خونیں ڈرامے کا سکرپٹ کس نے لکھا؟

خونیں ڈرامے کا سکرپٹ کس نے لکھا؟
خونیں ڈرامے کا سکرپٹ کس نے لکھا؟
کیپشن: naseem shahid

  

سانحہ¿ لاہور کی تمام تفصیلات سامنے آ چکی ہیں مگر مجھے ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ یہ سارا خونی ڈرامہ آخر کس کے حکم سے سٹیج کیا گیا۔ کس نے اور کیوں یہ فیصلہ کیا کہ برسوں سے موجود بیریئر ڈاکٹر طاہر القادری کے گھر اور منہاج القرآن کو جانے والے راستوں سے ہٹانے ہیں اگر اس سلسلے میں مزاحمت ہوئی تو ریاستی طاقت کا استعمال کرنا ہے، اور ضرورت پڑی تو بے دریغ گولیاں بھی برسانی ہیں۔ مجھے تو اس شہ دماغ کی تلاش ہے جس نے نجانے کس مقصد اور حکمت عملی کے تحت یہ سب کچھ پلان کیا تھا۔ شاید اُس نے وقتی طور پر اپنے متعینہ مقاصد حاصل کر بھی لئے ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس نے شریف برادران کے ماتھے پر ایک ایسا بدنما داغ رقم کر دیا ہے جو اب مشکل ہی سے مٹ سکے گا۔ حکمرانوں کے سافٹ چہرے کو بد ترین، ظالمانہ چہرے میں تبدیل کرنے والے اس واقعہ نے سیاسی طور پر بھی مسلم لیگ ن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف مکمل طور پر اس واقعہ سے لاعلمی اور بریت کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تجاوزات کا ہٹانا وزیر اعلیٰ کا کام نہیں۔ یہ سب کچھ متعلقہ محکموں نے اپنے طور پر کیا۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ واقعہ کا سن کر اُن کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ وہ اس میں ملوث ذمہ دار افراد کو نہیں چھوڑیں گے۔ چلو جی یہ مان لیتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اس آپریشن سے بے خبر تھے۔ باوجود اس حقیقت کے ہم اُن کی بات پر یقین کرتے ہیں کہ پنجاب میں پتہ بھی اُن کے حکم کے بغیر نہیں ہلتا۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی بات کا ٹی وی چینلز دیکھ کر نوٹس لے لیتے ہیں۔ جبکہ یہ سلسلہ تو کئی گھنٹوں تک ٹی وی پر لائیو دکھایا جاتا رہا، پنجاب کی دوسری اہم شخصیت رانا ثناءاللہ ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ جس وقت وزیر اعلیٰ پریس کانفرنس کر رہے تھے، رانا ثناءاللہ اُن کے ساتھ بیٹھے تھے۔ لیکن اُنہوں نے اس وقت وزیر اعلیٰ کو یہ نہیں بتایا کہ لاہور سے نو گو ایریاز ختم کرنے کے لئے یہ آپریشن کیا گیا، جبکہ سارا دن ٹی وی چینلز پر ان کا یہ بیان انہی کی زبانی سنایا جاتا رہا۔ بعد ازاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ منہاج القرآن میں ناجائز اسلحہ اور بعض مشکوک لوگوں کی موجودگی پر آپریشن کیا گیا۔ یعنی بات تجاوزات سے نکل کر کسی اور طرف جاتی رہی جو بات کنفیوژن کا باعث بنتی ہے، وہ یہی ہے کہ وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون کے بیانات نہیں ملتے۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ رانا ثناءاللہ نے وزیر اعلیٰ کو اس اہم ترین آپریشن کے بارے میں آگاہ تک کرنا گوارا نہیں کیا؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ میرا جواب نفی میں ہے۔

چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ حکومتی شخصیات کا اس سارے معاملے میں کوئی کردار نہیں اور اسے معمول کی کارروائی کے طور پر اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاﺅن اور ایس پی ماڈل ٹاﺅن نے تجاوزات ختم کرنے کے لئے شروع کیا۔ کیا یہ دونوں معمولی افسر اس قدر با اختیار تھے کہ ایسا ایکشن کر سکتے۔ کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور ادارہ منہاج القرآن کی کیا اہمیت ہے؟ کیا یہ دونوں افسران مریخ سے آئے تھے کہ انہیں موجودہ سیاسی کشیدگی کا بھی علم نہیں تھا۔ اگر یہ دونوں افسر واقعی دولے شاہ کے چوہوں جیسا دماغ رکھتے تھے اور اس بات سے بے خبر تھے کہ جو کچھ وہ کرنے جا رہے ہیں، اُس کے کیا نتائج نکلیں گے تو آٹھ افراد کے قتل کا مقدمہ ان دونوں پر درج ہونا چاہئے۔ آئی جی پنجاب کی طرف سے بھی کہا جا رہا ہے کہ انہیں اس واقعہ کا علم نہیں تھا۔ا گر آئی جی کو لاہور میں اتنے بڑے واقعہ کا بھی علم نہیں ہوتا یا ان سے اس کی اجازت نہیں لی جاتی تو پنجاب کے دور دراز علاقوں میں پولیس کیا گل کھلاتی ہو گی اور آئی جی سی پی او آفس میں بیٹھے بے خبری کے مزے لوٹتے ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ لاہور کا واقعہ اس قدر سنگین ہے کہ اس کی کوئی بھی تاویل پیش ہی نہیں کی جا سکتی اس لئے ہر ذمہ دار شخص اپنی جان بچانے کے در پے ہے۔ اس سانحے میں پولیس گردی کی جو بدترین صورت نظر آئی، اُسے شاید اب دنیا بھر میں ظلم کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا رہے گا۔

مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے۔ ایوب خان کے خلاف تحریک جاری تھی۔ طالب علموں کا ایک جلوس کچہری روڈ ملتان سے گزر رہا تھا۔ پولیس نے روکنا چاہا تو تصادم ہو گیا، پولیس نے پہلے تو آنسو گیس پھینکی، جب مظاہرین قابو نہ آئے تو ہوائی فائرنگ کی اس دوران ایک پولیس والے نے سیدھا فائر کیا اور گولی جودت کامران کو لگی، یہ نوجوان طالب علم منہ اور سینے میں گولیاں لگنے کی وجہ سے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ یہ واحد ہلاکت تھی جو ایوب خان کے زمانے میں پولیس فائرنگ سے ہوئی، اس واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور چند روز بعد ایوب خان استعفیٰ دے کر گھر چلا گیا۔ اس زمانے میں بھٹو نے کئی بار جودت کامران کو شہید جمہوریت قرار دیا۔ اُس کے بعد سے لاہور واقعہ تک مجھے نہیں یاد پڑتا کہ پولیس نے ایسی بربریت کا مظاہرہ کیا ہو کہ شہریوں پر براہ راست گولیاں برسائی ہوں۔ ایوب خان کے زمانے میں تو سوائے اخبارات کے معلومات کا اور کوئی آزاد ذریعہ بھی نہیں تھا، مگر اس کے باوجود جودت کامران کی موت نے آگ لگا دی، اب تو براہ راست مناظر دکھائے جاتے ہیں اور کروڑوں پاکستانیوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پولیس کیا کچھ کرتی رہی ہے۔

مجھے اعلیٰ پولیس افسران کی سفاکی پر حیرت ہو رہی ہے جو ہر قیمت پر پولیس ایکشن کا دفاع کرنے پر تلے ہوئے ہیں، وہ آخر کس کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پولیس والے عورتوں پر کیوں ”حملہ آور“ ہوتے رہے، زخمیوں کو ظالمانہ طریقے سے گھسیٹتے رہے۔ یہ کون سی پولیسنگ ہے اور اس کے پیچھے کون سی اخلاقیات کار فرما ہے۔ سوشل میڈیا پر تو ایک ایسی تصویر بھی گردش کر رہی ہے اور وہ اخبارات میں شائع ہو چکی ہے، جس میں ریسکیو اہلکاروں نے ایک زخمی نوجوان کو کاندھوں پر اُٹھا رکھا ہے، پولیس والے اسے بھی ڈنڈوں سے پیٹ رہے ہیں میں سمجھتا ہوں لاہور کے اس واقعہ نے پنجاب پولیس کے چہرے کو مزید بد نما بنا دیا ہے۔ اب وہ اس پر فخر کرنا چاہتے ہیں تو اُن کی مرضی ہے وگرنہ یہ اُن کے لئے شرمناک صورتِ حال ہے، جس نے اُن کی پیشہ ورانہ مہارت، تربیت، نظم و ضبط اور انسان دوستی کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔ پولیس ایکشن کے مناظر دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ سب بے لگام گھوڑے تھے، جو اپنی مرضی کے مطابق مختلف سمتوں میں دوڑے جا رہے تھے۔ کوئی زخمی ہاتھ آ جاتا چاہے وہ مرد تھا یا عورت اس پر اس طرح پل پڑتے جیسے سیاسی کارکن تقریبات میں کھانوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

