ضربِ عضب:جماعت اسلامی کہاں کھڑی ہے؟

ضربِ عضب:جماعت اسلامی کہاں کھڑی ہے؟
ضربِ عضب:جماعت اسلامی کہاں کھڑی ہے؟
کیپشن: sayed mumtaz shah

  

پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا آغاز کر دیا ہے،جس کے ابتدائی دو تین دنوں میں بہت مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ سینکڑوں غیر ملکی دہشت گرد واصل جہنم ہوئے اور باقی کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔1965ءکی جنگ کے بعد پہلی بار پاکستان کی سیاسی قیادت اور قوم پوری طرح اس جنگ کو قومی جنگ سمجھتے ہوئے پاکستان کی بہادر مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہی ہیں۔ شروع میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ” دیکھو اور انتظار کرو“ کی پالیسی پر گامزن تھے، تاہم فوج کے دباﺅ اور پاکستان کے دوست ممالک بشمول چین کے مخلصانہ مشوروں کی روشنی میں آپریشن” ضرب عضب“ کا آغاز کیا گیا۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم،اے این پی نے ،جو پہلے ہی طالبان کے خلاف آپریشن کا مطالبہ کررہی تھیں، آپریشن کے آغاز کا خیر مقدم کیا،جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تحریک کی قیادت کو اعتماد میں نہ لینے کے گلہ کے ساتھ فوجی آپریشن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے، جو اس وقت شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی مخالفت کر رہی ہے۔

 جماعت اسلامی کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ فوجی حکمرانوں کے ساتھ خود کو آرام دہ محسوس کرتی ہے۔ 1970-71ءمیں جب پوری قوم جنرل یحییٰ خان کے مشرقی پاکستان میں آپریشن کی مخالف تھی، جماعت اسلامی اس آپریشن کا حصہ بن گئی۔ 1977ءکے بعد جب جنرل ضیاءالحق نے روس کے خلاف جنگ کی بنیاد ڈالی تو جماعت اسلامی کی قیادت نے اس جنگ میں افرادی قوت کا ایندھن فراہم کیا۔ جہاد کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں جہادیوں کی مدد سے روس کو افغانستان میں شکست ہو گئی، لیکن پوری پاکستانی قوم اس کے نتائج کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ 2002ءکے قومی انتخابات کے بعد جب پارلیمنٹ نے پرویز مشرف کے اقتدار کو قانونی سند عطا کی تو اس میںجماعت اسلامی بھی پیش پیش تھی۔

 گزشتہ دِنوں خیرپختونخوا اسمبلی کے بجٹ کے موقع پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت فوجی آپریشن کے فیصلے پر وفاقی حکومت کا ساتھ نہیں دے گی ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف خیبر پختونخوا حکومت کی سینئر پارٹنر تحریک انصاف غیر مشروط آپریشن کی حمایت کررہی ہے اور جونیئر پارٹنر آپریشن اور قومی منشاءکے خلاف اب بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا درس دے رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جماعت اسلامی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کی بجائے صورت حال کا ادراک کرے اور وسیع تر قومی اتحاد اور مفاد کی خاطر اپنے رویے پر نظر ثانی کرے ، جماعتی قیادت سابق امیرجماعت اسلامی سید منور حسن کے فلسفے سے باہر نکلے۔ موجودہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ جماعت کے امیر کے انتخاب میں سید منور حسن کی شکست کی وجہ ان کا وہ بیان تھا،جس میں انہوں نے حکیم اللہ محسود کو شہید کا درجہ دیا تھا۔ ان کا یہ بیان اراکین جماعت کو بھی ہضم نہیں ہوا تھا،جس کی وجہ سے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور آج امارت سراج الحق کے پاس ہے۔

اب جبکہ دہشت گردوں کے خلاف قومی جنگ شروع ہو چکی ہے اور جیسا کہ وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، اس قومی جنگ میں میڈیا پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، تاہم بدقسمتی سے بعض ٹی وی چینلوں کے اینکرز پرسن اپنی پرانی روش کے مطابق خود کو فوج سے زیادہ جنگی امور کے ماہرین سمجھتے ہیں اور قومی قیادت سے زیادہ خود کو ذہینسمجھتے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ جنگ کے وقت کا چناﺅ درست نہیں، کوئی اعتماد میں نہ لینے کا رونا رو رہا ہے،کوئی آپریشن کی لائیو کوریج کی بات کر رہا ہے۔ اس وقت پاکستان حالت جنگ سے گزر رہا ہے۔ اصولاً ٹی وی چینلوںپر لائیو کوریج اب ختم ہوجانی چاہئے۔ حال ہی میں کراچی جناح ٹرمینل آپریشن کے دوران لائیو کوریج کی وجہ سے گھنٹے دو گھنٹے میں ختم ہونے والے آپریشن پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چھ گھنٹے سے زائد کا وقت لگا، کیونکہ ٹی وی چینلوں کے ذریعے فوج، رینجرز اور پولیس کی تمام نقل و حرکت دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈز تک پہنچ رہی تھی اور وہ جدید مواصلاتی نظام سے لیس ازبک دہشت گردوں کو جناح ٹرمینل پر ہونے والی تمام نقل و حرکت سے آگاہی دے رہے تھے۔

 ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت پیمرا اور پی ٹی اے آپریشن ضرب عضب کی کوریج کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق مرتب کریں۔ سوات آپریشن کے موقع پر سابق وفاقی حکومت نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں روزانہ بریفنگ کا اہتمام کیا ہوا تھا، جس میں حکومت اور آئی ایس پی آر کے نمائندے روزانہ کی بنیاد پر سوات آپریشن پر بریفنگ دیتے تھے۔ مناسب ہو گا کہ ملکی و غیر ملکی ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے لئے ایسی بریفنگ کا دوبارہ احیاءکر دیا جائے تاکہ اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر منفی خبریں ختم ہو سکیں۔ آپریشن کے آغاز میں پہلے روز ہی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ دہشت گرد اور ان کے سرغنہ فوج کے محاصرے میں ہیں، تاہم القاعدہ اور طالبان نے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں اپنے سیل بنا رکھے ہیں اور ان کی طرف سے کبھی اور کسی بھی وقت ردعمل کا اظہار ہو سکتا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ پوری قوم ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں سے تعاون کرے، پولیس اور شہروں میں اس جنگ کو قیادت فراہم کرے اور شہروں میں قائم ان کے خفیہ ٹھکانوں کو ختم کرے تاکہ وہ پاکستان کے بندوبستی علاقوں میں جوابی ردعمل نہ کر سکیں۔

پاکستانی قوم اپنے بچوں کے لئے پُرامن اور بے خوف زندگی گزارنے کا خواب دیکھ رہی ہے، جہاں بندوق نہیں، معاملات دلیل کے ذریعے حل ہوں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ ضرب عضب ایک ایسا کامیاب آپریشن ہو گا، جس سے ریاست کے اندر ریاست کا تصور ختم ہو جائے گا۔ اگرچہ یہ نتائج پہلے بھی حاصل ہو سکتے تھے، لیکن بدقسمتی سے شمالی وزیرستان میں بعض فوجی مصلحتوں کی وجہ سے 2010ءکے آپریشن ”راہ نجات“ کو غیر معینہ مدت تک مو¿خر کر دیا گیا۔ اس وقت کی حکومت اور سابق صدر آصف علی زرداری کے احکامات کے باوجود سابق آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی اس آپریشن کو ٹالتے رہے ،تاہم ضرب عضب کے آغاز سے ہی فوج سے کیانی ڈاکٹرائن کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ پاکستان میں مستقل قیام امن کے لئے ضروری ہے کہ 33 لاکھ افغان مہاجرین کو جو پاکستان کے مختلف شہروں میں طویل عرصہ سے آباد ہیں ، واپس افغانستان کے حوالے کیا جائے،کیونکہ یہاں افغان مہاجرین کی بستیاں دہشت گردوں کی نرسریوں اور پناہ گاہوں کا کام کر رہی ہیں۔ وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں اقوام متحدہ اور افغان حکومت سے دو ٹوک مذاکرات کے بعد انہیں واپس بھجوانے کا انتظام کرنا چاہئے۔

 ایک خاص بات اور وہ یہ کہ ضرب عضب کے حوالے سے پوری قوم متحد تھی، سب کی نگاہیں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن پر لگی تھیں کہ ایسے میں اچانک پنجاب حکومت کو منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہر القادری کے سیکرٹریٹ کے باہر رکاوٹیں ہٹانے کا خیال آ گیا،جبکہ اسی طرح کی رکاوٹیں وزیراعلیٰ پنجاب کی رہائش گاہ جی او آر اور ایسے ہی کئی مقامات پر موجود ہیں،مگر لاہور پولیس نے رات کے اندھیرے میں، جس کارروائی کا آغاز کیا۔ منہاج القرآن کے کارکنوں نے اس کی بھرپور مزاحمت کی اور اس موقع پر پولیس نے نہتے کارکنوں کو، جن میں بچے، عورتیں اور بزرگ شامل تھے،بہیمانہ طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر سیدھا فائر کھول دیا، جس کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق، جبکہ80 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے اس اقدام سے یوں لگتا تھا کہ جیسے کسی دشمن کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہو یا طاہر القادری سے سیاسی انتقام لینے کے لئے پولیس کو خاص طور پر احکامات جاری کئے گئے ہوں، تاہم وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے واقعہ کی انکوائری کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ اس بات کو منظر عام پر لانا ضروری ہے کہ پوری قوم جب دہشت گردی کی جنگ میں مصروف تھی، ایسے میں صوبائی حکومت اور پولیس کو یکایک کیا سوجھی کہ انہوں نے قومی اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا۔ اس واقعہ کے حوالے سے خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناءاللہ نے جو غیر ذمہ دارانہ بیانات دیئے ہیں، وہ قابل افسوس ہیں۔

مزید :

کالم -