارٹی کا وزیراعظم ’قیادت‘ پر’قربان‘ہوگیا، نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری

  


اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) صدر ِ مملکت کے بارے میں سوئس حکام کو خط لکھنے سے انکار کی بنیاد پر توہیںِ عدالت کے جرم میں سزا پانے والے وزیراعظم یو سف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے نااہل قراردے دیا ہے۔ عدالت کے اِس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی اُن کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔عدالتی فیصلے کی روشنی میں وہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے بھی نااہل ہونے کے ساتھ ساتھ وزارت عظمیٰ کے منصب سے بھی از خود ناہل ہو گئے ہیں اوراِس طرح اُن کی قومی اسمبلی کی نشست خالی ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے پر سپیکر کی اُس رولنگ کیخلاف درخواستیں نمٹاتے ہوئے صادر کیا ہے جن میں وزیراعظم کی نا اہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنے سے انکار کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے سزا تو سنائی ہے لیکن نا اہل قرارا نہیں دیا۔عدالت نے سپیکر کی رولنگ کالعدم قرارد دیتے ہوئے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مخدوم یوسف رضاگیلانی کو نااہل قرار دیا ۔ سیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے علاوہ بنچ کے دیگر ارکان میں مسٹر جسٹس جواد ایس خواجہ اور مسٹرجسٹس خلجی عارف حسین شامل تھے۔ واضح رہے کہ عدالت نے ابھی مختصر فیصلہ سنایا ہے جبکہ تفصیلی فیصلہ وجوہات کے ساتھ بعد میں جاری کیا جائے گا ۔ فیصلے کے وقت وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن اور اٹارنی جنرل عرفان قادر عدالت میں موجود نہیں تھے۔مختصر فیصلے کے مطابق وزیراعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت کیس میں سات رکنی بنچ نے چھبیس اپریل دو ہزار بارہ کو جو فیصلہ سنایا تھا وہ برقرار ہے جس میں وزیراعظم کو آرٹیکل تریسٹھ (جی) کے تحت تابرخاست سزا سنائی گئی تھی جو تیس سیکنڈ پر محیط تھی اور جس کے بعد وزیراعظم چھبیس اپریل کو ہی کسی بھی عوامی عہدے کیلئے پانچ سال تک نااہل ہو گئے تھے۔ اِس طرح چھبیس اپریل سے ہی وزیراعظم نہ ہونے پر یوسف رضا گیلانی سے طویل ترین مدت تک وزیر اعظم رہنے کا اعزاز بھی چھن گیا ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر اُن کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرے جبکہ صدر مملکت ملک میں جمہوریت کا تسلسل برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کریں اور قومی اسمبلی سے کہیں کہ وہ نیا وزیراعظم منتخب کرے۔عدالت نے سپیکر قومی اسمبلی کو اِس فیصلے کے خلاف تیس دن تک اپیل کرنے کی مہلت بھی دی ہے۔ چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواستیں قابل سماعت تھیں، ان درخواستوں کو نمٹا دیا گیا ہے اور وجوہات بعد میں بتائی جائیں گی۔اِس سے پہلے صبح کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ سپیکر قومی اسمبلی عدالت کا اختیار نہیں رکھتیں اور سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف ا یپلٹ کورٹ ہی ختم کر سکتی تھی ۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ تمام حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے یہ فیصلہ تسلیم کیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے اِس فیصلے کو سراہتے ہوئے جشن منایا اور خوشی میں ہوائی فائرنگ بھی کی جبکہ پیپلز پارٹی کے اراکین افسردہ رہنے کے ساتھ ساتھ نااہل ہونے ہوالے وزیراعظم کے حق میں نعرہ بازی کی ۔

مزید : اسلام آباد /Breaking News


loading...