سیلاب زدگان کیلئے بھارتی پیکج کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے، نعیم خان

سیلاب زدگان کیلئے بھارتی پیکج کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے، ...

  

سری نگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں جموں وکشمیر نیشنل فرنٹ کے چیئرمین نعیم احمد خان نے گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب زدگان کیلئے بھارت کی طرف سے حالیہ مالی پیکیج کو محض اشک شوئی اور کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی قرار دیاہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نعیم احمدخان نے جو گھر میں نظربند ہیں سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ پہلے بھارت نے سیلاب زدگان کی مدداوربحالی کیلئے بین الاقوامی امداد کو روکا اور اب خود متاثرین کی مدد سے ہاتھ کھینچ کر اصل میں کشمیریوں کیخلاف ’’اقتصادی دہشت گردی ‘‘کا مرتکب ہورہا ہے جن کی اقتصادی حالت گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ بھارت کی طرف سے اعلان کردہ حالیہ پیکج کسی بھی طرح سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے کافی نہیں ہے کیونکہ انہیں سیلاب کی وجہ سے بھاری نقصانات کا سامنا ہے ۔حریت رہنماء نے کہاکہ گذشتہ برس کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں27لاکھ تعمیرات کو نقصان پہنچا،4لاکھ ایکڑ زرعی اراضی اور4لاکھ ایکڑ پر باغات بتاہ ہو گئے ہیں۔انہوں نے اتنے بڑے پیمانے پر نقصانات کے بعد سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے بین الاقوامی امداد ناگزیر ہے کیونکہ بھارت متاثرین کی امداد میں مکمل طور ناکام رہا ہے ۔ نعیم خان نے افسوس ظاہر کیا کہ بھارت مسلسل کشمیر کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہے اور اگر وہ صرف کشمیری کے آبائی وسائل جس سے وہ فائدہ اٹھا رہا ہے کی قیمت ہی ادا کردے تو اس سے سیلاب زدگان کی بحالی ممکن ہے ۔ادھر تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے اراکین نے بھی بھارت کی طرف سے سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے اعلان کردہ امدادی پیکج کو وادی کشمیر کے متاثرین کی تضحیک قراردیا ہے۔ کشمیر کے ایوان صنعت و تجارت ، کشمیر اکنامک الائنس ، کشمیر سینٹر فار سوشل اینڈ ڈویلپمنٹ سٹڈیز ،ہاؤس بوٹ ایسوسی ایشن اور دیگر تجارتی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے اراکین نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہاکہ امدادی پیکج کے زریعے کشمیریوں کی توہین کی گئی ہے۔ بھارت نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر اور بھارتی پارلیمنٹ کے ریکن طارق حمید کارا نے بھی بھارت کے امدادی پیکج پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور پیکج کو کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی قراردیا ۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی کو مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کے ساتھ اپنے اتحاد پر دوبارہ غور کرنا چاہیے ۔ انہوں نے مذید کہاکہ انکی پارٹی کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھی کشمیریوں کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رکھا ہوا ہے ۔

مزید :

عالمی منظر -