سانحہ منہاج القرآن : وکلا ءکی ہڑتال،وزیراعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ

سانحہ منہاج القرآن : وکلا ءکی ہڑتال،وزیراعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے خلاف پاکستان بھر کے وکلاءنے ہڑتال کی جبکہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ اور آئی جی پولیس سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی مذمت کیلئے لاہور ہائیکورٹ بار کا ہنگامی جنرل ہاﺅس اجلاس کیانی ہال میں منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے صدر شفقت محمد چوہان، سیکرٹری میاں احمد اور دیگر سینئر وکلا نے کہا کہ منہاج القرآن سیکرٹریٹ ماڈل ٹاﺅن میں لاہور پولیس نے جو دہشت گردی کی ایسے گھناﺅنے اور دلخراش واقعات کی مثال آمریت کے دور میں بھی نہیں ملتی۔ ماڈل ٹاﺅن میں نہتے ، بے گناہ اور معصوم عورتوں مردوں اور نوجوانوں کو مسلسل تیرہ گھنٹے بربریت کا نشانہ بنا کر جنگل کے قانون کو نافذ کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ وکلاءنے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے اندر اسلحہ کے ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاہر القادری کے اسلام آباد میں 4روزہ دھرنا کے دوران کوئی پتہ تک نہ ٹوٹا اور عوام الناس کا جم غفیر انتہائی پرامن طور پر احتجاج کرتا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر قانون ، انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس فی الفور مستعفی ہوں اور واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف بلا تفریق کاروائی عمل میں لائی جائے۔ جنرل ہاﺅس اجلاس میں قرار داد منظور کی گئی ہائیکورٹ بار سانحہ کے متاثرہ افراد کی مفت قانونی امداد کرے گی۔گزشتہ روز وکلاءکی ہڑتال کے باعث ہزاروں مقدمات کی سماعت متاثر ہوئی ۔ہڑتال کی کال پاکستان بار کونسل سمیت مختلف نمائندہ وکلاءتنظیموں نے دی تھی ۔لاہور ہائی کورٹ میں بھی وکلاءنے ہڑتال کی تاہم عدالتی وقفہ سے پہلے فوری نوعیت کے چند مقدمات کی سماعت ہوئی۔

 وکلاءہڑتال

مزید :

صفحہ اول -