اعلیٰ عدالتوں کی آئینی کارروائی

اعلیٰ عدالتوں کی آئینی کارروائی
اعلیٰ عدالتوں کی آئینی کارروائی

  

پاکستان میں اعلیٰ عدالتیں، آئین میں دیئے گئے اختیارات کے تحت، بعض اہم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی واقعات پر، از خود نوٹس لے کر، ذمہ دار اداروں اور افراد کے خلاف کارروائی کرتی ہیں۔ یہ کارکردگی، مفاد عامہ کی بہتری اور اصلاحِ احوال کی خاطر کی جاتی ہے۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ ایسے آئینی اور مثبت اقدامات پر بعض اوقات، منفی انداز کی تنقید، ذرائع ابلاغ میں دیکھنے اور پڑھنے میں آتی ہے اس مخالفانہ طرز عمل پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔ بعض اوقات کچھ لوگ، سنگین انداز کی وارداتوں میں ملوث ہو کر پر امن اور قانون کے پابند افراد کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس کارروائی پر کسی ادارے اور شخص کو، اعتراض اور ناراضگی کا ردعمل بھی ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔

انسان تو خطا کا پتلا ہے، وہ اقتدار میں آکر، کسی کے خلاف ذاتی عناد یا طمع و لالچ کی خاطر اپنے اختیار کا استعمال قانون آئین اور انصاف کے مسلمہ اُصولوں کے خلاف بھی کر دیتا ہے۔ ایسی کئی مثالیں، ہر دورِ حکومت میں سامنے آتی رہتی ہیں۔ کچھ لوگ قومی وسائل اور دولت کی خورد برد اور لوٹ مار کر کے، گھر لے جاتے ہیں۔ ان غیر قانونی کارروائیوں کو روکنا اور اُن کی حوصلہ شکنی کرنا، ہر محب وطن شخص اور متعلقہ ادارے کی ذمہ داری ہے۔ یاد رہے کہ ایسے منفی رجحانات کی بنا پر ہی وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں تا حال بڑی رکاوٹیں حائل چلی آ رہی ہیں کیونکہ بد دیانت اور بے ضمیر افراد، ملازمین اور سیاست کار، مختلف حیلوں اور بہانوں سے، ملکی دولت اور وسائل پر نقب زنی کے حربے اپناتے ہیں۔ ایسے غیر قانونی واقعات اور سنگین جرائم کی روک تھام کے لئے عدالتوں کے از خود نوٹس کے تحت کاروائیوں پر کسی کو حرف گیری نہیں کرنی چاہئے۔

مزید :

کالم -