حقائق عوام کے سامنے لا کر ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائیگی

حقائق عوام کے سامنے لا کر ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائیگی

  

                         لاہور(کامرس رپورٹر)گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہاہے کہ ماڈل ٹاﺅن کا سانحہ انتہائی افسوس ناک ہے ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، حکومت بہت جلد اصل حقائق عوام کے سامنے لائے گی اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا ملے گی۔ وہ گزشتہ روز پاکستان جرنلسٹ فورم کے زیر اہتمام ”ملکی سلامتی اور میڈیا کا کردار“ کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔تقریب سے سی پی این ای کے صدر و چیف ایڈیٹر روزنامہ ”پاکستان“ مجیب الرحمن شامی، وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی امور عرفان صدیقی، نامور کالم نگار حسن نثار، سینئر صحافی رحمت علی رازی، پروفیسر مغیث الدین شیخ اور سیکرٹری جنرل پی جے ایف ذوالفقار راحت نے بھی خطاب کیا۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ 50ہزار پاکستانی دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں، دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اسلام برداشت اور بھائی چارے کا مذہب ہے جس نے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور اس کے خاتمے کے لئے پاک فوج کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے میڈیا کا کردار قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے کندھوں پر جو ذمہ داریاں ہیں وہ نہ صرف انتہائی اہم ہیں بلکہ کلیدی حیثیت کی بھی حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آنے والی نسلوں کو ایک مضبوط ، مستحکم اور خوشحال پاکستان دینا ہے۔ مجیب الرحمن شامی نے لاہور میں ہونیوالے سانحہ کو نہایت افسوسناک اور شرمناک قرار دیتے ہوئے ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کیلئے کڑی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ طاقت کے زور پر اپنی مرضی مسلط نہیں کی جا سکتی ، طالبان سے ہماری لڑائی بھی یہی ہے کہ وہ طاقت کے بل پر ریاستی رٹ کو چیلنج کر کے اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں، اسی قسم کی طاقت کا مظاہرہ گزشتہ روز منہاج القرآن کے دفتر کے باہر سرکاری اہلکاروں اور پولیس نے کیا جو کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں، اس کوتاہ اندیشی پر ضروری ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ہاتھ توڑ دیئے جائیںچاہے وہ طالبان ہوں یا سرکاری کارندے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے،پاک افواج کو اپنے ہی ملک کے ایک مخصوص علاقے میں آپریشن کرنا پڑ رہا ہے یہ ہمارے لئے مقام مسرت نہیں ہے لیکن حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہمارے پاس نہ چاہتے ہوئے بھی آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا، دہشت گرد معصوم جانوں کو نقصان پہنچانے کے بعد ہوائی اڈوں اور دیگر حساس ملکی تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں ایسے میں لازم ہے کہ ریاست اپنے وجود کی حفاظت کرے۔ معروف کالم نگار حسن نثار نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری بد قسمتی دیکھئے کہ پاکستان کو ویلفیئر سٹیٹ بننا تھا لیکن ہم سیکیورٹی سٹیٹ بن گئے ہیں ، اس ملک کااصل مسئلہ اقتصادیات نہیں بلکہ اخلاقیات ہے، ہمارے میڈیا سے میچورٹی کا تقاضا کیا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان ، ججوں کو تھپڑ مارنے والے وکلائ، مریضوں سے لڑتے ہوئے ڈاکٹر اور مذہب کا اجارہ دار ملا کتنا میچور ہے، الیکٹراک میڈیا کی پیدائش کو ابھی کچھ عرصہ ہوا ہے تاہم میڈیا نے کچھ غلطیوں کے باوجود ذمہ داری دکھائی ہے، میڈیا سے اس سے زیادہ کی توقع جائز نہیں۔پروفیسر مغیث الدین شیخ نے کہا کہ میڈیا نے جمہوریت کی پہرے داری کی ہے ، آج بھی جمہوریت پر میڈیا کا پہرہ ہے، ججز تحریک میں میڈیا کا کردار سب کے سامنے ہیں، لیکن وہ کیا حالات ہیں کہ آج بھی ہم میڈیا کے اصل کردار کے حوالے سے یہاں جمع ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ آج کل میڈیا ہمارا ماں باپ بنا ہوا ہے اور ہمارے بچوں کو وہ سکھا رہا ہے کیونکہ ہمارے پاس اتنا ٹائم نہیں ہم لوگ اپنے کچن چلانے میں مصروف ہیں، ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے کہا کہ آزادی کا پودا ذمہ داری کی زمین سے نکلتا ہے لیکن ہمارا مسئلہ ہے کہ جن لوگوں کو خبر دینی چاہیے وہ خود خبر بن گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ پیمرا کو نئے دانت نہیں دیئے جا رہے اور نہ ہی ان کے دانت تیز کئے جا رہے ہیں تاہم پیمرا کے شکایات سیل کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔تقریب سے رحمت علی رازی، ذوالفقار راحت اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

چوہدری سرور

 

مزید :

صفحہ آخر -