ضرب عضب, افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں: سول و عسکری حکام

ضرب عضب, افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں: سول و عسکری ...
ضرب عضب, افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں: سول و عسکری حکام
کیپشن: ISPR

  

لاہور (خصوصی رپورٹ)وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اور ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے آغاز ہی سے ہمسایہ ممالک بشمول افغانستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور سب پر واضح کردیا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کو ہرگز پناہ نہ دیں کیونکہ اگر ایسا ہوا تو تمام خطے کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔میڈیا نے تمام آپر یشن میں بہت ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے اور ہم میڈیا کے کردار کو سرہاتے ہیں۔سیئنر صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے خلاف ہیں ، گذشتہ دنوں ہونے والا حملہ امریکہ نے پاکستان کو بتائے بغیر کیا، اس طرح کے حملوں سے فائدے کی بجائے نقصان ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ کچھ دنوںسے یہ کہا جا رہا ہے کہ عسکری اور سیاسی قیادت ایک صفحہ پر نہیں ہے جبکہ ایسی کوئی بات نہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ صرف تین فی صد علاقہ شورش زدہ ہے اور اس میں پوری بہادری کے ساتھ پاک فوج کاروائی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں پاکستان کا کنٹرول 87فی صد ہے، 10فی صد علاقہ میں دہشت گرد چھپ چھپ کر وار کرتے ہیں جبکہ صرف 3فیصد علاقہ شدت پسند وں کے کنٹرول میں ہے اورپاک فوج اس خطے میں آپریشن کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطرناک علاقے میں سے مقامی آبادی کو با حفاظت نکال لیا گیا ہے ، اس وقت ایک لاکھ سے زائد آبادی کو تمام شورش زدہ علاقوں سے نکال کر نادرا کے ذریعے ان کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے۔ ان پناہ گزینوں کو وفاقی حکومت پانچ ہزار روپے جبکہ خیبر پختونخواہ کی حکومت سات ہزار روپے فی کس دے رہی ہے اور انہیں کیمپوں میں رکھا جا رہا ہے ،ان کیمپوں کی حفاظت پاک فوج کر رہی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ جو لوگ کیمپوں میں نہیں رہنا چاہتے اور اپنے رشتے داروں کے پاس جانا چاہتے ہیں تو ان کو اس کی مکمل آزادی ہے ،ان کے رشتے داروں کے ساتھ رابطہ کر کے ان پنا ہ گزینوں کو وہاں جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ان کہ کہناتھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ تمام مقامی آبادی شورش زدہ علاقے سے نکل جائے تاکہ آنے والے دنوں میں آپریشن کے دوران انہیں نقصان نہ ہو۔انہوں نے بتایا کہ جب سے آپریشن شروع ہوا ہے پاک فوج نے انتہائی بہادری سے لڑائی لڑی ہے، اب تک آٹھ فوجی شہیداور چھ زخمی ہوئے جبکہ 150سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

مزید :

دفاع وطن -