لا پتہ افراد کی بازیابی میں خا ص پیش رفت نہیں ہوسکی :بلو چستا ن حکو مت

لا پتہ افراد کی بازیابی میں خا ص پیش رفت نہیں ہوسکی :بلو چستا ن حکو مت
لا پتہ افراد کی بازیابی میں خا ص پیش رفت نہیں ہوسکی :بلو چستا ن حکو مت

  



اسلام آ باد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے کوئی اچھا پیغام نہیں دیا جا رہا، سماعت کےلیے رات تک بھی بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو بلوچستان میں بدامنی اور لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ نے بتایا کہ اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی البتہ وفاقی حکومت نے لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی ہے۔انکا کہنا تھا کہ دو ماہ میں نو افراد کو با ز یا ب کر وایا ہے اور باقی تمام افرادکی بازیابی کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں۔ایک سوال پر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کا کہنا تھا کہ آ ئی جی ایف سی عدالت کے بلا نے پرنہیں آ ئے،ہم کیا کر سکتے ہیں ۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جن لا پتہ افراد کے ایف سی کے پا س ہو نے کے شواہد ملے ہیں انُکا کیا کریں ؟تو جوا ب میں ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آ ئی جی پولیس کوچھا ﺅنی میں جا نے کی اجا ز ت نہیں ہیں ،جس پرجسٹس خلجی عار ف حسین کا کہنا تھا کہ کیا آ پ یہ با ت ہمیں لکھ کر دے سکتے ہیں ؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سو چھیالیس لاپتہ افراد کی فہرست تیارکی گئی ہے جس پرپیش رفت ہونی چاہیے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ نئے آئی جی اور سی سی پی او آگئے ہیں، امید ہے حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا اس کیس میں رات گئے تک بھی سماعت کرسکتے ہیں۔ اگلے ہفتے کیس کی سماعت کوئٹہ میں کریں گے۔ انہوں نے کہا کل بھی ایک بس میں چار بچے جاں بحق ہوگئے۔ بڑی افسوس ناک بات ہے حکومت کیا کر رہی ہے۔

مزید : کوئٹہ