چودھری ظہور الٰہی کا قاتل کیسے گرفتارہوا؟

چودھری ظہور الٰہی کا قاتل کیسے گرفتارہوا؟
چودھری ظہور الٰہی کا قاتل کیسے گرفتارہوا؟
کیپشن: dr ghazanfar

  

مَیں کیمپ جیل میں میڈیکل افسر تھا، خبر ملی کہ چودھری ظہور الٰہی قتل کر دیئے گئے۔ وہ مولوی مشتاق حسین اور ایڈووکیٹ رحمن کے ساتھ بلٹ پروف گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ چند ہفتوں کے بعد مَیں جیل میں ڈیوٹی دے رہا تھا کہ خبر ملی کہ چودھری ظہور الٰہی کا قاتل جیل میں لایا گیا ہے۔ مَیں اس کے سیل میں گیا اور پوچھا کہ کیا معاملہ ہے، تو اس نے اثبات میں جواب دیا۔ وہ اس وقت پُراعتماد اور پُرسکون نظر آ رہا تھا، اس نے اپنا نام رزاق جھرنا بتایا، کچھ عرصے بعد اس کی شناخت پریڈ ہوئی۔ شناخت پریڈ جیل ہسپتال کے گراﺅنڈ میں ہوا کرتی تھی، شناخت پریڈ والے دن سول جج میاں خالد جو کہ مولوی مشتاق چیف جسٹس کے پی ایس رہ چکے تھے اور آج کل302 کے کیس بطور حوالاتی ہماری جیل میں تھے۔ پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے وہ میرے دوست بنے ہوئے تھے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ چودھری ظہور الٰہی قتل کیس کے ملزم کی شناخت پریڈ ہو رہی ہے اور قاتل نے دعویٰ کیا ہے کہ دیکھوں گا کون سا ماں کا لال میری شناخت کرتا ہے۔ مولوی مشتاق حسین نے تو شناخت پریڈ کے لئے انکار کر دیا تھا اور ایڈووکیٹ رحمن نے شناخت جان بوجھ کر تمام سہولیات کے باوجود ڈر کے مارے نہ کی۔ موقع کے دو ہی گواہ تھے۔ ایک نے آنے سے انکار کر دیا اور دوسرے نے شناخت کرنے سے انکار کر دیا۔ دونوں گواہان شروع سے ہی منحرف ہو گئے۔ فوجی عدالت نے جھرنا کو سزائے موت دی اور پھانسی دے دی گئی۔ رزاق جھرنا کے قاتل ہونے میں کوئی شک نہیں، لیکن موقع پر موجود دونوں گواہان نے گواہی سے انکار کر دیا۔ یہ ہمارے جوڈیشل سسٹم کے لئے المیہ ہے۔

بہت عرصہ قتل کے مقدمات میں پیش ہوتا رہا ہوں، میرا اندازہ ہے کہ95فیصد گواہ چشم دید جعلی ہوتے ہیں۔ انہوں نے قتل ہوتے نہیں دیکھا ہوتا ، وہ گواہ اچھی گواہی اس لئے نہیں دے سکتا ،کیونکہ اس نے قتل ہوتے نہیں دیکھا ہوتا، بلکہ پولیس تو مدعیوں کو کہتی ہے کہ گواہ بھروسے کے خود پیش کریں ان کو تمام کہانی اور تفصیل یاد کرائی جاتی ہے، لیکن انسانی عقل کا مشاہدہ ہے کہ دیکھی ہوئی چیز سنی ہوئی چیز سے بہرحال بہتر ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک دو واقعے پیش کرتا ہوں۔ میرے ایک کلاس فیلو ڈاکٹر خالد سیف اللہ خان ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب تھے ان کو قتل کرنے کی سازش کی گئی اور سازش کرنے والے اتنے ذہین تھے کہ انہوں نے ایک دفتر کے کلرک کے ذریعے فائرنگ کرائی۔ چودھری بدر دین وزیر صحت تھے جو اس سازش میں شامل تھے،کیونکہ وہ ڈاکٹر صاحب کی ضرورت سے زیادہ سخت ایمانداری سے نالاں تھے۔ سازشیوں نے وزیر صحت کے دونوں P.A اس واقعہ کے وقت ڈاکٹر صاحب کے دونوں طرف بٹھا دیئے ایک دائیں ہاتھ اور دوسرا بائیں ہاتھ۔ فائرنگ سے ڈاکٹر صاحب تو معجزانہ طور پر بچ گئے ، ان کا میڈیکو لیگل دوبارہ معائنہ جس بورڈ نے کیا تھا، مَیں اس کا چیئرمین تھا۔ ڈاکٹر صاحب میرے4سال تک باس رہے تھے اور دوستی کے باوجود سخت پریشان کیا کرتے تھے۔ (معائنہ کے وقت مَیں نے انہیں مذاقاً کہا کہ بھئی اس وقت آپ میرے ماتحت ہیں) ایکسرے اور سی ٹی سکین دیکھ کر بورڈ کے ممبران حیران تھے کہ گولی ٹھوڑی کی ہڈی کو مس کر کے ہڈی کو نقصان پہنچائے بغیر سلپ ہو کر اوپر جا کر پھنس گئی تھی اور آپریشن کر کے نکال لی گئی تھی۔ بورڈ کے ممبران ایکسرے اور سی ٹی سکین کو دیکھ کر حیران تھے کہ گولی نے ہڈی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ بورڈ کے ممبران کے مطابق یہ ایک معجزہ ہی تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو علم ہو گیا تھا کہ وقوعہ پر جان بوجھ کر چشم دید گواہ بنانے کے لئے دونوں طرف ان کے دشمن بیٹھے تھے۔ اس پلاننگ کی وجہ سے کیس کا بیڑا غرق ہو گیا۔

