ترکی میں مظاہروں کے اسباب و وجوہات

ترکی میں مظاہروں کے اسباب و وجوہات
ترکی میں مظاہروں کے اسباب و وجوہات

  

ترکی میں 31مئی کو استنبول کے گنیری پارک (تفریحی پارک) کے معاملے پر شروع ہونے والے مظاہرے تاحال جاری ہیں۔گنیری پارک(تفریحی پارک) کی جگہ عثمانی فوجی بیرکوں کے اسٹائل میں شاپنگ مال کی تعمیر کے حکومتی منصوبے کے خلاف یہ مظاہرے ترکی کے مختلف شہروں میں جڑ پکڑ چکے ہیں۔بظاہر ان مظاہروں کا سبب تفریحی پارک کو ختم کرنا، تاریخی درختوں کی کٹائی اور گرین بیلٹ کا خاتمہ نظر آتا ہے، لیکن ان مظاہروں کے دیگر اسباب اور وجوہات بھی بتائی جارہی ہیں....ترکی کے وزیراعظم رجب طیب ایردوان کے مطابق ان مظاہروں کے پیچھے 3وجوہات ہو سکتی ہیں۔

1۔ترک حکومت کرد علیحدگی پسندوں سے ملک میں امن وامان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کررہی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ ان مذاکرات اور کوششوں کے نتائج کے بعد کرد ترکی میں ایک علیحدہ وطن کردستان سے دستبردار ہو جائیں گے۔اس سے ملک میں دہشت گردی، بم دھماکے اور امن و امان کا مسئلہ بہتر طور پر حل ہو جائے گا۔حکومت اور کردوں کے درمیان بہتر تعلقات کے لئے کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے یہ مظاہرے شروع کئے گئے ہیں، تاکہ ترکی میں امن کوششوں کو ناکام بنایا جائے،اس لئے شبہ کیا جارہا ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے ایسی طاقتیں اور خفیہ ہاتھ ہیں جو نہیں چاہتے کہ ترکی میں امن ہو اور کردوں کا مسئلہ حل ہو،اس لئے انہوں نے یہ فساد کھڑا کیا ہے ،اسی وجہ سے یہ مظاہرے کئے جارہے ہیں۔

دوسری وجہ ترک وزیراعظم کے مطابق ان مظاہروں کے پیچھے وہ خفیہ لوگ ہیں ،جو سود کا کاروبار کرتے ہیں اور جن کے تمام کام کادارومدار اسی سود پر ہے۔موجودہ حکومت نے گزشتہ دس سال سے سود کی شرح میں بتدریج کمی کی ہے،جس سے سودی لابی کا خاصا نقصان ہوا ہے اور وہ حکومت سے سخت ناراض ہیں،اس لئے انہوں نے اپنا بدلہ لینے اور حکومت کو ہٹانے، نیز سیکولر اور فوجی نظام کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے یہ مظاہرے شروع کروائے۔ترکی میں سود کی شرح اس وقت 5فیصد ہے،جو سودی لابی کو منظور نہیں، لہٰذا انہوں نے مظاہروں کو ہوا دی ہے اور اس کی حمایت کررہے ہیں۔تیسری وجہ ان مظاہروں کی ترک برسراقتدار پارٹی کے مطابق وہ قوتیں ہیں، جو ترکی کو بین الاقوامی طاقت اور سپر ملک بنتا نہیں دیکھنا چاہتیں، لہٰذا وہ ترکی میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کرکے ترکی کو کمزور اور عام ملک کے طور پر دیکھنا چاہتی ہیں، ایسی خفیہ قوتیں ہی ان مظاہروں کے پیچھے ہیں۔

ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق شروع شروع میں یہ مظاہرے پُرامن تھے، لیکن مظاہرین پر پولیس کے بہیمانہ تشدد، آنسو گیس ،گولیوں اور بے دریغ طاقت کا استعمال ہی وہ اسباب تھے،جنہوں نے ان پُرامن مظاہرین کو پُرتشدد مظاہروں پر مجبور کیا ،جس سے وہ بپھر گئے۔کچھ ذرائع کے مطابق ان مظاہروں کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ بھی ہو سکتا ہے۔خاص طور پر یورپ اور مغرب میں ان مظاہروں کے حق میں بہت حوصلہ افزاءبیان آئے اور عالمی میڈیا نے ترکی میں مظاہروں کو خاص کوریج دی ہے۔ امریکہ،جرمنی ، یونان، اسرائیل ، ایران اور شام میں ان مظاہروں کے بارے میں خاصی دلچسپی دکھائی گئی اور ترک حکومت پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔خاص طور پر مغربی میڈیا وزیراعظم ایردوان کو ہدف تنقید بنا رہا ہے اور پیش گوئی کررہا ہے کہ ایردوان کا دور حکومت ختم ہونے والا ہے ۔اس کے علاوہ ترکی کے موجودہ اسلام پسند دائیں بازو کی برسراقتدار حکومت اور پارٹی کو اپنے ہی ملک میں شدید تنقید کا سامنا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایردوان حکومت ترکی کا سیکولر تشخص ختم کررہی ہے۔ مغرب اور یورپ سے ترکی کو دور لے جارہی ہے اور جابرانہ طرزِ حکومت لاگو کیا جارہا ہے۔نوجوان جو جدید اور سیکولر سوچ کے حامل ہیں، وہ بھی حکومت کے خلاف ہیں اور مخالف سیاسی جماعتیں توہیں ہی سیکولر اور کمال اتاترک کے ورثے کی علمبردار جو سیکولر خیالات پر مبنی ہے۔

ان مظاہروں کی ایک اور اہم وجہ 2014ءمیں مارچ کے مہینے میں ترکی میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہے۔ترکی میں بلدیاتی نظام بہت مضبوط ہے اور حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس کے علاوہ صدارتی انتخابات بھی 2014ءمیں ہونے والے ہیں ، اس مرتبہ صدر براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوگا۔پھر ملک میں عام انتخابات بھی تقریباً ڈیڑھ سال بعد ہونے والے ہیں، لہٰذا ایک شبہ یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے وہ طاقتیں بھی ہیں جو ان انتخابات میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرکے پاپولیرٹی اور مقبولیت حاصل کرنا چاہتی ہیں، تاکہ انتخابات میں بہتر نتائج لئے جا سکیں اور برسراقتدار پارٹی کو جلد انتخابات پر مجبور اور ان کو بدنام کرکے ان کا اچھی شہرت کا گراف نیچے گرایا جا سکے۔

چند روز قبل ترکی میں صدر عبداللہ گل نے حکومت کی طرف سے پیش کئے گئے ایک بل پر دستخط کردیئے ہیں، جس کے مطابق ترکی میں یہ قانون منظور ہوگیا ہے کہ سکولوں اور مساجد کے 100میٹر کی حدود کے اندر اندر شراب فروخت نہیں کی جا سکتی اور نہ شراب خانہ بنایا جاسکتا ہے ،جبکہ رات 10بجے کے بعد شراب کی فروخت ممنوع ہوگی۔اس قانون سے ماڈرن لوگ اور نوجوان سیکولر، نیز الکوحل اور شراب کے کاروبار سے منسلک لوگ بہت پریشان ہیں اور حکومت کے اس اقدام کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں، ایسے لوگ بھی مظاہروں میں برابر کے شریک ہیں۔ان مظاہروں کی وجہ کچھ بھی ہو، ان مظاہروں کی وجہ سے ترکی کی معیشت، سیاحت اور بیرونی سرمایہ کاری کو خاصا نقصان ہورہا ہے۔اب تک 50ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے اور 75ملین آبادی اور 780000کلومیٹر رقبے پر پھیلے ملک ترکی کا قومی اور بین الاقوامی تشخص مجروح ہورہا ہے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور مظاہرین کو جلد از جلد مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کرنا چاہیے اور فوری طور پر یہ مظاہرے رکنے چاہئیں۔       ٭

مزید :

کالم -