پولٹری انڈسٹری پر اضافی ٹیکس سے اسکا مستقبل تاریک ہو جائے گا:زاہدحسین

پولٹری انڈسٹری پر اضافی ٹیکس سے اسکا مستقبل تاریک ہو جائے گا:زاہدحسین

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کم از کم 700 ارب روپے کی پولٹری کی صنعت پر فیصدٹیکس سے اسکا مستقبل تاریک ہو جائے گا اور عوام پروٹین کے سب سے سستے زریعے سے محروم ہو جائینگے جبکہ حکومت کو صحت عامہ،ر فوڈ سیکورٹی اور بے روزگاری کے مسائل سے نمٹنا پڑے گا۔گائے کاگوشت مہنگا، بکرے کا گوشت قوت خرید کے باہرجبکہ پاکستان میں مچھلی کا استعمال دنیا میں سب سے کم فی کس دو کلو سالانہ ہے اسلئے پولٹری 90 فیصد آبادی کیلئے حیوانی لمحیات کے حصول کا واحد زریعہ ہے۔۔دس سے بارہ فیصد سالانہ ترقی کرنے والی پولٹری انڈسٹری پر عائد ٹیکس واپس نہ لئے گئے تو ملکی آبادی کی اکثریت صحت کے بحران میں مبتلاء ہو جائیگی۔میاں زاہد حسین نے پولٹری فارمرز کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اوسطاً ہر پاکستانی میں پروٹین معمول کی مقدار سے دس فیصد کم ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں انڈے کی سالانہ فی کس کھپت تین سے چار سو ہے جو پاکستان میں صرف ساٹھ ہے۔امریکہ اپنی عوام کی غذا متوازن رکھنے کے لئے ساڑھے تین سو ارب ڈالر سبسڈی دیتا ہے، سعودی عرب جیسا امیر ملک بھی پولٹری پر پچاس فیصد سبسڈی دیتا ہے جبکہ کئی ترقی پزیر ملک بھی یسا کرتے ہیں مگر یہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہے جس نے متوازن اور صحت بخش غذا تک رسائی کواکثریت کی پہنچ سے باہر پہنچا دیا ہے جس سے کمزوری، بیماریاں عام، پیداواری استعداداورملکی شرح نمو متاثر ہو رہی ہے جبکہ سب سے برا حال غریب ماؤں کا ہے۔

جو بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے خود فاقے کرتی ہیں۔خوراک کو مہنگا کرنا کسی بھی طرح ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔پروٹین کی کمی کے نتائج میں تھکاوٹ، چڑچڑا پن، عضلات کی کمزوری، سوجن، اسہال، سانس کے نظام کی خرابی، سوزش، گلے کی بیماریاں اور امراض قلب شامل ہیں۔اس لئے حکو مت سے اپیل ہے کہ پو لٹری انڈسڑی کو خا طر خواہ اہمیت دی جا ئے اور اس کے جا ئز مسا ئل کو فی الفو ر حل کیا جا ئے تا کہ لا کھوں لو گ جو اس روزگار سے وا بستہ ہیں ان کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔

مزید :

کامرس -