روزے کے مقاصد اور برکات

روزے کے مقاصد اور برکات

  

رشید احمد رضوی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو روح اور جسم کا مجموعہ بنایا ہے ۔ جس طرح انسان کھانے پینے کی کمی سے جسمانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے اس طرح روحانی غذا کی کمی سے روحانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے جہاں دنیا میں انسان کے لئے طرح طرح کی اشیائے خورد نوش پیدا کی ہیں وہاں ہماری روحانی قوت کے لئے بھی بہت احکامات ارشاد فرمائے ہیں۔ انہی عبادات میں روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کو جسمانی و روحانی دونوں قوتوں کی مضبوطی عطاء کرتا ہے۔ کہ انسان اس عظیم عبادت پر عمل کرکے اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرسکتا ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے۔

ترجمہ:اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے

جیسے کہ اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں

پرہیز گاری ملے۔

ایمان والوں سے ارشاد ہے کہ روزے صرف تم پر ہی فرض نہیں ہوئے بلکہ تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے۔ البتہ ان کی نوعیت مختلف تھی اور تم پر اس لئے فرض کئے گئے کہ تم متقی اور پرہیز گار ہو جاؤ تقویٰ کے معنی ہیں احکام خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم ہو جائے دل سراپانیاز بن کر بارگاہ رب العزت میں جھک جائے اور اعضائے بدن اطاعت و فرمانبرداری کی مجسم تصویر بن جائے۔

ارشاد ہوتا ہے کہ

ترجمہ: گنتی کے دن ہیں۔

انسان کو ہر وقت لاکھوں نعمتیں دینے والا خالق و مالک یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ سال بھر میری نعمتوں سے لطف اندوز ہونے والا انسان میرے حکم اور میری رضا کی خاطر صرف گنتی کے چند دنوں میں کچھ وقت کے لئے انہیں چھوڑ سکتا ہے یا نہیں۔ روزہ رکھنے سے صبروتحمل کی عادت پڑتی ہے، روزہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکرکا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور روزہ کے ذریعے خدا تعالیٰ کی شکر گزاری کا موقع ملتا ہے ۔ روزے سے انسان کی عقل کو نفس پر پورا پورا غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ روزہ سے جہاد کی تربیت حاصل ہوتی ہے اور روزہ سے چشم بصیرت کھلتی ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت ، درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کی ہر رات تین بار فرماتا ہے کہ ہے کوئی سائل کہ اس کا سوال پورا کروں ۔ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کروں۔ ہے کوئی اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنے والا کہ اس کے گناہ معاف کردوں۔

احادیث مبارکہ میں اس ماہ مقدس کے چار نام ہیں -1 ماہ رمضان -2 ماہ صبر-3 ماہ مواسات اور -4 ماہ وسعت رزق۔

-1 روزہ کی فرصیت کے وقت یہ مہینہ سخت گرمی کے موسم میںآیا۔ گرمی میں رو زہ دار پیاس کی شدت محسو س کرتا ہے اس لئے اس کو رمضان کہتے ہیں۔-2 روزہ صبر کرنے کا نام ہے جس کی جزا اللہ تعالیٰ خود دے گا ۔-3 مواسات کے معنیٰ بھلائی کرنے کے ہیں اس ماہ مبارک میں لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا باعث ثواب ہے۔-4 اس ماہ مبارک میں رزق بڑھا دیا جاتا ہے اس لئے ماہ وسعت رزق کہا جاتا ہے۔

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہر چیز کی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔آقائے دو جہاں حضور اکرم ﷺ کا فرمان عالی شان ہے میری اُمت کو رمضان شریف کے ماہ مبارک میں پانچ باتیں عطاء ہوئیں ۔ جو پہلے کسی اُمت کو عطاء نہیں ہوئیں۔

-1 روزہ دار کے مُنہ کیُ بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ -2 فرشتے اُن کے لیے افطار تک دُعائے مغفرت کرتے ہیں۔ -3 شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ -4 اللہ تعالیٰ ہر روز جنت کو آراستہ کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ میرے بندوں سے تکلیف و کمزوری دور ہو جائے۔ -5 رمضان شریف کی آخری رات میں اُن کی بخشش کردی جاتی ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے در وازے کھول دے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں ۔اور شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔

حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔ آدمی کا ہر عمل خدا کے ہاں کچھ نہ کچھ بڑھتاہے ایک نیکی دس گناہ سے سات سو گنا تک بڑھادی جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزہ اس سے مستثنیٰ ہے وہ میری مرضی پر ہے میں جنتا چاہوں اس کا بدلہ دوں۔

رحمت عالم آقاﷺ نے ایک اور جگہ اشاد فرمایا! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ سے آنے والی بو اللہ رب العزت کو کستوری سے بھی زیادہ عزیز ہے۔آقا کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندہ انسانی خواہشات اور کھانے پینے کو صرف میری رضا کی خاطر ترک کرتا ہے پس روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دے سکتا ہوں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -