رمضان المبارک کی آمد اور اُس کے تقاضے

رمضان المبارک کی آمد اور اُس کے تقاضے

  

پسروری

اُمت مسلمہ رمضان کے مقدس مہینہ میں قدم رکھ رہی ہے رمضان کا مہینہ آتے ہی نیکیوں کی کھیتیاں لہلہا اُٹھتی ہیں اور برائیوں کے سوتے خشک ہونے لگتے ہیں۔ گویا عبادتوں کا موسم بہار آ جاتا ہے اور مسلم معاشرے میں ایک نئی زندگی دوڑ جاتی ہے، جو رحمتوں اور برکتوں سے لبریز ہوتی ہے اس لئے ہم سب اس ماہ مبارک کا نہایت شرح صدر کے ساتھ خیر مقدم اور خوش آمدید کہتے ہیں اس لئے کہ یہی مہینہ ہے جو ایمان و عمل میں جلا بخشتا ہے۔ اخلاق الٰہیہ کا خوگر بناتا ہے ، صبرو اخلاق اور روحانی طاقتوں میں اضافہ کرتا ہے اور مظلوم انسانیت کے لئے ہر سال پوری دُنیا پر یہ سایہ فگن ہوتا ہے اس لئے ہر سال پوری دُنیا کے مسلمان اس مبارک مہینہ کا استقبال کرتے ہیں کیونکہ یہ عبادتوں کا عالمی اور اعمال صالحہ کا جشن عام کا وقت ہوتا ہے اس میں امیرو غریب ایک دوسرے سے فیض یاب ہوتے ہیں۔

اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے روزہ ایک نہایت اہم ستون ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اُمت مسلمہ کے ہر عاقل و بالغ فرد پر2ہجری میں فرض کیا ہے اور اس کا فرضیت پر اُمت کا اجتماع ہے جو اس کا منکر ہو گا وہ مرتد شمار ہو گا۔ اس روزہ کا وجود پانچ ہزار سال پہلے ملتا ہے، البتہ اس وقت کے روزوں کی کیفیت الگ ہوتی تھی یہ روزہ جو اُمت محمدیہ پر فرض کیا گیا اور اس کے استقبال کے لئے صرف یہی بات کافی ہے کہ یہی ایک ایسی عبادت ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

الصوم لسی وانسا الجزی بہ

’’روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر و ثواب میں اپنے طور سے دوں گا‘‘۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دیگر اوقات و ایام پر روزے کو شرف و فضیلت بخش کر اس کے ہر لمحات کو اپنے مومن بندوں کے لئے نہایت قیمتی سرمایہ قرار دیا ہے نیز جو جسم انسانی کے ڈھانچے سے لے کر پورے مسلم معاشرے میں اس کے ظاہری اخلاق و عادات نیز سلوک و عبادات میں جلا و نکھار پیدا کرتا ہے اور باطن میں روحانیت اور تقویٰ پیدا کرتا ہے، روزے کا استقبال اس لئے بھی کیا جاتا ہے کہ وہ عام ا نسانوں میں خوش دلی، رضائے الٰہی نرم خوئی اور برو احسان پیدا کرتا ہے۔ روزے کی یہی یکسانیت مشرق سے لے کر مغرب تک دیکھی جاتی ہے۔

مگر کیا دوسرے مذاہب کے لوگوں کی طرح سے ہم حلوہ سازی و آتش بازی سے استقبال رمضان کریں اور ہزاروں لاکھوں روپیہ اس رسم بیجا پر پانی کی طرح صرف کر دیں جس سے غلط رسم و رواج، بدعات و خرافات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جن سے غلط رسم و رواج، بدعات و خرافات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جن کا عہد رسولؐ و صحابہؓ میں نام و نشان تک نہ تھا۔

حضرت سلمان فارسی نے ایک مفصل روایت بیان کی ہے کہ شعبان کے آخری دن رسول اللہﷺ نے وعظ فرمایا کہ اے لوگو تم پر ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے وہ بڑا بابرکت مہینہ ہے اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے اس کے روزے کو اللہ تعالیٰ نے فرض اور اس کی رات کے قیام کو نفل قرار دیا ہے جو کوئی رمضان میں کسی نیک کام سے اللہ کا قرب حاصل کرے گا تو ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں فرض ادا کیا اور جس نے اس ماہ میں فرض ادا کیا تو وہ ایسا ہے جیسے غیر ر مضان میں ستر فرض ادا کیا۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اس کا ثواب جنت ہے اور یہ ہمدردی کا مہینہ ہے اس میں مومن کی روزی بڑھا دی جاتی ہے۔