اب آپ کو بتاتے ہیں کہ چودھری ظہور الٰہی کا قاتل رزاق جھرنا کس طرح ٹریس ہوا اور کس طرح گرفتار ہوا۔ قاتل نے اپنے ایک نو عمر دوست کو ایک بریف کیس دیا کہ وہ اس کی بہن کے گھر کراچی پہنچا دے۔ اسے کچھ اندازہ تھا کہ رزاق جھرنا کی حرکات مشکوک ہیں، اِس لئے اُس نے انکار کر دیا۔ رزاق کے دھمکی دینے پر وہ مان گیا اور ٹرین پر سوار ہو گیا۔ جب صبح کے وقت ساہیوال سٹیشن پہنچا تو اخبار میں خبر پڑھی کہ چودھری ظہور الٰہی قتل کر دیئے گئے، اس کو یقین ہو گیا کہ یہ کارروائی اس کے دوست رزاق کی ہے۔ وہ ساہیوال سے کراچی جانے کی بجائے لاہور واپس آ گیا۔ اس نے اب سوچا کہ بریف کیس کا کیا کِیا جائے، تو اس نے اس کو ایک گندے نالے میں پھینک دیا۔ وہ بریف کیس پریشانی کی وجہ سے زیادہ دور تک نہ پھینک سکا اور وہ گندے نالے کے کیچڑ میں گر گیا۔ رزاق کے دوست نے دیکھا کہ لوگ اس بریف کیس کے نزدیک اسے دیکھنے جمع ہو گئے وہ بھی ہجوم میں کھڑا دیکھتا رہا۔ اس نے دیکھا کہ کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی اور پولیس والے بریف کیس کو اٹھا کر تھانے لے گئے۔ یہ کہانی مجھے جیل میں اس شخص نے سنائی جس نے بریف کیس پھینکا تھا اسے ہر گز معلوم نہ تھا کہ اس میں کیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ پولیس جب اس بریف کیس کو تھانے لے گئی تو اسے کھولنے پر ایک اس میں سے کلاشنکوف اور کچھ وزیٹنگ کارڈ برآمد ہوئے، جن سے تفتیش کے دوران وہ رزاق تک پہنچے اور اسے گرفتار کر لیا۔ ایک اہم بات کہ بلٹ پروف گاڑی میں سوار ہونے کے باوجود چودھری ظہور الٰہی پر قاتلانہ حملہ کرنے میں ملزم کس طرح کامیاب ہوا۔ رزاق نے اپنے دوستوں کو کہانی بتائی جو مجھ تک پہنچ گئی۔ رزاق نے گاڑی پر برسٹ مارا، لیکن اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ڈرائیور نے گھبرا کر شیشہ نیچے کر دیا اور جھانکا کہ کیا ہوا ہے۔ رزاق نے ایک گرنیڈ اس سوراخ میں سے گاڑی پر پھینکا جو سوراخ شیشہ نیچے کرنے سے بنا ہوا تھا۔ اس حملے میں ایڈووکیٹ رحمن بالکل محفوظ رہے، جبکہ مولوی مشتاق کافی زخمی ہوئے۔ اس مقدمہ میں مرتضیٰ بھٹو شریک ملزم تھا اس کا مقدمہ تقریباً 10،15 سال بعد اس وقت چلا جب مرتضیٰ بھٹو بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دوران بہن کے منع کرنے کے باوجود واپس آ گیا۔ اس کا مقدمہ چودھری اصغر علی ایڈوکیٹ (جو دو کتابوں ،خوشبو کی شہادت اور غدار کون کا مصنف ہے) نے لڑا۔ چودھری اصغر علی ایڈووکیٹ ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران کیمپ جیل میں رہے تھے، اکثر بیمار رہنے کی وجہ سے وہ میرے مریض تھے اس لئے میرے دوست بن گئے تھے۔

اس کی تفصیل بعد میں لکھوں گا۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ از راہ ِ ہمدردی انہوں نے اس کیس کو زیادہ مضبوطی سے نہیں لڑا، اس لئے وہ مرتضیٰ بھٹو کو بری کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ چودھری اصغر علی ایڈووکیٹ ایک درویش صفت انسان تھے انہیں فوت ہوئے کئی سال ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مجھے مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد بتایا تھا کہ مَیں نے ملکی حالات کے پیش نظر اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ ملک سے باہر چلا جائے، اس کی جان اس ملک میں محفوظ نہیں۔ یہاں بتاتا چلوں کہ چودھری اصغر علی نے محترمہ نصرت بھٹو کا کیس اس وقت لڑا تھا جب لاہور میں کوئی اچھا وکیل ڈر کی وجہ سے ان کا کیس لڑنے کو تیار نہیں تھا اور چودھری صاحب محترمہ نصرت بھٹو مرحوم کو اپنی بہن کا درجہ دیتے تھے اور وہ مرتضیٰ بھٹو کو اپنا بھانجا سمجھتے تھے اور مرتضیٰ بھٹو بھی چودھری صاحب کو ماموں کا درجہ دیتے تھے۔

مزید :

کالم -