رمضان المبارک

رمضان المبارک

  

ڈاکٹر شازیہ سحر

رمضان المبارک قمری مہینوں میں سے نواں مہینہ ہے قرآن مجید میں رمضان المبارک کو بہت اہمیت حاصل ہے ، اور رمضان المبارک ہی وہ بابرکت مہینہ ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ رمضان کے مہینے میں قرآن مجید نازل کیا گیا ،اس مہینے میں ایک رات (لیلتہ القدر ) ایسی آتی ہے جو ہزار راتوں سے افضل ہے۔ (القدر :3) حصرت سلمان ؒ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ؐ نے شعبان کی آخری تاریخ کو فرمایا کہ تمہارے اوپر ایک اور مہینہ آرہا ہے جو بڑا مبارک مہینہ ہے اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزے کو فرض فرمایا۔ جوشخص اس مہینے میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے وہ ایسا ہے جیسے غیررمضان میں فرض ادا کیا اور جو شخص کسی فرض کو ادا کرے وہ ایسے ہے جیسے غیررمضان میں ستر فرض ادا کرے، یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے۔ اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔‘‘ حدیث مبارکہ میں ہے کہ رمضان ایسا مہینہ ہے کہ اس کے اول حصے میں اللہ کی رحمت برستی ہے، درمیانی حصہ گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے اور اس ماہ کے آخری حصہ میں دوزخ کی آگ سے آزادی حاصل ہوتی ہے۔ رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے کہ رمضان کی جب پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین کو بند کردیا جاتا ہے اور سرکش جنوں کو بھی بند کردیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور ایک بہشت کے دروزے کھول دیئے جاتے ہیں اور ایک آواز دیتا ہے۔ اے نیکی کے طالب آگے بڑھ کہ نیکی کا وقت ہے اور بدی کے چاہنے والے بدی سے رک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے بازرکھ۔ کیونکہ یہ وقت گناہوں سے توبہ کرنے کا اور ان کو چھوڑنے کا ہے روزہ وہ عظیم فریضہ ہے جس کو رب نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ اور اجر بغیر کسی واسطہ کے بذات خود روزہ دار کو عطاکریں گے۔ رمضان مبارک کو عام طور سے مصروف مہینہ بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس ماہ مقدس میں اللہ کے نیک بندے اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اس کی عبادت اور اس کے احکام کی تکمیل میں گزارتے ہیں اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ حدیث قدسی میں ارشاد ہے ’’الصوم لی و انا اجزی بہ‘‘ یہ روزہ میرا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔ حضورؐ نے فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی بو سے زیادہ پسندیدہ ہے ، گویا روزہ دار اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوجاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت کو شروع سال سے آخر سال تک رمضان مبارک کی خاطر آراستہ کیا جاتا ہے۔ خوشبوؤں کی دھونی دی جاتی ہے۔ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہواچلتی ہے۔ جس کا نام مشیرہ ہے۔ جس کے جھونکوں کی وجہ سے جنت کے درختوں کے پتے اور کواڑوں کے حلقے بجنے لگتے ہیں جس سے ایسی سریلی آواز نکلتی ہے کہ سننے والوں نے اس سے اچھی آواز کبھی نہیں سنی۔ پس خوشنما آنکھوں والی حوریں اپنے مکانوں سے نکل کر جنت کے بالاخانوں میں کھڑی ہوکر آواز دیتی ہیں کہ ہے کوئی اللہ کی بارگاہ میں ہم سے منگنی کرنے والا تاکہ حق تعالیٰ شانہ اس کو ہم سے جوڑدیں پھر وہی حوریں جنت کے داروغہ سے پوچھتی ہیں کہ یہ کیسی رات ہے وہ لبیک کہہ کر جواب دیتے ہیں۔ اے خوب صورت اور خوب سیرت عورتوں پہ رمضان مبارک کی پہلی رات ہے جو اور حق تعالیٰ شانہ رضوان (جنت کے داروغہ) سے فرماتے ہیں اے جنت کے دروازے محمدؐ کی امت کے روزہ داروں کے لئے کھول دو ، اور جہنم کے دروغہ مالک سے فرماتے ہین حضرت محمدؐ کی امت کے روزہ داروں پر جہنم کے دروازے بند کردو۔

