ایف بی آر سمگلنگ کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کرے: خواجہ خاوررشید

ایف بی آر سمگلنگ کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کرے: خواجہ خاوررشید

  

لاہور(کامرس رپورٹر)فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کیمیکلز سمیت تمام اشیاء کی سمگلنگ کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کرے کیونکہ سمگلنگ کے باعث حکومت کو سالانہ اربوں روپے کے ریونیو سے محروم ہونا پڑتا ہے ۔سمگلنگ کے خاتمے کے لئے فوری طور پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں کمی کی جائے۔سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد سے کم کر کے 12فیصد کی جائے ۔گیس پر عائد سرچارج ختم کر دیا جائے۔براہ راست ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھایا جائے۔نئے ٹیکس دہندگان پیدا کئے جائیں۔ان خیالات کا فیڈریشن کی امن و امان کمیٹی کے چیئرمین اور لاہور چیمبرکی ایگزیکٹوکمیٹی کے رکن خواجہ خاور رشید نے لاہور اکنامک جرنلسٹس ایسوسی ایشن (لیجا) کے ممبران کے اعزاز میں جمخانہ کلب میں دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری اور موٹروے سمیت توانائی کے منصوبوں میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے پاکستان جلد ایشین ٹائیگر بن جائے گا جس کا تمام تر سہرا وزیراعظم محمد نوازشریف کے سر ہو گا ۔انہوں نے وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ سے درخواست کی کہ وفاقی بجٹ میں صنعت کاروں اور تاجروں پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی جائے ۔کمرشل امپورٹرز پر دہرے ٹیکس ختم کئے جائیں ۔پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت فروخت کی جانے والی اشیاء کی مانیٹرنگ کی جائے۔حکومت کو نو ڈیوٹی نو ڈرابیک سکیم متعارف کرانی چاہئے ۔

بیمار صنعتوں کی بحالی کیلئے نیا پیکج لایا جائے ۔چھوٹے تاجروں اور فیکٹری مالکان کو ٹیکس عملہ ہراساں نہ کر ے۔قومی شناختی کارڈ نمبر کواین ٹی این نمبر قرار دیا جائے ۔خام مال کی درآمد پر زیرو ریٹڈ ڈیوٹی کی جائے۔حکومت کالا دھن سفید کرنے کیلئے نئی ایمنسٹی سکیم متعارف کرائی جائے ۔خواجہ خاور رشید نے بجٹ میں خیبرپختونخوا کی صنعت کو ٹیکس چھوٹ دینے کے عمل کو خوش آئند قرار دینا ایک اچھا اقدام ہے اس اقدام سے وہاں کی کاروباری سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ تاجروں اور صنعت کاروں پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ بڑھانے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے۔ جب تک ایف بی آر حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ٹیکسوں کے ہدف کو پورا نہیں کریگی عوام کے لئے ترقیاتی کام بروقت مکمل نہیں ہو سکیں گے ، ایف بی آر کے موجودہ سیلز ٹیکس نظام کے تحت ملک کا ہر فرد ٹیکس ادا کر رہا ہے تو پھر مراعات یافتہ طبقہ کو ٹیکس استثنیٰ دینا غریب عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو گی خام مال کی درآمد پرعائد تمام ڈیوٹیاں ختم کی جائیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تاجر و صنعتکار برادری کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے شرح سود کو سنکل ہندسے میں لانے کے مطالبہ کو پورا کر دیا ہے جس کے باعث پیداواری لاگت اور افراط زر کی شرح میں کمی رونما ہو گی۔ موجودہ حالات میں کاورباری برادری کو کم شرح سود پر قرضوں کی ضرورت تھی،شرح سود میں کمی سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔حکومت کی مثبت پالیسوں کے باعث تمام اقتصادی اعشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔پاکستان کے پاس تمام وسائل موجودہ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل سے استعفادہ کرتے ہوئے ملکی معیشت کو بہتر کیا جائے لہذا حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی فروغ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں مزید آسانیاں پیدا ہونگی جس سے کاروباری سرگرمیاں پروان چڑھیں گی۔ حکومت اور پاک فوج کی مشترکہ کوششوں اور ضرب عضب آپریشن کے تحت اب کراچی میں بھی امن وامان کی فضاء پہلے سے بہت بہتر ہو چکی ہے اور کاروباری حلقہ میں معاشی سرگرمیاں پروان چڑھ رہی ہیں۔حکومت کو سالانہ بجٹ سے قبل تمام بزنس نمائندہ اداروں کی طرف سے موصول ہونے والی تجاویز کو اہمیت دینی چاہیے۔

مزید :

کامرس -