گاڑیاں توڑنے والے ’گلوبٹ‘ کی دھنائی

گاڑیاں توڑنے والے ’گلوبٹ‘ کی دھنائی
گاڑیاں توڑنے والے ’گلوبٹ‘ کی دھنائی

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے موقع پر شہریوں کی گاڑیاں توڑنے والاگلو بٹ شہریوں اور وکلاءکے ہتھے چڑھ گیاجنہوں نے پولیس اہلکاروں سمیت گلوبٹ کو تشدد کا نشانہ بنایاجس کے بعد پولیس گلوبٹ کو لے کر عدالت میں پیش کیے بغیر ہی واپس لے گئی۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ فیصل ٹاﺅن کے تین اہلکاروں نے منہ پر کپڑا ڈال کر ماڈل ٹاﺅن کچہری میں پیش کیاجہاں ایک شہری نے پہچان لیا۔ شہریوں کی گلوبٹ کے آنے کے اعلان پر دیگر شہری اور وکلاء”گلوبٹ“ پر ٹوٹ پڑے اورساتھ موجود پولیس اہلکاروں کی بچانے کی کوشش پر پولیس اہلکاروں کو بھی منہ کی کھانی پڑی ،کس کے ہاتھ جو آیادے مارا، کسی نے ٹھڈا ماراتو کسی نے مکااور گلو بٹ زمین پر گر گیا جس کے اوپر پولیس اہلکارنے ڈھال بنالی اورگلوبٹ کو بے ہوشی کا ڈرامہ کرنے کے مشورے دیتے رہے۔عینی شاہدین کے مطابق گلو بٹ نڈھال ہوگیاتھا جس کے بعد اُسے جناح ہسپتال منتقل کردیاگیا۔

وکلاءکاموقف تھاکہ گلو بٹ کو پولیس کی آشیرباد حاصل ہے ، دہشت پھیلانے کے باوجود مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل نہیں کی گئیں اوربچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔موجودہ مقدمے میں وہ کسی صورت میں عدالت میں پیش نہیں ہونے دیں گے ۔واضح رہے کہ گلوبٹ کو جوڈیشل مجسٹریٹ نوید انجم کی عدالت میں پیش کیاجاناتھا۔ پولیس ذرائع کاکہناتھاکہ گلو بٹ پر تشدد کا خدشہ تھا جس کی وجہ سے خاموشی سے منہ پر کپڑاڈال کر پیش کیاگیا۔

یادرہے کہ منہاج القرآن کے سامنے بیریئرہٹانے کے نام پر پولیس آپریشن کے دوران پولیس کا ٹاﺅٹ گلو بٹ بڑی فراخدلی سے وہاں کھڑی ایمبولینسوں سمیت دیگر گاڑیوں کے شیشے توڑتارہا، دکانیں لوٹ کر ڈی سی او اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو بوتلیں پلاتارہاجبکہ ایک ایس پی صاحب نے موصوف کو شاباش بھی دی تھی جبکہ آئی جی پنجاب نے گلوبٹ کے پولیس کا ٹاﺅٹ ہونے کا اعتراف بھی کرلیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -