رمضان اور ٹریفک!

رمضان اور ٹریفک!

  

ٹریفک کے نظام کی بہتری کے تمام دعوے کاغذی ثابت ہوئے اور ٹریفک وارڈنز نے بالکل لاپرواہی اختیار کرلی ہے، اس کا نوٹس تو عدالت عالیہ کے فاضل جج نے بھی لیا ہے۔ لاہور میں گاڑیوں کے دباؤ کی وجہ سے پہلے ہی ٹریفک جام ہوتی رہتی ہے کہ اب مختلف اہم مقامات (فیصل چوک228 سروسز ہسپتال) پر دھرنوں اور مظاہروں کی وجہ سے حالت اور بھی خراب ہو گئی ہے۔جہاں تک ٹریفک وارڈنز حضرات کا تعلق ہے تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ بھی احتجاج پر ہیں، ٹریفک کی بحالی پر توجہ نہیں دیتے بلکہ چوراہوں سے دور دو دو چار چار کی ٹولیوں میں کھڑے موبائل پر باتیں کرتے یا پھر لوگوں کے چالان کرتے ہیں، نتیجے کے طور پر نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ ٹریفک جام کے عام مناظر بھی نظر آتے ہیں۔ لوگوں کو منزل پر پہنچنے کے لئے متبادل راستے بھی نہیں ملتے۔ اگر ٹریفک وارڈن توجہ دیں تو صورت حال بہتر ہو سکتی ہے لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا۔ حکام بالا کو اس امر کا نوٹس لینا چاہئے آج سے رمضان المبارک کا آغاز ہو گیا ہے، افطار سے قبل سبھی گھروں کو جانا چاہیں گے۔ ان اوقات میں بڑی افراتفری ہوتی ہے۔ ٹریفک حکام کو بہت منصوبہ بندی سے ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنا ہوگا ٹریفک وارڈنز کے روئے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مرتبہ عوام کو زیادہ پریشانی ہو گی۔ عوام نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ آٹے پر سبسڈی کے ساتھ ایسے انتظامی امور کی طرف بھی توجہ مبذول کریں۔

مزید :

اداریہ -