جھگڑا پھر چاندکا!

جھگڑا پھر چاندکا!
جھگڑا پھر چاندکا!

  

یہ تو خواہش ہے اور تھی کہ پورے ملک میں رمضان المبارک کا آغاز اور عید ایک ہی روز ہو، لیکن آج تک تو ایسا ہوا نہیں، یہاں تو ایک ہی شہر میں دو دو عیدیں ہوتی رہی ہیں چہ جائیکہ پورے ملک میں ایک ہو اور جہاں تک شمال کے بھائیوں کا تعلق ہے تو وہاں ہمیشہ سے دو طبقات رہے۔ ایک وہ ہیں جو روزہ اور عید سعودی عرب کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں، وہ برملا کہتے ہیں کہ عالم اسلام کو بیت اللہ میں ہونے والی نماز ہی کی پیروی کرنا چاہیے۔ ماضی میں ہمیں کئی تلخ تجربے بھی ہو چکے ہوئے ہیں جب فیصلہ ہی نہیں مانا گیا اور دینی رہبروں نے اپنے فتویٰ کے تحت روزہ رکھا اور عید منائی۔ اس مرتبہ وفاقی وزیر مذہبی امور بہت زیادہ مطمئن تھے اور ان کو یقین تھا کہ اس مرتبہ اختلاف نہیں ہوگا، اس سلسلے میں یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ جامع مسجد قاسم خان پشاور کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی سے بھی بات ہوگئی ان کو مرکزی روئت ہلال کمیٹی کا رکن اور ان کے نامزد دو علماء کرام اعزازی رکن ہوں گے جبکہ جامع مسجد قاسم خان میں آنے والی شہادت کے لئے انتظار بھی کیا جائے گا۔ وزیر مذہبی امور کے حوالے سے رجائیت پر مبنی خبر شائع ہوئی تو بہت اطمینان ہوا تاہم ذاتی خیال یہ تھا کہ وزیر موصوف کو حتمی فیصلہ کرکے بات کرنا چاہیے۔ ہمیں خدشہ تھا اور وہی پورا بھی ہوا کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس نے نجی طور پر چاند کا اعلان کر دیا اور مرکزی روئت حلال کمیٹی سے اتفاق نہیں کیا اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کو مختلف علاقوں سے دس شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔

مرکزی روئت ہلال کمیٹی نے بہرحال پورے ملک سے ملنے والی اطلاع اور متعلقہ محکموں کے ماہرین کی مشاورت کے بعد اعلان کیا کہ چاند نظر نہیں آیا، روزہ جمعہ 19جون کو ہوگا۔ سعودی عرب میں آج (18جون ) کو ہے جس کے مطابق جامع مسجد قاسم خان سے اعلان کیا گیا اور سعودی عرب کا اعلان بھی 17جون کو سامنے آ گیا تھا جبکہ پاکستان میں چاند 18جون (29شعبان) کو دیکھا گیا، اب اگر سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مرکزی روئت ہلال کمیٹی کا فیصلہ ہی درست ہے کہ چاندکی عمر کم ہونے کی وجہ سے پاکستان میں نظر آنے کے امکانات کم تھے۔ یوں بھی سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہمیشہ سے ایک روز کا فرق رہا کہ ہمارے وقت اور طلوع و غروب آفتاب میں بھی کافی فرق ہے جبکہ چاند کا طلوع مغرب سے ہے اس لئے یہ فرق سعودی عرب کے حق میں ہے کہ چاند پہلے وہاں نظر آتا ہے اور ایسا ہمیشہ ہوگا، لیکن ہمارے خیبرپختونخوا اور چند قبائلی زعماء ہمیشہ سے سعودی عرب ہی کی اطلاع کی متابعت کرتے رہے بلکہ یہ دلیل بھی دی کہ سعودی عرب مرکز ہے اور خانہ کعبہ کے حوالے سے سعودی عرب ہی کی پیروی کرنا چاہیے، لیکن ایسا ہوتا نہیں، تاہم یہاں اختلاف ضرور ہوتا ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ ایوب خان کی طرف سے لگائے گئے مارشل لاء کے ابتدائی دور میں سرکاری اعلان سے کوئی اختلاف نہیں کرتا تھا، اس دور میں روئت ہلال کمیٹی یقیناًتھی لیکن عید اور رمضان کا اعلان ضلعی ڈپٹی کمشنر کرتا تھا، پھر مارشل لاء ڈھیلا ہوا تو ہمارے علماء کرام میدان میں آ گئے اور ایسے مواقع بھی آئے جب ایک ہی شہر میں ہر مسلک والے کی طرف سے اپنی عید منائی گئی۔ ہمیں بطور شہری اور ایک صحافی کی حیثیت سے بہت تلخ تجربے ہیں اس کی بنیاد پر ہمیں یقین تھا کہ پوپلزئی نہیں مانیں گے۔ ہم کسی دینی اور شرعی بحث میں نہیں الجھتے یہ علماء کرام ہی کا کام ہے تاہم یہ عرض کریں گے کہ یہ وباء یورپ اور امریکہ تک چلی گئی اور اس مرتبہ پھر یورپ میں اختلاف ہوا، وہاں بھی مسلک ہی کے اعتبار سے ایسا ہوا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ جدید دور میں اس سے کیا تاثر لیا جا سکتا ہے۔ وہ یہی کہ یہ معاملہ مفادات کا بھی ہے اس لئے حل نہیں ہوگا۔ہمارے ان علماء دین کے اختلاف کی وجہ سے عید بھی بدمزہ ہو جاتی ہے کہ جو لوگ جامع مسجد قاسم خان کے فتویٰ کے پیچھے جائیں گے وہ یقیناًجلدی والے ہیں اور پورے ملک سے ایک روز پہلیوالے اعلان پر جاتے ہیں۔۔۔وفاقی حکومت کے پاس دو راستے ہیں ایک یہ کہ شمال والوں کی بات مان لی جائے چاند کا دیکھا جانا سعودی عرب سے منسلک کرے اور لوگ وہاں کے فتاویٰ کے مطابق ہی نماز، روزہ اورحج وغیرہ کے ایام منائیں یا پھر ایسے حضرات پر سختی کی جائے جو اختلاف پیدا کرتے ہیں۔

مزید :

کالم -