آپریشن کے بعد انسداد دہشتگردی کی حکمت عملی طے کرنا وقت کی اہم ضروت ہے

آپریشن کے بعد انسداد دہشتگردی کی حکمت عملی طے کرنا وقت کی اہم ضروت ہے

  

                            لاہور(کامرس رپورٹر)سابق وفاقی وزیر و چیئرمین انسٹیٹیوٹ فار پالیسی ریفارمزہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف آپریشن شروع ہونے کے بعد انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی طے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، شہری علاقوں میں سلیپرز سیل ممکنہ طور پر بڑی آبادی کےلئے خطرہ ہےںتاہم سیاسی قیادت نے اس سلسلے میں کوئی سرکاری محکمہ قائم نہیں کیا اور نہ ہی کسی فوجی کاروائی کی صورت میں ان کے درمیان رابطے کا سلسلہ قائم ہو سکا ہے،گزشتہ روز انسٹیٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کے زیر اہتمام سیمینار کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ نازک حالات میں اس طرح کے سیمینار کا انعقادوقت کی اہم ضرورت ہے اور نہایت ضروری ہے کہ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے بارے میں بات کی جائے۔ سیمینار میں مرکزی خطاب امریکی ادارہ برائے امن کے ڈائریکٹر معید یوسف کا تھا جنہوں نے وزیر ستان میں جاری فوجی آپریشن کے حوالے سے شرکاءکے سوالوں کے جواب بھی دیئے۔اس موقع پر ڈاکٹر حفیظ پاشا، طارق پرویز ، ہارون اختر خان ،تسنیم نورانی ،جنرل ریٹائرڈ سکندرافضل ،کے علاوہ ریٹائرڈ سول اور ملٹر ی افسران ،دانشور اور میڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر معیدیوسف نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ وزیرستان میں جاری آپریشن کے دوسرے فیز میں شہری علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کےلئے ایک اور سفر کرنا ہوگا انہوں نے زوردیا کہ پولیس اور قانونی نظام کو ہی آخر کار اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ کتنی جلدی ریاست دہشت گردی کیخلاف ےہ جنگ جیت سکتی ہے اس موقع پر ڈاکٹر معید یوسف نے جنوبی ایشیاءمیںدہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کےلئے کی گئی اپنی تحقیق سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لےے جنوبی ایشیاءسے حاصل کردہ سبق سے پاکستان کس طرح مستفید ہو سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک میں دہشت گردوں سے نہ صرف جنگ کی گئی بلکہ ایک حکمت عملی کے تحت مذاکرات بھی کےے گئے لیکن جنوبی ایشیاءمیں ےہ دیکھا گیا ہے مذاکرات شاذوناظر ہی کامیاب ہوتے ہیں ۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہاکہ طویل مدت کےلئے دہشت گردی پر قابو پانے کےلئے تین نکاتی حکمت عملی کو ترجیح دینا ضروری ہے پولیس کی کار کردگی اور عدالتی نظام کو بہتر بنانا ہو گا ۔اعتدال پسند مذہبی رہنماو¿ں کو آگے لانا ہو گا تا کہ انتہا پسندوں کو کمزور کیا جا سکا اور پاکستانیوں کو بتانا ہو گا کہ ریاست کا اصل دشمن کون ہے اور ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی ختم کرنے کےلئے کون سی حکمت عملی استعمال کی جا رہی ہے تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس سلسلے میں اس وقت کوئی قیادت نظر نہیں آرہی ۔

ہمایوں اختر خان

مزید :

صفحہ آخر -