روزہ ہمیں کیا دیتا ہے اور روزے کا مقصد کیا ہے ؟ ہم روزے کو کیا دے رہے ہیں۔ اگر ہم سوچیں تو روزہ ہمیں بہت کچھ دے رہا ہے، دنیا کی برکتیں خدا کی قربت۔

روزے کا مقصد انسان کی روحانی تربیت ہے۔ قرآن مجید میں ارشادخداوندی ہے:

اے ایمان والو !تم پر رمضان کے روزے فرض کئے گئے جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن سکو۔

معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے کا مقصد متقی بننا ہے ہمارا خدا چاہتا ہے کہ ہم ایک ماہ میں تربیت حاصل کرکے پرہیز گار بن جائین، ہمارے پیش نظر صرف خدا کی رضاکا حصول ہونا چاہئے۔ ہمیں روزے میں نرم لہجہ میں رہنا چاہئے بعض لوگ روزے میں چڑچڑے پن کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنے کاموں کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ روزے کی روح کے سراسر خلاف ہے اس رویے سے ہم خدا کی رضا حاصل کرنے کی بجائے اس کی ناراضگی مول لے لیتے ہیں جو یقینی خسارے کا سودا ہے۔ ایمان والوں کو اس بات پر دھیان دیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہرسال میں ایک دفعہ صبح سے شام تک کھانے پینے اور بری باتوں سے دور رہنے کو کیوں منع کرتا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے(روزہ میرے لئے اور میں ہی اس کی جزادوں گا ) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم میرے لئے بھوکے رہتے ہو دن رات میرے حکم کے مطابق گزارتے ہو، میرے حکم کی تکمیل کرتے ہو، اس کا اجر صلہ میں دوں گا ، وہ صلہ کیا ہوگا اس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔

اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ عبادت گزاربنیں تاکہ بعد میں فرشتوں (ملائکہ) سے فخر کے ساتھ یہ کہیں ۔ دیکھو یہ میرے فرمانبردار اور عبادت گزار بندے ہیں جو میری رضا کے حصول کی خاطر عبادت کررہے ہیں۔

رمضان میں جہاں بے شمار رحمتیں برکتیں ہیں وہیں اس ماہ مبارک کے ہمارے انفرادی اجتماعی زندگی پر جسمانی روحانی، اخلاقی، ظاہری، باطنی غرض بے شمار مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ رمضان کا چاند نظر آتے ہی ہمارے معاشرے میں ہرطرف نیکی اور بھلائی کا نور پھیل جاتاہے۔ مسجد سے اذان کی صدا بلند ہوتے ہی وہ لوگ جو سارا سال مسجد و نماز سے دور رہتے ہیں۔ اپنے سروں پر ٹوپیاں پہنے رومال اوڑھے پورے خلوص کے ساتھ مسجد کی طرف چل پڑتے ہیں۔ اس موسم میں انسان کوخود ہی لہو و لعب اور دیگر برائیوں سے نفرت ہوجاتی ہے ۔ اس کا رجحان نماز روزے کی طرف مسلسل بڑھتا چلا جاتاہے۔ دن مبارک دنوں میں سال بھر گناہ کرنے والے لوگ اللہ سے رحمت و مغفرت طلب کرتے ہیں اور ایک عجیب نورانی منظر دکھائی دیتا ہے۔ کتنے ہی لوگ اس ماہ کی برکت سے ہمیشہ کے لئے نمازی اور نیک بن جاتے ہیں ۔ گویا رمضان میں اتنی زیادہ رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں جو ہماری عقل وشعور سے بھی زیادہ ہیں۔ اس لئے اللہ کے رسول ؐ نے ارشاد فرمایا اگر میری امت کو اس بات کا پتا چل جائے کہ رمضان کیا ہے۔ تو وہ تمنا کرے کہ کاش !سارا سال رمضان ہی رہے۔ (ابن خزیمہ)

رسول اللہ ؐ نے فرمایا : جس نے روزہ دار کو روزہ افطار کرایا اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا روزہ دار کے لئے ہوگا اورروزہ دار کے اجر میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔ (سنن الترمذی :807)

زبیر بن حرب، سفیان بن عینیہ ابی زناد، اعزج، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ جب تم سے کوئی روزے کی حالت میں صبح کرلے تو نہ تو وہ کوئی بے ہودہ بات کرے نہ ہی کوئی جہالت کا کام کرے تو اگر کوئی اسے گالی سے یا اس سے لڑے تو اسے چاہئے کہ وہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -