زندگی بخش شعبہ

زندگی بخش شعبہ
زندگی بخش شعبہ
کیپشن: dr hamid al islam

  

بدقسمتی سے 66سال کے بعد بھی ہماری عوام بہت سی دوسری سہولیات کی عدم دستیابی کے علا وہ صحت کی بنیادی سہو لیات سے بھی محر وم ہے۔ہیلتھ سیکٹر میں پا کستان کو بہت سے مسا ئل در پیش ہیں اور کیو ں نہ ہوں۔ پاکستان ا پنی جی ڈی پی کاصرف 2% اپنے ہیلتھ کے شعبہ میں صرَف کر تا ہے۔پاکستان میںInfant Mortality کی شرح بہت زیادہ ہے۔

پا کستان کا 59Death/1000 Life Birthجبکہ بنگلہ دیش کا47،امر یکہ اور سری لنکا میں9جا پان میں 2تک ہے بہت سارے ایسے پھول جوَ کھلنے سے پہلے ہی مُر جھا جا تے ہیں۔شاید وہ بھی اس دنیا میں آتے تو صرف ایک دن اپنے ملک کے حا لات کے با رے میں سوچ کر پر یشان ہی ہو تے پا کستان کے 73%عوام سطح غر بت سے نیچے زند گی بسر کر نے پر مجبور ہیں۔30% بچے5سال سے چھو ٹی عمر میں اچھی غذا کے فقدان کی وجہ سےMalnourished رہتے ہیں اور قو تِ مدافعت کم ہونے کی وجہ سے جا ن لیوا بیما ریوں کا شکا ر رہتے ہیں۔ پا کستان میںs Qualified DoctorاورNurses کی شدید حد تک کمی ہے۔ اگر مجموعی آبا دی کو دیکھا جائے تو ہسپتال بھی نا کا فی ہیں۔ جبکہ اچھے ہسپتال صر ف بڑے شہر وں میں مو جو د ہیں حا لا نکہ ہماری آبا دی کا دو تہا ئی حصہ دیہات میں رہتاہے۔ ایک اندازے کی مطا بق 50% آبادی کو صحت کی بنیا دی سہو لتیں میسر نہیں ہیں۔ ڈاکٹروں کی مر یضوں کے لئے مطلوبہ تعداد نہایت کم ہونے کی وجہ سے ایک ڈاکٹر 1400لوگوں کے علاج کی ذمہ داری کندھوں پرا ٹھا ئے ہو ئے ہیں۔ جبکہ تر قی یا فتہ ممالک میں تقر یباََ 390 لو گوں کے لئے ایک ڈاکٹر Available ہو تا ہے۔

پا کستان میں رجسٹرڈ ڈینٹل ڈاکٹرزکی تعداد 13000سے بھی کم ہے۔ ہسپتالو ں کی کمی کی وجہ سے مر یضوں کی تعداد کے مقابلہ میں بیڈ زکی تعداد بہت کم ہیں۔ یہاں1000 لوگوں کے لئے1 جبکہ سری لنکا میں 1000 لوگوں کے لئے چار بستر میسر ہو تے ہیں۔ ہیلتھ کے شعبہ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے اِن چیزوں پر روشنی ڈا لنے کو دل چا ہتا ہے، تاکہ ہما رے حکامِ بالا کی توجہ ان گھمبیر مسائل پر مر کو ز ہو۔ یہ بات میں ذہین نشین کرا نا چاہتا ہوں کہ جس طرح پاکستان میں پڑ ھی لکھی کمیو نٹی کے سا تھ جبکہ خا ص طور پر ڈاکٹرحضرات کے سا تھ جو سلوک ہو رہا ہے اُس سے دل دُکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ پا کستان کے قابلِ دماغ اور محنتی ڈاکٹر بیرونِ ملک جا رہے ہیں اور ہما رے لوگ بیچارے ڈ اکٹروں سے محروم ہی رہ رہے ہیں۔

پا کستان کا ہیلتھ کا شعبہ جو پہلے ہی بے سا کھیوں پر چل رہا ہے۔ اِ س کی بہتری کے اقدا مات کر نے کی اشد ضرورت ہے۔ میری ہیلتھ سے وا بستہ لو گوں سے گزا رش ہے کہ ہم سب لوگ کل کا ماضی ہوں گے۔ اِس لئے ہمیں اپنی نسلوں کے مستقبل کے با رے میں سنجیدگی سے سو چنا ہو گاورنہ ایک دن ہیلتھ کے حا لات مز ید دگر گوں ہو جا ئیں گے۔میری دُعا ہے کہ اﷲتعالیٰ! زند گیاں عطا کر نے والے شعبہ ہیلتھ کو اوراِس سے وابستہ لوگوں کو نہایت محنت، جا نفشا نی اور ایمانداری سے ہر سطع پر لو گو ں کے لئے مفید اور آسان بنائے۔ آمین!

مزید :

کالم -