آخر اس تقریر کی ضرورت کیا تھی؟

آخر اس تقریر کی ضرورت کیا تھی؟
آخر اس تقریر کی ضرورت کیا تھی؟

  

پاکستانی اکثر سیاست دان موقع کے لحاظ سے الفاظ کے چناؤ میں ناکام رہتے ہیں۔ خواجہ آصف نے جس انداز میں پاکستان ہجرت کر کے آنے والوں کی تشریح کی ہے ، ملک کے وزیر دفاع ؑ کی حیثیت سے انہیں اس سے اجتناب برتنا چاہئے تھا۔ دوران ہجرت بھارتی پنجاب سے آنیو الوں نے جن مصائب کا سامنا کیا تھا ، اسے یاد دلانے کی ضرورت نہیں تھی۔ بھارت کے دیگر علاقوں سے آنے والوں میں بہار کے لوگوں کو ایک بار نہیں، دو بار ہجرت سے واسطہ پڑا، اور جیسا تکلیف دہ واسطہ پڑا، اسے اب یاد کر کے آنسو بہانا اہم نہیں ہے۔ بہار میں 1946 میں آتش زدگی کے بڑے واقعات نے برصغیر کے سیاسی رہنماؤں کو ہلا دیا تھا۔ حد تو یہ ہے کہ سندھ سے بھی اکابرین بہار پہنچے تھے تاکہ متاثرین کی دلجوئی کر سکیں اور انہیں تنہائی کا شکار ہونے سے بچا سکیں۔ ان واقعات نے لوگوں کو مشرقی پاکستان کی طرف دکھیل دیا تھا۔ مسلمانوں کے علیحدہ ملک کے قیام کے دوران ہجرت کرنے والے لوگوں نے طرح طرح کے مصائب کا سامنا کیا۔ کسی علاقے کے لوگوں کو پورے پورے خاندانوں کی قربانی دینا پڑی۔ کہیں کے لوگ کم قربانی دے کر نئے ملک پہنچے تھے۔ یہ تمام لوگ جو ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے، سوال یہ ہے کہ کیا چاہتے تھے۔ وہ لوگ ہندوستان میں بھی تو اپنے آبا و اجداد کے وقت سے وقت گزار رہے تھے۔ پھر پاکستان کیوں آئے تھے۔ یہ بحث طلب سوال ہے۔ یہ نہیں کہ مہاجر کون ہے یا کون نہیں ہے۔ اگر خواجہ آصف کی تشریح پر بحث کی جائے تو انہیں یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ مغربی پنجاب آنے والے زبان کی وجہ سے رچ بس اور گھل مل گئے جو مشرقی پاکستان یا سندھ میں نہیں ہو سکا ۔

مشرقی پاکستان میں بسے ہوئے لوگوں کو ڈھاکہ سرنگوں ہونے کے بعد تین کپڑوں میں جان بچا کر بھاگنا پڑا تھا۔ جو نہیں بھاگے تھے وہ آج بھی بنگلہ دیش میں پاکستانی پرچم اپنے سینوں سے لگائے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پنجاب میں لوگ ضرور خوش حال ہیں کیوں کہ پنجاب میں مہاجروں کو اس امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا جیسا امتیازی برتاؤ سندھ میں حکومتوں کے ہاتھوں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ خواجہ آصف کو چاہئے کہ کراچی آکر کچھ عرصے قیام کریں تاکہ انہیں اندازہ ہو سکے کہ ہجرت سے پیدا شدہ صورت حال سے آج بھی خاندانوں کے خاندان نبرد آزما ہیں۔ ان کے روز و شب کس طرح گزر رہے ہیں اور انہیں کن مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے والدین اور بڑوں کو تو ایک ہی شکایت ہوگی کہ بھارت میں قیام پاکستان سے قبل انہیں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا رہتا تھا لیکن آج تو انہیں عقیدے کے ساتھ ساتھ زبان کی بنیاد پر بھی امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ آواز بلند کرتے ہیں۔ جس کا ادراک وفاقی حکومت میں بیٹھے ہوئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کو کبھی نہیں ہو سکا ہے۔ وہ اس کراچی کو دیکھتے ہیں جو ہر وقت چمکتا رہتا ہے، جہاں بڑے بڑ ے محل نما مکانا ت موجود ہیں ، جہاں زندگی تھرکتی رہتی ہے۔ خواجہ آصف جیسے سیاست دان اس زندگی سے نابلد ہیں جو کراچی میں ہی سسکتی رہتی ہے۔ اسی زندگی کا انہیں جائزہ لینا چاہئے۔ ایم کیو ایم یا غیر ایم کیو ایم کا معاملہ نہیں ہے۔ لوگ حق حکمرانی چاہتے ہیں۔ حکمرانی میں اپنا عملی حصہ چاہتے ہیں۔ جب تک انہیں یہ حق نہیں ملے گا وہ چیختے ہی رہیں گے اور خواجہ آصف جیسے لوگ بیانا ت ہی دیتے رہیں گے جن سے دا نستہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ ایسے بیانات مسائل کے حل میں معاون ثابت نہیں ہوتے ہیں۔