جیسا کہ میں پہلے کہہ آیا ہوں، یہ عقدہ ابھی حل ہونا ہے کہ یہ سانحہ کیوں رونما ہوا، اس کے مقاصد کیا تھے، یہ کس کا منصوبہ تھا، وجوہات سیاسی تھیں یا انتظامی، اس کا تعلق شمالی وزیرستان آپریشن سے ہے یا نہیں، اس کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے، کیا یہ آٹھ لاشیں حکومت کے لئے ڈراﺅنا خواب بن جائیں گی؟ کیا منہاج القرآن میں بہنے والا یہ لہو ڈاکٹر طاہر القادری کو قائد انقلاب بننے میں مدد دے گا؟ کیا ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا؟ یہ سب سوالات ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں، اور فی الوقت اُن کا جواب ملنا مشکل ہے۔ البتہ یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ موجودہ حکومت سیاسی بصیرت سے محروم ہے۔ جن چیزوں کو سیاسی مصلحت کے تحت نظر انداز کرنا چاہئے۔ انہیں چن چن کر سامنے لایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کو آٹھ سیاسی کارکنوں کی شہادت کا تحفہ دے کر حکومت خود کو بند گلی میں لے گئی ہے جس طرح لال مسجد کا آپریشن پرویز مشرف کا اب تک پیچھا کر رہا ہے اُسی طرح ماڈل ٹاﺅن کا یہ سانحہ بھی شریف برادران کے کردار کو گہناتا رہے گا جس صبح بے نور کے خلاف وزیر اعلیٰ شہباز شریف حبیب جالب کی نظمیں پڑھتے رہے ہیں، وہ اَب خود اُن کے نام سے جڑ گئی ہے۔ اب طویل عرصے تک پاکستانی سیاست پولیس فائرنگ کا نشانہ بننے والوں کی لاشوں کا طواف کرتی رہے گی۔

خونیں ڈرامے کا سکرپٹ کس نے لکھا؟

سانحہ¿ لاہور کی تمام تفصیلات سامنے آ چکی ہیں مگر مجھے ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ یہ سارا خونی ڈرامہ آخر کس کے حکم سے سٹیج کیا گیا۔ کس نے اور کیوں یہ فیصلہ کیا کہ برسوں سے موجود بیریئر ڈاکٹر طاہر القادری کے گھر اور منہاج القرآن کو جانے والے راستوں سے ہٹانے ہیں اگر اس سلسلے میں مزاحمت ہوئی تو ریاستی طاقت کا استعمال کرنا ہے، اور ضرورت پڑی تو بے دریغ گولیاں بھی برسانی ہیں۔ مجھے تو اس شہ دماغ کی تلاش ہے جس نے نجانے کس مقصد اور حکمت عملی کے تحت یہ سب کچھ پلان کیا تھا۔ شاید اُس نے وقتی طور پر اپنے متعینہ مقاصد حاصل کر بھی لئے ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس نے شریف برادران کے ماتھے پر ایک ایسا بدنما داغ رقم کر دیا ہے جو اب مشکل ہی سے مٹ سکے گا۔ حکمرانوں کے سافٹ چہرے کو بد ترین، ظالمانہ چہرے میں تبدیل کرنے والے اس واقعہ نے سیاسی طور پر بھی مسلم لیگ ن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف مکمل طور پر اس واقعہ سے لاعلمی اور بریت کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تجاوزات کا ہٹانا وزیر اعلیٰ کا کام نہیں۔ یہ سب کچھ متعلقہ محکموں نے اپنے طور پر کیا۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ واقعہ کا سن کر اُن کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ وہ اس میں ملوث ذمہ دار افراد کو نہیں چھوڑیں گے۔ چلو جی یہ مان لیتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اس آپریشن سے بے خبر تھے۔ باوجود اس حقیقت کے ہم اُن کی بات پر یقین کرتے ہیں کہ پنجاب میں پتہ بھی اُن کے حکم کے بغیر نہیں ہلتا۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی بات کا ٹی وی چینلز دیکھ کر نوٹس لے لیتے ہیں۔ جبکہ یہ سلسلہ تو کئی گھنٹوں تک ٹی وی پر لائیو دکھایا جاتا رہا، پنجاب کی دوسری اہم شخصیت رانا ثناءاللہ ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ جس وقت وزیر اعلیٰ پریس کانفرنس کر رہے تھے، رانا ثناءاللہ اُن کے ساتھ بیٹھے تھے۔ لیکن اُنہوں نے اس وقت وزیر اعلیٰ کو یہ نہیں بتایا کہ لاہور سے نو گو ایریاز ختم کرنے کے لئے یہ آپریشن کیا گیا، جبکہ سارا دن ٹی وی چینلز پر ان کا یہ بیان انہی کی زبانی سنایا جاتا رہا۔ بعد ازاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ منہاج القرآن میں ناجائز اسلحہ اور بعض مشکوک لوگوں کی موجودگی پر آپریشن کیا گیا۔ یعنی بات تجاوزات سے نکل کر کسی اور طرف جاتی رہی جو بات کنفیوژن کا باعث بنتی ہے، وہ یہی ہے کہ وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون کے بیانات نہیں ملتے۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ رانا ثناءاللہ نے وزیر اعلیٰ کو اس اہم ترین آپریشن کے بارے میں آگاہ تک کرنا گوارا نہیں کیا؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ میرا جواب نفی میں ہے۔

چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ حکومتی شخصیات کا اس سارے معاملے میں کوئی کردار نہیں اور اسے معمول کی کارروائی کے طور پر اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاﺅن اور ایس پی ماڈل ٹاﺅن نے تجاوزات ختم کرنے کے لئے شروع کیا۔ کیا یہ دونوں معمولی افسر اس قدر با اختیار تھے کہ ایسا ایکشن کر سکتے۔ کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور ادارہ منہاج القرآن کی کیا اہمیت ہے؟ کیا یہ دونوں افسران مریخ سے آئے تھے کہ انہیں موجودہ سیاسی کشیدگی کا بھی علم نہیں تھا۔ اگر یہ دونوں افسر واقعی دولے شاہ کے چوہوں جیسا دماغ رکھتے تھے اور اس بات سے بے خبر تھے کہ جو کچھ وہ کرنے جا رہے ہیں، اُس کے کیا نتائج نکلیں گے تو آٹھ افراد کے قتل کا مقدمہ ان دونوں پر درج ہونا چاہئے۔ آئی جی پنجاب کی طرف سے بھی کہا جا رہا ہے کہ انہیں اس واقعہ کا علم نہیں تھا۔ا گر آئی جی کو لاہور میں اتنے بڑے واقعہ کا بھی علم نہیں ہوتا یا ان سے اس کی اجازت نہیں لی جاتی تو پنجاب کے دور دراز علاقوں میں پولیس کیا گل کھلاتی ہو گی اور آئی جی سی پی او آفس میں بیٹھے بے خبری کے مزے لوٹتے ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ لاہور کا واقعہ اس قدر سنگین ہے کہ اس کی کوئی بھی تاویل پیش ہی نہیں کی جا سکتی اس لئے ہر ذمہ دار شخص اپنی جان بچانے کے در پے ہے۔ اس سانحے میں پولیس گردی کی جو بدترین صورت نظر آئی، اُسے شاید اب دنیا بھر میں ظلم کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا رہے گا۔

مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے۔ ایوب خان کے خلاف تحریک جاری تھی۔ طالب علموں کا ایک جلوس کچہری روڈ ملتان سے گزر رہا تھا۔ پولیس نے روکنا چاہا تو تصادم ہو گیا، پولیس نے پہلے تو آنسو گیس پھینکی، جب مظاہرین قابو نہ آئے تو ہوائی فائرنگ کی اس دوران ایک پولیس والے نے سیدھا فائر کیا اور گولی جودت کامران کو لگی، یہ نوجوان طالب علم منہ اور سینے میں گولیاں لگنے کی وجہ سے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ یہ واحد ہلاکت تھی جو ایوب خان کے زمانے میں پولیس فائرنگ سے ہوئی، اس واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور چند روز بعد ایوب خان استعفیٰ دے کر گھر چلا گیا۔ اس زمانے میں بھٹو نے کئی بار جودت کامران کو شہید جمہوریت قرار دیا۔ اُس کے بعد سے لاہور واقعہ تک مجھے نہیں یاد پڑتا کہ پولیس نے ایسی بربریت کا مظاہرہ کیا ہو کہ شہریوں پر براہ راست گولیاں برسائی ہوں۔ ایوب خان کے زمانے میں تو سوائے اخبارات کے معلومات کا اور کوئی آزاد ذریعہ بھی نہیں تھا، مگر اس کے باوجود جودت کامران کی موت نے آگ لگا دی، اب تو براہ راست مناظر دکھائے جاتے ہیں اور کروڑوں پاکستانیوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پولیس کیا کچھ کرتی رہی ہے۔

مجھے اعلیٰ پولیس افسران کی سفاکی پر حیرت ہو رہی ہے جو ہر قیمت پر پولیس ایکشن کا دفاع کرنے پر تلے ہوئے ہیں، وہ آخر کس کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پولیس والے عورتوں پر کیوں ”حملہ آور“ ہوتے رہے، زخمیوں کو ظالمانہ طریقے سے گھسیٹتے رہے۔ یہ کون سی پولیسنگ ہے اور اس کے پیچھے کون سی اخلاقیات کار فرما ہے۔ سوشل میڈیا پر تو ایک ایسی تصویر بھی گردش کر رہی ہے اور وہ اخبارات میں شائع ہو چکی ہے، جس میں ریسکیو اہلکاروں نے ایک زخمی نوجوان کو کاندھوں پر اُٹھا رکھا ہے، پولیس والے اسے بھی ڈنڈوں سے پیٹ رہے ہیں میں سمجھتا ہوں لاہور کے اس واقعہ نے پنجاب پولیس کے چہرے کو مزید بد نما بنا دیا ہے۔ اب وہ اس پر فخر کرنا چاہتے ہیں تو اُن کی مرضی ہے وگرنہ یہ اُن کے لئے شرمناک صورتِ حال ہے، جس نے اُن کی پیشہ ورانہ مہارت، تربیت، نظم و ضبط اور انسان دوستی کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔ پولیس ایکشن کے مناظر دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ سب بے لگام گھوڑے تھے، جو اپنی مرضی کے مطابق مختلف سمتوں میں دوڑے جا رہے تھے۔ کوئی زخمی ہاتھ آ جاتا چاہے وہ مرد تھا یا عورت اس پر اس طرح پل پڑتے جیسے سیاسی کارکن تقریبات میں کھانوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

جیسا کہ میں پہلے کہہ آیا ہوں، یہ عقدہ ابھی حل ہونا ہے کہ یہ سانحہ کیوں رونما ہوا، اس کے مقاصد کیا تھے، یہ کس کا منصوبہ تھا، وجوہات سیاسی تھیں یا انتظامی، اس کا تعلق شمالی وزیرستان آپریشن سے ہے یا نہیں، اس کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے، کیا یہ آٹھ لاشیں حکومت کے لئے ڈراﺅنا خواب بن جائیں گی؟ کیا منہاج القرآن میں بہنے والا یہ لہو ڈاکٹر طاہر القادری کو قائد انقلاب بننے میں مدد دے گا؟ کیا ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا؟ یہ سب سوالات ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں، اور فی الوقت اُن کا جواب ملنا مشکل ہے۔ البتہ یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ موجودہ حکومت سیاسی بصیرت سے محروم ہے۔ جن چیزوں کو سیاسی مصلحت کے تحت نظر انداز کرنا چاہئے۔ انہیں چن چن کر سامنے لایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کو آٹھ سیاسی کارکنوں کی شہادت کا تحفہ دے کر حکومت خود کو بند گلی میں لے گئی ہے جس طرح لال مسجد کا آپریشن پرویز مشرف کا اب تک پیچھا کر رہا ہے اُسی طرح ماڈل ٹاﺅن کا یہ سانحہ بھی شریف برادران کے کردار کو گہناتا رہے گا جس صبح بے نور کے خلاف وزیر اعلیٰ شہباز شریف حبیب جالب کی نظمیں پڑھتے رہے ہیں، وہ اَب خود اُن کے نام سے جڑ گئی ہے۔ اب طویل عرصے تک پاکستانی سیاست پولیس فائرنگ کا نشانہ بننے والوں کی لاشوں کا طواف کرتی رہے گی۔

مزید :

کالم -