پولیس نے زیر حراست شہریوں کو قتل کرنا مشغلہ بنا رکھا ہے ، لاہورہائیکورٹ

پولیس نے زیر حراست شہریوں کو قتل کرنا مشغلہ بنا رکھا ہے ، لاہورہائیکورٹ

  

پولیس نے زیر حراست شہریوں کو قتل کرنا مشغلہ بنا رکھا ہے ، لاہورہائیکورٹ                                                لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کا بیلف پہنچنے سے چند گھنٹے قبل پولیس نے تشدد کر کے زیر حراست 4 بچوں کے باپ کو قتل کر دیا، پولیس کی بربریت پر عدالت نے آج 19جون کوڈی پی او ننکانہ کو طلب کر لیا۔ جسٹس سید افتخار حسین شاہ گزشتہ روز صبح عدالتی امور نمٹانے کیلئے کمرہ عدالت میں اپنی نشست پر آکر بیٹھے اور کمرہ عدالت میں موجود محمدیہ کالونی سرگودھا کی ایک خاتون فرحت بی بی نے گریہ زاری شروع کردی، عدالت کے استفسار پر خاتون نے بتایا کہ منگل کے روز اسکی حبس بیجا کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے بیلف مقرر کرتے ہوئے اسکے شوہر ندیم قیصر کو ننکانہ سٹی پولیس کی حراست سے بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا لیکن جب وہ بیلف کے ہمراہ تھانے پہنچی تو پولیس والوں نے بتایا کہ اسکے شوہر فوت ہو گیا ہے جس کی لاش ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچا دی گئی ہے، بیلف نے بھی عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے تصدیق کی ندیم شوہر ہلاک ہو چکا ہے، عدالت نے پولیس کی بربریت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے قرار دیا کہ پولیس نے زیر حراست شہریوں کو قتل کرنا مشغلہ بنا رکھا ہے، عدالت نے ڈی پی او ننکانہ کو آج عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیدیا، خاتون کا کہنا ہے کہ پولیس نے پراڈو گاڑی کے لین دین کے تنازع میں اسکے شوہر کو حراست میں لیا اور رہائی کے بدلے 35لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہی تھی۔

مزید :

صفحہ اول -