ٹیکسٹائل سیکٹر کے بعد چاول کی برآمدات دو سرے نمبر پرآگئیں

ٹیکسٹائل سیکٹر کے بعد چاول کی برآمدات دو سرے نمبر پرآگئیں

  

کرا چی (اکنامک رپورٹر) ٹیکسٹائل سیکٹر کے بعد ایکسپورٹ میں چاول کی ایکسپورٹ دو سرے نمبر پر آچکی ہے لیکن چا ول کی ایکسپورٹ 2بیلین ڈالرز پر آکر رک گئی جسکی اصل وجہ ریسر چ اینڈ ڈویلپمنٹ کے نہ ہو نے کی وجہ سے جدید معلو ما ت اور ٹیکنالو جی سے نا آشنا ئی ہے۔ چنا نچہ چاول کی اقسام کی ایکسپورٹ کے فر وغ اور جد ید تحقیق اور عالمی سطح پر مسا بقت کاروں سے مقا بلے کے لیے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے سینئر نا ئب صدر عبدالرحیم جا نو نے وفاقی وزیر تجا رت انجینئرخرم دستگیراور وفاقی وزیر برا ئے فو ڈ سیکورٹی اینڈ ریسر چ سکندر حیا ت خان بو سا ن سے کہا ہے کہ رائس ڈویلپمنٹ بو رڈ کی تشکیل کی اشد ضرورت ہے ۔ تا کہ چاول سے متعلق مسائل اور تحقیق کے لیے مو ثر پلیٹ فارم میسر ہو سکے۔ اسکے علاوہ باسمتی چاول کی اونر شپ ٹریڈ مارک TDAPکو لینی چا یئے جو کہ فیڈرل لیو ل پر با سمتی چاول کی سر پرستی کر سکتا ہے۔رحیم جا نو نے کہا کہ عالمی سطح پر چاول کے مسابقت کار اپنی پو ری تیاری کے ساتھ جدید تحقیقات اور مارکیٹ ڈیما نڈ کے مطا بق چاول کی نئی اقسام کے ساتھ مو جود ہو تا ہے اور وہ اپنے کا شتکاروں ، ملرز ایکسپورٹر ز اور ٹر یڈر کی مشاورت سے اپنی چاول کی ایکسپورٹ کو بڑ ھا رہے ہیں ۔ جبکہ ہمارے ہاں جدید تحقیق کا فقدا ن ہے ۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرآف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے سنیئر نا ئب صدر نے مزید کہا کہ تجو یز کر دہ را ئس ڈویلپمنٹ بو رڈ پبلک ، پرائیوٹ پا رٹنر شپ کے تصو ر کہ تحت بننے سے با سمتی اور پیڈ ی رائس سے متعلق تما م مسائل حل ہو جا ئینگے ۔

انہوں نے کہا کہ اس بو رڈ میں وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ محکمہ اور پرائیوٹ سیکٹر کے ادارے بشمو ل پرائیوٹ اور پبلک سیکٹر سے ٹیکنیکل ما ہر ین بھی شامل ہو نے چاہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس تجو یز کر دہ بو رڈ کی سر براہی فیڈرل سیکریٹر ی کو بطور بورڈ گورنرکرنا چا ئیے ۔ جبکہ ایک ڈپٹی گورنر با سمتی اور پیڈ ی سے ہو نا چا ہیں ۔ اور دوسرا ڈپٹی گورنر رائس ایکسپورٹنگ با ڈی سے ہو نا چا ہیے ۔ تا کہ ایک طر ف جدید تحقیق کا کا م بھی چلتا رہے اور دوسری طر ف ما رکیٹ ڈیما نڈ کا بھی تجز یہ ہو تا رہے۔ اس سلسلے میں فیڈریشن چیمبر کے سنیئر نائب صدر عبدالرحیم جا نو نے وفاقی وزیر برائے تجا رت اور وفاقی وزیر برا ئے خوراک کو ایک خط کے ذریعے اپنی تفصیلی تجا ویز ارسال کی ہیں ۔ اور درخواست کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی اپنی وزارتوں کے متعلقہ حکام کو ہدایات جا ری کر یں تا کہ وہ را ئس سے متعلق تمام اسٹیک ہو لڈرز کو ایک پلیٹ فار م پر لانے کی کو ششو ں میں ایف پی سی سی آئی کے ساتھ تعاون کر یں ۔

مزید :

کامرس -