سید علی گیلانی کی طرف سے اشرف صحرائی اور ایاز اکبر کی نظربندی کی مذمت

سید علی گیلانی کی طرف سے اشرف صحرائی اور ایاز اکبر کی نظربندی کی مذمت

  

سری نگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں بزرگ حریت رہنماء سید علی گیلانی حریت رہنماؤں محمد اشرف صحرائی اور ایاز اکبر کی گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل گھروں میں نظربندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قراردیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ رہنماؤں کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر مکمل طورپر پابندی عائد ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے جو خود گزشتہ 55دنوں سے گھر میں نظربند ہیں سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے آزادی پسندوں کیلئے جمہوری حقوق اور آزادی اظہارِ رائے کو ممنوع بنادیا ہے اور وہ آر ایس ایس کی خوشنودی کیلئے ’’نظریات کی لڑائی‘‘ اور ’’گولی نہیں بولی‘‘ جیسے اپنے تمام سابقہ نعروں کو بھول گئے ہیں۔انہوں نے سوپور میں نہتے شہریوں کے قتل کے خلاف آزادای پسند قیادت کی اپیل پرکامیاب ہڑتال کرنے پر وادی کشمیر اور چناب خاص طورپر بھدرواہ اور کشتواڑ کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام آزادی پسندوں سے آج ( جمعہ کو) سوپور کی طرف مارچ کرنے کی پرزور اپیل کی، تاکہ بے گناہ اور معصوم شہداء کے لواحقین سے اظہارہمدردی اور یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کیا جاسکے۔ انہوں نے سوپور قصبے کے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ جمعہ کے مجوزّہ مارچ میں شریک ہوں اور صورتحال کا ہمت اور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کریں۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ آزادی پسند جماعتوں کی اپیل پر مقبوضہ علاقے میں کامیاب ہڑتال بھارت کے پالیسی سازوں اور خفیہ ایجنسیوں کیلئے ایک واضح انتباہ ہے کہ ان کامذموم منصوبہ بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے اور ’’دہشت گردوں کا مقابلہ دہشت گردی سے کرنے ‘‘ اور’ ’ٹارگٹ کلنگ‘‘ کی ان کی پالیسی لوگوں کے سمجھ میں آگئی ہے۔

بزرگ رہنماء نے سوپور کے عوام کے جذبہ حریت اور عزم وہمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ آزمائش کی ہر گھڑی میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ انہوں نے زندہ دِلان سوپور سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی طور خوف وہراس کے شکار نہ ہوں اور قاتل درندے کہیں نمودار ہوں تو یکجا ہوکر ان کا مقابلہ کریں۔ادھر سید علی گیلانی کی سرپرستی میں قائم فورم نے ایچ ایم ٹی زینہ کوٹ میں بھارتی فوج کی سینٹرل ریزروپولیس فورس کے اہلکاروں کی طرف سے کشمیری عوام پر ظلم وتشدد اور مکانات کی توڑ پھوڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سی آر پی ایف اہلکاروں نے بلا جواز اوربلا اشتعال طورپرگھروں میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی اور جوانوں کو بندوق کے بٹوں وحشیانہ تشدد کانشانہ بنایاجس کی وجہ سے ایک جوان سلیم خان شدید زخمی ہوا اور اس کو انتہائی نازک حالت میں ہسپتال منتقل کردیاگیا جبکہ درجنوں مکانات کی توڑ پھوڑ کی گئی اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ فورم نے عالمی برداری ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ریڈکراس سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کی موجودہ خطرناک صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔

مزید :

عالمی منظر -