پاکستانی سیاست بھی عجیب ہے لیکن کیا کیجئے۔ آصف زرداری کے بیان کو ہی لے لیں۔ انہیں کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ اتنا سخت بیان دیتے۔ عین ممکن ہے کہ کراچی میں رینجرز اپنی کارروائیوں میں اپنی حدود سے تجاوز کر گئی ہو لیکن اس پر بند کمرے میں بھی تو گفتگو کی جا سکتی تھی بجائے اس کے کہ ایسا بیان دیا جاتا جسے اکثر سیاست دانوں نے فوج کے خلاف بیان کا نام دیا ہے۔ ’’ اینٹ سے اینٹ ‘‘ بجا دینے کی دھمکی آصف زرداری کی پسندیدہ دھمکی نظر آتی ہے، جب 2008 میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز ضلع ٹھٹہ سے کیا تھا تو بھی انہوں نے یہ ہی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر انتخابی نتائج میں ہیر پھیر کیا گیا تواسلام آباد کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ پیپلز پارٹی کو اقتدار مل گیا تھا، وہ صدر پاکستان بھی منتخب ہو گئے تھے۔ وہ صدر تھے، پیپلز پارٹی کا منتخب نمائندہ وزیر اعظم تھا لیکن وہ اس وقت بھی ایسٹبلشمنٹ سے مطمئن نہیں تھے۔ 16 دسمبر 2009 کو سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دیا تھا۔ 17 دسمبر کو حیدرآباد کے صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات میں جب کہا گیا تھا کہ وہ کیوں نہیں عوام سے رابطہ میں رہتے ہیں اور دورے کیوں نہیں کرتے ہیں تو جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلا م آباد ایسی جگہ ہے جہاں ہر وقت چھوٹے بڑے اژدھے نکلتے رہتے ہیں اس لئے اسلام آباد سے نکلنے کا وقت ہی نہیں ملتا ہے۔

آصف علی زرداری سے زیادہ کسے علم ہوگا کہ 2008ء سے 2013ء وفاقی حکومت اور سندھ میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کیسی تھی۔ ہر محکمہ پر سوالیہ نشان لگے ہوئے تھے۔ خود ان کے وزراء کی کارکردگی ان کی اور پارٹی کی کردار کشی کا سبب بن گئی تھیں۔ ان کے نامزد کردہ ایک وزیر اعظم کو راجہ رینٹل نہ کہا جا رہا ہوتا۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد قیاس کیا جاتا تھا کہ پیپلز پارٹی اب اپنی طرز حکمرانی میں تبدیلی لائے گی لیکن مفادات کے پیش نظر ایسا نہیں ہوسکا۔ بجائے اس کے کہ صورت حال بہتر کی جاتی، اسے مزید تماشہ بنا دیا گیا۔ سندھ میں بحریہ ٹاؤن کی اسکیموں میں کس کی کتنی حصہ داری ہے، یہ بات زبان زد خاص و عام ہے۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول کی سربراہی منظور قادر کاکا نامی جس شخص کو دی گئی ہے وہ کیا کیا ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ اسے کس کو کتنا حصہ روز انہ کی بنیاد پر پہنچانا پڑتا ہے۔ ریگستانی علاقے تھرپارکر میں کڑوے پانی کو میٹھا کرنے والے منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے لوگ کیا کہتے ہیں جن کے آر او پلانٹ ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ بر ملا کس کا نام لیتے ہیں کہ کمپنی کو انہیں کتنا حصہ دینا پڑتا ہے۔ یہ ساری معلومات آ صف زرداری کے علم میں ہونی چاہیں تاکہ وہ اپنی حکومت کی نیک نامی کی خاطر ہی معاملات کو درست کر سکیں۔ کوئی اور کیا کردار کشی کرے گا جب ان کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ذوالفقار مرزا جیسے سابق دوست بار بار جو کچھ کہتے پھرتے ہیں۔ ماڈل ایان علی تو بہر حال ایک باہمت عورت ہے جو ہر طرح کی ترغیب کے باوجود اب تک اپنی زبان بند رکھے ہوئے ہے۔ لیکن عدالت اور جیل کے درمیان بار بار کے چکر اسے کبھی تو زبان کھولنے پر مجبور کر دیں گے اور اس دن ایک سلطانی گواہ پیدا ہوجائے گا۔ سلطانی گواہ تو اور بھی بہت سارے لوگ بن جائیں گے۔ اربوں روپے کمانے والے اور کما کر دینے والا منظور قادر بھی تو سلطانی گواہ ہی بنے گا۔

آصف زرداری کی یہ دھمکی کہ وہ جرنیلوں کی فہرست جاری کردیں گے ، موجودہ جر نیلوں کی صحت پر اثرانداز نہیں ہوتی ۔ آصف زرداری فوج سے دانستہ پنجہ آزمائی کر رہے ہیں وہ ایک جانب تو کسی ممکنہ کارروائی کے خلاف قبل از وقت پیش بندی کہلا سکتی ہے یا پھر پیپلز پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو یہ ثابت کر کے بچایا جا سکے کہ وہ جرنیلوں سے بھی ٹکر لے سکتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے عناصر تو موجود ہیں جو فوج کو ملک کے اندر بھی کسی نہ کسی کے ساتھ بر سر پیکار دیکھنا چاہتے ہیں۔ آصف زرداری ان ہی عناصرکی قیادت بھی کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ عناصر اچھی طرح جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کتنے پانی میں ہے۔ پیپلز پارٹی میں کارکنوں کو چھوڑ کر سارے ہی دودھ پینے والے مجنوں ہیں۔ کارکن موجودہ حالات میں آصف زرداری کی اپیل پر وہ کچھ نہیں کر سکیں گے جو وہ ماضی میں کرتے ر ہے ہیں۔ اسی لئے آصفٖ زرداری اور پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کو سوچ سمجھ کر قدم آٹھا نا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آزمائش کے دوران ہی ہاتھ ملنا پڑ جائیں ۔

مزید :

کالم -