ڈبے میں بند سرخ گوشت کو نمک اور دیگر کیمیائی اجزا لگا کر محفوظ کیا جاتا ہے

ڈبے میں بند سرخ گوشت کو نمک اور دیگر کیمیائی اجزا لگا کر محفوظ کیا جاتا ہے

  

لندن(بیورورپورٹ)تحقیق دانوں نے کہا ہے کہ ڈبے میں بند سرخ گوشت کو نمک، نائیٹریٹس اور دیگر کیمیائی اجزا لگا کر محفوظ کیا جاتا ہے تا کہ گوشت کی میعاد کو بڑھایا جا سکے تاہم یہ گوشت انسانی صحت کے لیے مضر ہے تحقیق دانوں کے مطابق ایسے افراد جن کی روزمرہ خوراک کا ایک لازمی جزو سرخ گوشت اور اس سے بنی مصنوعات ہیں، اس عادت سے نقصان اٹھا سکتے ہیں یہ نتیجہ ہے ایک نئی سائنسی تحقیق کا جس میں سویڈن کے 37 ہزار مردوں سے حاصل کردہ ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا 45 سے 79 عمر کے ان مردوں میں سے بیشتر کے خاندانوں میں پہلے سے دل کے امراض یا کینسر کی ہسٹری نہیں موجود تھی یہ تحقیق دراصل ڈبوں میں بند سرخ گوشت کے استعمال پر کی گئی تھی جسے خاص کیمیکلز لگا کر فریز کیا جاتا ہے ڈبے میں بند سرخ گوشت کو نمک، نائیٹریٹس اور دیگر کیمیائی اجزا لگا کر محفوظ کیا جاتا ہے تا کہ گوشت کی معیاد کو بڑھایا جا سکے تحقیق میں شامل مردوں کو 12 برس قبل ایک سوالنامہ دیا گیا جس میں ان مردوں سے ان کی روزمرہ کھانے پینے کی عادات سے متعلق سوالات شامل تھے تحقیق دانوں نے یہ نوٹ کیا کہ جن مردوں نے گذشتہ 12 برسوں کے دوران پروسیسڈ گوشت یا ڈبوں میں بند گوشت کو اپنی خوراک کا حصہ بنائے رکھا ان میں دل کے عارضے لاحق ہونے کی شرح دوسرے مردوں کی نسبت کہیں زیادہ رہی 266 مرد دل کے عارضے کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے جو مرد سرخ گوشت زیادہ کھاتے تھے، ان میں دل کے عارضے کے ہاتھوں ہلاک ہونے کی شرح دوسرے مردوں کی نسبت دو گنا زیادہ پائی گئی ایسے مرد جو روزمرہ زندگی میں فریز شدہ گوشت نہیں کھاتے تھے، اس اثر سے محفوظ تھے۔

تحقیق دانوں کا خیال ہے کہ اب خواتین کے اوپر کی جانے والی ایک ایسی ہی تحقیق کے نتائج مردوں والی تحقیق سے زیادہ مختلف نہیں ہوں گے ڈاکٹرز اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اپنی خوراک میں سے فریز شدہ اور ڈبے میں بند گوشت کے استعمال کو کم سے کم کر دینا چاہیے اور ہفتے میں دو مرتبہ سے زیادہ گوشت کو اپنی خوراک کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔

مزید :

عالمی منظر -