ترکی کے صدارتی انتخابات، اپوزیشن جماعتوں نے او آئی سی کے سابق سیکرٹری جنرل کو متفقہ طور پر اپنا صدارتی امیدوار بنانے کا فیصلہ کر لیا

ترکی کے صدارتی انتخابات، اپوزیشن جماعتوں نے او آئی سی کے سابق سیکرٹری جنرل ...

  

لاہور(اسلم بھٹی) ترکی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ براہ راست صدر کا انتخاب عوام کرینگے اور نظام حکومت فرانس، روس اور امریکہ کی طرح پارلیمانی سے صدارتی ہونے جا رہا ہے ۔ ترک میڈیا، ذرائع کے مطابق ترکی کے موجودہ وزیر اعظم رجب طیب اردگان اپنی تیسری اور آخری ٹرم پوری کرنے جا رہے ہیں اور ترکی کے آئین کے مطابق کوئی شخص تین سے زائد مرتبہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائض نہیں رہ سکتا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق برسر اقتدار پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے اسی سال اگست میں ہونے والے براہ راست صدارتی انتخابات میں موجود وزیر اعظم رجب طیب اردگان کو نامزد کرنے کا عندیہ دے دیا ہے تاہم اس کا باقاعدہ اعلان ابھی تک نہیں ہوا۔ قوی امکان یہی ہے کہ اپنی پارٹی کی جانب سے وہی صدارتی امیدوار ہونگے۔

دوسری طرف ترکی کی اپوزیشن جماعتوں ری پبلیکن پیپلزپارٹی(جے ایچ پی) اور نیشنل موومنٹ پارٹی(ایم ایچ پی) سمیت دیگر پارٹیوں نے ان صدارتی انتخابات میں متفقہ طور پر اپنا امیدوار سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے اور کافی عرصہ کے غور و غوض اور مشورے کے بعد اکمل الدین احسان اوغلو کا نام فائنل کیا ہے۔

اکمل الدین احسان اوغلو اسلامی ممالک کی نمائندہ بین الاقوامی تنظیم(او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے دسمبر2013ءکو ریٹائرڈ ہوئے ہیں جو اس عہدے پر تقریباً دس سال تک اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ اکمل الدین احسان اوغلو ترک النسل ہیں جو قاہرہ (مصر) میں پیدا ہوئے اور مصر ہی کی ایک یونیورسٹی عین الشمس سے انہوں نے گریجوایشن کیا۔ انہیں بہت سی زبانوں جن میں عربی، انگلش وغیرہ شامل ہیں پر عبور حاصل ہے۔ وہ بہت سی کتب کے مصنف ہیں اور 20سے زائد یونیورسٹیوں نے انہیں Phdکی اعزازی ڈگری دے رکھی ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے راہنماﺅں کا کہنا ہے کہ اس وقت اکمل الدین احسان اوغلو سے موزوں صدارتی امیدوار اور کوئی نہیں ہو سکتا جو سب کے لئے قابل قبول ہیں اور یہ ترک عوام کے لئے ایک بہترین انتخاب ہو گا۔ موجودہ وزیر اعظم رجب طیب اردگان یا اکمل الدین احسان اوغلو ان میں سے کون صدر بنے گا یہ تو انتخابات کے بعد ہی واضح ہو گا لیکن مبصرین کا خیال ہے ہ ان حالات میں اکمل الدین احسان اوغلہ کا ان کے مقابلے میں بطور مﺅلف صدارتی امیدوار ایک موزوں انتخاب تصور کیا جا رہا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -