صوبائی دارلحکومت میں جعلی اشیاء خوردونوش ،سیگرٹ اور کاسمیٹکس کی بھرمار

صوبائی دارلحکومت میں جعلی اشیاء خوردونوش ،سیگرٹ اور کاسمیٹکس کی بھرمار

  

لاہور(ج الف /جنرل رپورٹر)صوبائی دارالحکومت جعلی اشیاء کی خریدو فروخت کی منڈی بن گیا ہے جس پر متعلقہ محکموں ،محکمہ انڈسٹری ،ضلعی حکومت ،ایکسائز اور کسٹم نے آنکھیں بند کررکھی ہیں جعلی سگریٹ کے بعد جعلی کاسمیٹکس ،جعلی مشروبات ،جعلی آئل ،جعلی گھی ،جعلی مصالحہ جات ،کھلے عام فروخت ہورہے ہیں جس سے ایک طرف عوام کی جیبیں جعلی اشیاء دے کر کاٹی جارہی ہیں تودوسری طرف ان کی صحت کے ساتھ بھی کھیلا جارہا ہے روزنامہ پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت شہر لاہورکے بازار، مارکیٹیں ،بڑے سٹوروں ،پرچون کی دوکانیں جعلی اور غیر معیاری کا سمیٹیکس کے سامان سے بھری پڑی ہیں نیل پالش ،لپ سٹک ،پوڈر ،کریمیں اور خصوصا رنگ گورا کرنے والی کریموں سے بھری پڑی ہیں جو خواتین کے چہرے بگاڑ رہی ہیں اس طرح جعلی اور بڑی معروف کمپنیوں کے نام کے شیمپو،کنڈیشنر سے مارکیٹیں بھری پڑی ہیں یہاں تک نومولود بچوں کے لئے ڈبے کا دودھ بھی جعلی فروخت ہورہا ہے ۔دوسری طرف مصالحہ جات ،مرچیں ،چینی ،چائے کی پتی ،گھی ،آئل میں بھی ملاوٹ کی جارہی ہے اور اس کی فروخت میں اضافہ ہوچکا ہے ۔گاڑیوں کے پرزہ جات اور انجن آئل ،بریک آئل ،گیر آئل بھی جعلی فروخت ہورہا ہے ۔بادامی باغ اس کی سب سے بڑی منڈی ہے ۔میڈیسن بھی جعلی فروخت ہورہی ہیں دوسری طرف شہر جعلی سگریٹ سے بھر گیا ہے جو سگریٹ کے عادی لوگوں کے گلے خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ ضلعی حکومت اور کسٹم کے علم میں ہونے کے باوجود کارروائی سے محکمے گریزاں ہیں اس حوالے ڈی سی اولاہور کیپٹن (ر) عثمان کا کہنا ہے کہ اس کے لئے محکمے موجود ہیں جن کی خاموشی افسوسنا ک ہے ہم اپنے وسائل کے مطابق ایکشن لیں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -