کشتیاں کنارے پر

کشتیاں کنارے پر
کشتیاں کنارے پر

  

اس گفتگو میں ایک کلیہ ہے،جو سیاسی سرگرمیوں اور عسکری و سیاسی تعلقات کا کُل خلاصہ بھی ہے۔۔۔ ’’ہمیں تنگ مت کرو ورنہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے،میں نے فہرست بنائی تو کئی جرنیلوں کے نام آئیں گے‘‘۔۔۔یہ الفاظ سابق صدر اور کمانڈر انچیف آصف علی زرداری کے ہیں۔ جو بنیادی طور پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ’’آپ اپنا کھائیں میں اپنا کھاتا ہوں۔مجھے چھیڑا گیا تو کچھ بھی سلامت نہیں رہے گا۔ ‘‘اگر فرحت اللہ بابر کے ’’گِن گِن ‘‘کر کہے گئے الفاظ بھی دھیان میں لائیں جو وہ اکثر’’ڈی ایچ اے‘‘ کے حوالے دے دے کر فرماتے ہیں تو اس کلئے کی مکمل وضاحت ہو جاتی ہے۔ زرداری صاحب کی گفتگو کے تیور اور بدن بولی پر دھیان دیا جائے تو وہ مستعار زمین وآسمان پھونک ڈالنے اور ہنگامہ اُٹھانے کے لئے آمادہ نظر آتے ہیں ۔ انہوں نے گفتگو کے آداب کو ایک طرف رکھ کر جس ماحول اور موقع پر یہ الفاظ ادا کئے وہ ایک خاص سیاسی تناظر میں خاصے دھماکا خیز بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ آصف علی زرداری کی تمام سیاسی جمع و تفریق اُلٹ بھی ہو سکتی ہے۔ مگر یہ جمع وتفریق کیا ہے؟ آصف علی زرداری پچھلے کچھ عرصے سے واقعات کے ایک خاص بہاؤ، تناؤاور کھنچاؤ میں ہیں جسے وہ اب تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

زرداری صاحب کو پہلی بار 16 فروری 2015 کو یہ اندازا ہو سکا تھا کہ کراچی جراحت کا نتیجہ خود اُن کے خلاف بھی نہایت خطرناک طور پر نکل سکتا ہے جب گورنر ہاؤس کراچی میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اُنہیں تابڑ توڑ کئی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس اجلاس میں وزیرِاعظم ، فوجی سربراہ اور وہ خود بھی شریک تھے۔ فوجی حلقوں سے سندھ حکومت پر نااہلی کے براہِ راست الزامات عائد کئے جاتے رہے ، یہاں تک کہ خود نوازشریف نے بھی زرداری صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی جراحت (آپریشن) میں سندھ حکومت تعاون نہیں کر رہی۔اس موقع پر زرداری صاحب یہ طے کرکے اُٹھے تھے کہ ایم کیوا یم سے مفاہمت کی فضا بہر صورت برقرار رکھنی ضروری ہے اور مسلم لیگ نون کی حکومت ،سندھ حکومت کا دفاع نہیں کر پائے گی۔بعد کے واقعات میں سندھ حکومت نے ایم کیوایم کے خلاف بہت سی کارروائیوں سے علیحدہ ہونے کا تاثردانستہ طور پر مستحکم بھی کیا۔اس اجلاس میں یہ طے ہواتھا کہ پولیس تبادلے اور تقرریاں ایپکس کمیٹی کی منظوری کے بعد ہو سکیں گی۔ اس پر جزوی طور پر ہی عمل کیا جاسکا۔

انتظامیہ بھی سندھ حکومت پر اعتماد نہیں کر رہی تھی۔ اس کا ثبوت 11؍مارچ 2015کو اُس وقت ملا جب رینجرز نے نائن زیرو پر چھاپہ مارا۔ اور کراچی جراحت کے کپتان یعنی وزیرِ اعلیٰ قائم علی شاہ کو اس سے بے خبر رکھا۔وزیرِ اعلیٰ ہی نہیں پیپلز پارٹی کے دیگر مختلف ذرائع نے بھی ایم کیو ایم کو یہ باور کرایا کہ وہ اس سے مکمل لاعلم تھے۔رینجرز اور عسکری حلقے حالات کی ان کروٹوں پر نگاہ مرکوز رکھے ہوئے تھے۔چنانچہ اگلا اجلاس جب 25؍مارچ 2015 کو گورنر ہاؤس کے بجائے فیصل بیس میں ہوا تو بلی تھیلے سے مکمل باہر آچکی تھی۔ بدقسمتی سے ذرائع ابلاغ نے اپنا پورا زور اس پر صرف کئے رکھا کہ اس میں گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو شریک نہیں کیا گیا ۔اور اجلاس گورنر ہاؤس کے بجائے فیصل بیس پر ہوا۔ حالانکہ اس میں اصل خبر یہ تھی ہی نہیں۔ اصل خبر یہ تھی کہ اجلاس سے وزیراعلیٰ کو بھی عملاً دور رکھا گیا تھا۔ اُنہیں اجلاس کے بعد محض’’ شرفِ باریابی ‘‘دیا گیا تھا۔ تب اصل سوال یہ تھا کہ اگر اجلاس گورنر ہاؤس میں نہیں ہوا تو وزیراعلیٰ ہاؤس میں کیوں نہیں کیا گیا؟اگر خرابئ حالات کا علاج مقصود ہوتا تو عزیز آباد کے ضمنی انتخابات میں کان کھڑے ہو جانے چاہئے تھے۔ دیگر معاملات کو ایک طرف رکھئے۔ وزیراعلیٰ سندھ اور کراچی جراحت کے کپتان نے علی الاعلان کہا کہ اُنہیں موٹر سائیکل کی دُہری سواری پرپابندی کا علم ہی نہیں۔ بعد ازاں ڈی جی رینجرز نے بھی کہہ ہی دیا کہ اُنہوں نے ایسی کسی پابندی کا اعلان نہیں کیا۔ حقائق کچھ اور تھے۔

رفتہ رفتہ پکتے ہوئے حالات کا یہ نقطۂ عروج تھا جب کورکمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل نوید مختار نے 16؍مئی 2015 کو تمام حجاباتِ حجاب ایک طرف رکھ کر سندھ حکومت کو براہِ راست نشانا بنایا۔اور کراچی میں تمام مسائل کا سبب سیاسی اور انتظامی نااہلی کو قرار دیا۔سندھ میں تمام باخبر حلقے جانتے تھے کہ کراچی جراحت کے اہداف وسیع تر ہوررہے ہیں اوراب سندھ حکومت کو آئندہ اچھی خبریں نہ مل سکیں گی۔ چناچہ 4؍جون کو ایک کارروائی میں سیکریٹری ایکسائز اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کو دھر لیا گیا۔ اس کے صرف ایک ہفتے بعد 11؍جون کو ڈی جی رینجرز کے انکشافات کو ذرائع ابلاغ تک پہنچا دیا گیا کہ کراچی میں سالانہ 230؍ارب کی رقم مختلف غیر قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے وصول کی جاتی ہے۔اس گفتگو کا پیرایہ ایسا تھا کہ ایم کیوایم نے بھی اپنے حصے کی وضاحت کو ضروری سمجھا مگر پیپلز پارٹی وضاحت سے کئی قدم آگے گئی۔ اُس نے اِن انکشافات کو نہ صرف نشانا بنایا، بلکہ اس کی ذمہ داری بھی سرکاری اور عسکری اداروں پر بالواسطہ ڈالی۔ یہ وہ موقع تھا جب رینجرز اور سندھ حکومت آمنے سامنے آگئی۔پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں تحریک التواء جمع کرائی۔ مگر اس دوران رینجرز نے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر کو اپنی براہ راست چھاپامار کارروائی کا ہدف بنایا۔جہاں وہ منظورقادر (کاکا) کی تلاش میں گئے تھے۔ حالات کے اس بہاؤ میں کچھ ایسے واقعات بھی ہیں جو پیشِ منظر پر اُس طرح چھائے ہوئے نہیں ہیں۔ مگر جو سرگوشیوں میں دھیمے اور تردید میں کچھ اونچے سروں سے موضوعِ بحث رہتے ہیں۔ذرا اس کو بھی تازہ کرلیتے ہیں۔

*۔۔۔ایک صوبائی وزیر کے گھر سے دو ارب روپے مبینہ طور پر برآمد ہوئے ، اب اُس کی تائید سینیٹر مشاہد اللہ کی سینیٹ میں تقریر سے ہوگئی ہے۔ جس میں اُنہوں نے اس کی نشاندہی کی۔

  • ۔۔۔ایسی ہی ایک خبر مہینوں سے گردش میں ہے کہ اربوں روپے کی ایک لانچ بھی پکڑی گئی تھی۔ یہ دراصل منی لانڈرنگ کا فضیتا(اسکینڈل) تھا۔ اب اُسے عرب امارات کے دوستوں کے ذریعے ایک الگ ہی تعبیر دے دی گئی ہے۔

  • *۔۔۔تعمیراتی شعبے کے ایک کاروباری جن کے حوالے سے بھی کچھ خبریں گردش کرر ہی ہیں۔ جو زرداری صاحب اور اُن کے مبینہ تعلقات کے درمیان ماضی کے خوشگوار مراسم کی بتدریج ماند پڑتی روشنی کی عکاس ہیں۔

  • *۔۔۔عزیر بلوچ ایک بہت بڑی گواہی بن کر کبھی بھی سامنے آسکتے ہیں۔آخری اطلاعات یہ ہیں کہ وہ نہ صرف شہر میں قتل وغارت گری کی بہت سی کہانیوں کو بے نقاب کر سکتے ہیں، بلکہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد کچھ ایسے واقعات کی نشاندہی بھی کرسکتے ہیں جو پراسرار حالات میں کچھ نئے لوگوں کے قتل پر منتج ہوئے تھے۔ اس ضمن میں کچھ تفصیلات بہت ہی چونکادینے والی ہیں۔

*۔۔۔ایان علی کا معاملہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔اس کے ڈانڈے بلاول بھٹو کے والد سے جاملتے ہیں۔

*۔۔۔اگر چہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ ایک خاموش مفاہمت کے اشارے ملتے ہیں مگر یہ جن ابھی بوتل میں پوری طرح بند نہیں ہوا۔

*۔۔۔منظور قادر کاکا ،ا ب پاکستان آنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ، مگر اُن کے گرد بہت سی کہانیاں ایسی ہیں جو زرداری صاحب کو خاصی پریشان رکھ سکتی ہیں۔

اس پورے تناظر میں منظورقادر کا واقعہ اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوا ہے۔جس کے بعد آصف علی زرداری بالکل ہی پھٹ پڑے۔ اُن کی روایتی مسکراہٹ غائب ہوگئی اور’’ مفاہمت‘‘کی پالیسی بھک سے اُڑ گئی۔بقول عزیز لکھنوی:

زبان دل کی حقیقت کو کیا بیاں کرتی

کسی کا حال کسی سے کہا نہیں جاتا

مگر آصف علی زرداری نے جوکچھ کہا ہے وہ اپنے مکمل سیاق وسباق میں تشریح کے سرے سے قابل ہی نہیں سمجھا گیا۔ اور پورے ملک میں ایک ہنگامہ بپا ہوچکا ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے اُن کے بیان کو تائید کی خلعت فاخرہ پہنا دی ہے مگر عملاً خود پیپلز پارٹی کے لئے یہ فضا کچھ ایسی بن گئی ہے کہ بقول سلیم طاہر:

تم نے تو بات ہی پکڑ لی ہے

ایسا نکلا میری زبان سے کیا

اس پورے منظرنامے میں میاں نواز شریف کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ آصف علی زرداری کے ساتھ پہلے سے طے شدہ ملاقات سے اجتناب برتیں۔ گویا:

لگ گئیں کشتیاں کنارے پر

پانی اوپر ہوا نشان سے کیا

میاں نوازشریف کا آصف علی زرداری سے یہ اجتناب اگرچہ زیادہ دیر کے لئے نہیں ہوگا۔ مگر یہ خاصا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ پورا منظرنامہ قومی سیاست کی عامیانہ مساوات اور جمہوریت کے تحفظ کے نہایت کج نظر تصورات سے جڑا ہوا ہے۔جو دراصل ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ جمہوری تصورات کی تطہیر اور سیاسی وعسکری تعلقات کی نوعیت کو ایک نئے ماحول میں دریافت کیا جائے۔ اور آصف علی زرداری کی گفتگو میں موجود اُس کلئے پر نظرثانی کی جائے کہ ہر کوئی اپنی اپنی حدود میں لوٹ مار کے لئے آزاد ہو۔ اور اس لوٹ مار میں رکاوٹ کو اسلاف کی قربانیوں ، لاشوں اور جمہوریت کی تقدیس کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ کیا اس کے امکانات ہیں ؟ اس پر غور پھر کبھی۔۔

مزید :

کالم -