عراق کے سنی قبائل کو داعش کے خلاف تیار کرنے کی ضرورت ہے،امریکی حکام

عراق کے سنی قبائل کو داعش کے خلاف تیار کرنے کی ضرورت ہے،امریکی حکام

  

واشنگٹن(کے پی آئی)اعلیٰ امریکی حکام نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی کے لیے عراقی حکومت کے عزم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں رواں برس موسمِ خزاں تک 24 ہزار نئے فوجیوں کی بھرتی کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہے۔امریکی وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر نے یہ بات بدھ کو واشنگٹن امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عراقی حکومت کے تمام محکموں اور شعبہ جات کی جانب سے زیادہ مصمم عزم کے اظہار کی ضرورت ہے۔انھوں نے بتایاکہ اگرچہ موسمِ خزاں تک 24 ہزار نئے فوجیوں کی بھرتی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا تاہم اب تک صرف سات ہزار فوجی ہی بھرتی کیے گئے ہیں۔ایش کارٹر نے کہا کہ امریکی تربیت کار کسے تربیت دیں جب ہمارے پاس کافی تعداد میں نئے فوجی ہی نہ ہوں۔امریکی وزیرِ دفاع نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے لیے عراق کے سنی قبائل کو بھی تیار کرنے اور ساتھ ملانے کی ضرورت پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش کثیر الفرقہ بنیادوں پر ہونی چاہیے۔امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ تعداد سے کہیں زیادہ اہم جنگ کا مقام ہے جو کہ سنی اکثریتی آبادی کے دل میں واقع ہے۔امریکہ پہلے بھی عراقی حکومت پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ ملک کے تینوں بڑے نسلی گروہوں یعنی شیعہ،سنی اور کرد آبادی کو زیادہ نمائندگی دے ۔

اور تینوں کو حکومت کا حصہ بنایا جائے۔امریکی فوج کے انسٹرکٹرز کئی ماہ سے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے فوجیوں کی تربیت اور اس سلسلے میں عراقی حکام سے مشاورت میں مصروف ہیں۔تاہم امریکی فوجی خود تاحال دولتِ اسلامیہ کے خلاف میدانِ جنگ میں نہیں اترے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -