القطیف: جہاں پر حجر اسود کو 22 سال رکھا گیا تھا

القطیف: جہاں پر حجر اسود کو 22 سال رکھا گیا تھا
القطیف: جہاں پر حجر اسود کو 22 سال رکھا گیا تھا

  

سعودی عرب کے سنگلاخ پہاڑوں اور لق و دق صحرائی بے آب و گیاہ علاقے کے دوش بدوش کھجوروں، دیگر ثمر دار درختوں، لہلہاتے کھیتوں اور رواں دواں نہر پر واقع سرسبز و شاداب علاقہ بھی نظر نواز ہوتا ہے، یہ دہی صوبہ ہے جس کے شہر القطیف کی مسجد امام علیؓ پر خودکش حملے میں چالیس افراد جاں بحق ہو گئے تھے، اب دمام میں بھی بم دھماکے میں چار افراد کے انتقال کی خبر آئی ہے جو تشویشناک ہے القطیف ایک تاریخی شہر ہے اس میں قلعہ اور عجائب گھر بھی موجود ہے جس میں قدیم دور کی تلواریں ہیں۔ نیز حضرت امام حسین بن علیؓ کے دور کی تلوار اور سونے کے نادر سکے بھی ہیں۔ علاوہ ازیں عجائب گھر میں قدیم مخطوطات اور القطیف، تاروت، اور دارین وغیرہ مقامات کی تاریخ پر مبنی کتب بھی موجود ہیں۔

تاریخ مکہ معظمہ میں القطیف کا پرانا نام الھجر لکھا ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ شام سے سرزمین مقدس مکہ معظمہ کی جانب سفر کے دوران اسی مقام الھجر کے راستے سے گزر ہوا تھا، اس سے ملحق علاقہ مردم خیز بھی ہے اور دیگر بہت سے امور کی اہمیت کا حامل بھی، اسی مقام سے متصل جزیرہ، دارین میں محمد بن عبدالوہاب پاشا کا محل ہے جو لؤلؤ اور مرجان وغیرہ قیمتی موتیوں کے بڑے تاجر تھے اس کی بندر گاہ سے مچھلیوں کا شکار کرنے دُور دُور سے لوگ آتے ہیں۔ ’’القطیف‘‘ کسی زمانے میں بحرین کا دارالحکومت تھا، یہ مقام سعودی حکومت کی زرعی تجربہ گاہ ہے، الخبر اور الدمام بندر گاہوں کے قریب واقع ہے اس مقام کی بابت حضرات صحابہ کرامؓ کا خیال تھا کہ مکہ معظمہ سے ہجرت کرنا پڑی تو یہ مقام سب سے زیادہ موزوں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ شرف و اعزاز مدینہ منورہ کو عطا فرما دیا۔ محسن انسانیت سید نا محمدؐ نے اس علاقے کے نیک بخت حکمراں ’’اُسی بخت‘‘ الھجر کے سردار کے نام بھی اپنے مکتوب اقدس میں اسلام کی دعوت دی تھی جس پر اس نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سید نا محمدﷺ کے مکتوب اقدس کا مفہوم درج ذیل ہے،بسم اللہ الرحمٰن الرحیم محمدؐ رسول اللہ کی جانب سے ’’اُسی بخت بن عبداللہ مرزبان‘‘ ہجر کے نام۔ اقرع آپ کا خط لے کر آیا اور آپ کی قوم کی سفارش کی، میں نے اس سفارش کو قبول کر لیا ہے، آپ نے جو سوال کیا اور جو کچھ طلب کیا گیا ہے اسے بھی میں نے منظور کر لیا ہے۔ آپ کی مرضی کا خیال رکھا جائے گا لیکن مناسب یہ ہے کہ آپ اپنے حالات کی تشریح کر دیں۔ آپ اگر یہاں پر آ جائیں تو عزت و تکریم کا اعزاز دیا جائے گا اگر نہ آ سکیں تب بھی میرے دل میں آپ کی بڑی عزت ہے، آپ نے ہدیہ بھیجنے کا ذکر کیا ہے میں کسی بھی مادی چیز کا طالب نہیں ہوں، ویسے ہدیہ ارسال کریں گے تو بخوشی قبول کروں گا۔ میرے نمائندوں نے آپ کے بلند مرتبے کا ذکر کیا ہے میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نماز، زکوٰۃ اور مسلمانوں کے حقوق کا پورا خیال رکھا جائے۔ میں نے آپ کی قوم کا نام ’’بنو عبداللہ‘‘ تجویز کیا ہے، آپ لوگوں کو نماز اور اچھے کاموں کا حکم دیں اور اپنے لئے بشارت حاصل کریں ’’والسلام علیک و علی قومک المومنین (طبقات ابن سعدؓ) ’’القطیف‘‘ کے تذکرے میں ایک تاریخی حادثے اور خطرناک حملے کا حوالہ دینا بر وقت معلوم ہوتا ہے کہ 317ھ میں اسی علاقے کے ایک بد بخت اور شیطان کے نمائندہ ابو طاہر قرمطی نے اپنے پچاس سے زائد مسلح گروہ کے ساتھ ایام حج کے دوران مکہ معظمہ کی مسجد الحرام پر حملہ کر کے دروازوں پر متعین پہرے داروں کو شہید کر کے حرم شریف کے اندر موجود طواف اور عبادت کرنے والے حجاج کرام کو شہید کر کے چاہ زمزم لاشوں سے بھر دیا تھا۔ پھر وہ بیت اللہ شریف کی دیوار میں نصب حجر اسود کو نکال کر اپنے ساتھ ’’القطیف‘‘ لے گئے تھے اور 22 سال تک بیت اللہ شریف حجر اسود سے محروم رہا تھا، القطیف کے جس مقام پر حجر اسود رکھا گیا تھا وہ شہر سے آٹھ کلومیٹر باہر دشوار گزر مقام پر واقع تھا تاکہ مسلمان بآسانی حاصل نہ کر سکیں۔ راقم الحروف (مجاہد الحسینی) نے 1972ء میں شاہ فیصل شہید کی دعوت پر سعودی عرب کا مشاہداتی دورہ کرنے والے سات صحافیوں (مولوی محمد سعید ایڈیٹر پاکستان ٹائمز، ضیاء الاسلام انصاری ایڈیٹر مشرق، شورش ملک روزنامہ جنگ، مصطفیٰ صادق ایڈیٹر وفاق، سید قمر الزماں شاہ ایڈیٹر ہلال پاکستان حیدر آباد، اور حفیظ الرحمن (اے پی پی ) کی رفاقت میں سعودی عرب میں تیل کے بڑے مرکز ’’راس التّنورہ‘‘ سے واپسی پر القطیف کا بھی مشاہدہ کیا تھا، یہ علاقہ سرسبز و شاداب ثمرہ دار درختوں اور مختلف انواع کی سبزیوں کا مرکز ہے اس وقت تو ہمیں حجر اسود کے مقام کی تصویر دستیاب نہ ہو سکی بعد ازاں العربی کویت کے ایڈیٹر کے تعاون سے اس جگہ کی تصویر فراہم ہو گئی تھی جسے میں نے اپنی کتاب سیرت و سفارت رسولؐ (اول صدارتی ایوارڈ یافتہ! 1995ء میں پہلی مرتبہ شریک اشاعت کیا تھا۔

بہر نوع ’’القطیف اور الحسا‘‘ کا علاقہ خوشنما مناظر کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ جعفریہ کا عقیدہ رکھنے والے شیعہ حضرات کی کثیر تعداد کا خطہ بھی ہے، حجر اسود کو بیت اللہ شریف سے اُکھاڑ کر القطیف کے کنوئیں میں 22 سال تک رکھا گیا تھا تاکہ اس کنوئیں کو ’’چاہ زمزم‘‘ کا درجہ دیا جائے (نعوذ باللہ) اس پر عذاب اور مصیبتیں آنے لگیں تو حجر اسود کو 339ھ کو خود ہی واپس لا کر نصب کر دیا تھا، لیکن اس حالت میں کہ پتھر کو کوئلوں سے دہکتی آگ میں ڈال کر اسے پگھلانے کی مذموم کوشش کی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اسے بچا لیا چنانچہ حجر اسود کے ٹکڑے لا کر اور دیگر ناقابل شکستگی ملغوبے میں چاندی کے گول حصار میں اسے بیت اللہ شریف کے ایک کونے میں اسی مقام پر نصب کر دیا گیا تھا جہاں کہ محسن انسانیت سید نا محمدؐ نے قبل از نبوت اپنے دست مبارک سے نصب فرمایا تھا۔

اس جذبات خیز اور افسوسناک واقعے کے علاوہ بھی اسلام دشمن اور مسلم کش طاقتوں کی سازش سے بیت اللہ شریف کو نقصان پہنچانے اور امت مسلمہ کے مرکز مسجد الحرام کا راستہ روکنے کی سر توڑ کوشش کی گئی تھی مگر صدیاں گزر جانے کے باوجود بیت اللہ شریف کی عظمت و احترام میں سرمُو فرق نہیں آیا ہے؂

دُنیا کے بُت کدے میں پہلا وہ گھر خدا کا

ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا

القطیف کے فسادیوں نے جن دنوں میں بیت اللہ پر حملہ کر کے حجاج کرام کو شہید کیا اور کدالوں سے حجر اسود کو اُکھاڑ کر لے گئے تھے اس وقت اُمت مسلمہ مادی اسباب سے تہی دست تھی آج جبکہ مسلم مملکت پاکستان دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی طاقت اور ناقابل تسخیر فوجی قوت سے بھرپور آراستہ ہے اور سعودی حکومت کو بھی اللہ نے بے شمار دولت و سرمائے سے سرفراز کیا ہے انہیں فساد انگیز دہشت گردوں اور اچانک حملہ آوروں سے بے خبر نہیں رہنا چاہئے اور ہر وقت بیدار اور چوکس رہ کر دشمنان اسلام کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دینے میں غفلت اور کوتاہی سے کام نہ لینا چاہئے۔

اخبارات میں خلاصہ۔۔۔ تراویح کی اشاعت کا مسئلہ

رمضان المبارک کے دوران اکثر اخبارات تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کریم کی آیات کا خلاصہ عام اخباری صفحات پر شائع کر رہے ہیں یہ آیات کریمہ مع متن اردو زبان میں شائع کی جاتی ہیں، اس عنوان سے گذشتہ سال بھی اخبارات کے ایڈیٹروں کے نام یہ تجویز اور اپیل ارسال کی گئی تھی کہ اخبارات کی ترتیب و اشاعت میں دور حاضر کے تقاضے اور ضرورت کے مطابق اہم تبدیلیاں بروئے کارلائی جاتی ہیں، اس کے مطابق اخبارات کو قرآنی آیات کریمہ کا خلاصہ عام اخباری صفحات پر شائع کرنے کے بجائے چھوٹے سائز کے رسالے کے طرز پر شائع کرنا چاہتے تاکہ انہیں اکٹھا کر کے جلد بنائی جا سکے اور ہر وقت مطالعہ میں رہ سکے موجودہ صورت میں قرآن کریم کی آیات کا خلاصہ عام اخبارات کے صفحات پر شائع کرنے پر آیات کریمہ بھی ردی اخبارات میں شامل ہو جاتی ہیں اور زمین پر بکھر جاتی ہیں جو قرآن کریم کی توہین کے زمرے میں آتا ہے اس سے اجتنات کرنا چاہیئے۔ نیز اخبارات میں اشاعت پذیر خلاصہ قرآن کریم عام لوگوں کے استفادے میں بھی نہیں آتا اور نہ ہی اسے کوئی پڑھتا ہے، اس سے تو خلاصہ نہ شائع کرنا بہتر ہے، اور اگر کرنا ہے تو اسے چھوٹے سائز کے رسالے کے مطابق پندرہ پندرہ سپاروں پر مشتمل دو جلدوں میں شائع کیا جائے تاکہ اس سے ہر وقت استفادہ کیا جائے اور مطالعہ میں آتا رہے۔

مزید :

کالم -