چنانچہ رسول اللہﷺ کو رمضان کی آمد سے انتہائی خوشی ہوتی اور آپ شرح صدر سے اس کو خوش آمدید کہتے۔ صحابہ کرام کو بھی اس کے فضائل و خصوصیات سے آگاہ فرماتے تاکہ اس مقدس مہینہ میں ان کے اعمال و عزائم میں پختگی پیدا ہو نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عہد رسول اللہﷺ میں جب اس ماہ مبارک کا درود مسعود ہوتا ہے تو لوگ ایک دوسرے کو مبارکبادیاں دیتے، استقبال ر مضان ہی کے سلسلے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر ہماری اُمت کو اس روزے کی اہمیت و غایت معلوم ہو جائے تو وہ تمنا کرے گی، کاش پورا سال روزہ رہتا، لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ جب یہ مبارک مہینہ آئے تو اس کا ہم زبردست استقبال کریں نہ کہ منہ بسوریں اور چند گھنٹے کھانے پینے سے رُکے رہنے کے لئے حیل و حجت کریں اس لئے اگر آدمی غلط اعمال اور مکرو فریب سے باز نہ آئے اور حالت روزہ میں بھی چھوٹے بڑے جھوٹ بولا کرے تو رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

جو جھوٹ اور غلط اعمال ترک نہ کرے تو اللہ کو اُس کے کھانا اور پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں گویا کہ وہ اللہ کی نظر میں روزے سے نہیں بلکہ فاقے سے ہے۔

حضرات! جس نے اس فرمان رسول کی روشنی میں ماہ رمضان کا استقبال کیا اور رسول اللہﷺ کے اسوۂ حسنہ کو سمیٹے رکھا کہ کس طرح رمضان آتے ہی آپ اس کے لئے کمر بستہ ہو جاتے تو یقیناًرمضان بھی اس کے لئے بے حد برکات و حسنات کی سوغات پیش کرے گا اور دین و دُنیا میں وسیلہ نجات بنے گا اور جس نے رمضان کا خلوص دل اور صدق نیت اور پورے اعمال جو ارح سے استقبال نہیں کیا اور اس کے عالمی پیغام کو نہیں سمجھا تو اس کے لئے رمضان کا آنا اور گزر جانا سب برابر ہے اور وہ جملہ برکات رمضان سے محروم رہے گا اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ اسلام کو موسمی دین اور سیزنل عبادت کا نام ہے اور سیزن آتے ہی لوگ ٹوپیاں لگا کر مسجدوں کا رُخ کریں اور تراویح کی نماز پڑھ کر فرائض چھوڑے رہیں اور سیزن ختم ہوتے ہی مساجد اور عبادات سے تعلق ختم کر لیں جیسا کہ آج کل دیکھا جاتا ہے، بلکہ روزے کی فرضیت کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ مسلمان ایک ماہ پابندی سے روزہ رکھ کر اپنے ایمان کی بیٹری کو چارج کر لے جو اسے گیارہ ماہ تک ایمان و یقین کی روشنی اور طاقت و توانائی دیتا رہے اور رنج ہو یا خوشی، سچا پکا مسلمان بن کر رہے، چونکہ ہم رمضان کی دہلیز پر کھڑے ہیں اس لئے ہمیں ابھی سے سنت کے مطابق اس کی تیاری شروع کر دینی چاہئے اور اس کی تیاری یہ ہے کہ عبادات میں کثرت ہو ذکر و اذکار اور رجوح الی اللہ بڑھ جائے ، تلاوت بھی کثرت سے کی جائے، صدقات و خیرات کا جذبہ بڑھ جائے یہ سارے اعمال رسول اللہﷺ روزہ شروع ہونے سے پہلے بکثرت کرنے لگتے تھے۔ اس ماہ مبارک کا استقبال کر کے خود بھی فائدہ اُٹھائیں اور اپنے مستحقین کو بھی فائدہ پہنچائیں ، نیز یہ مہینہ ہمدردی و بھائی چارگی کا مہینہ ہے ، فتوحات و کامرانی کا بھی مہینہ ہے، مظلوم انسانیت کو کامیابی کی خلعت اسی ماہ میں ملی۔

ہم ماہ رمضان کا استقبال اس لئے بھی کرتے ہیں کہ اس مہینہ میں گم کردہ انسانیت کو ابدی زندگی کی سرخروی کے لئے قرآن مجید جیسا نسخ�ۂ کیمیا ملا، یہی قرآن و رمضان ہمیں اسلام کے زریں کارناموں کو یاد دلاتا ہے اور یہی خیر و شر میں ہماری رہنمائی کرتا ہے، اس کا استقبال ہمیں اس لئے بھی کرنا ضروری ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور پڑوسیوں کے ساتھ ہمدردی اور بھائی چارگی پر اُبھارتا ہے اس لئے اس کا جس قدر بھی استقبال کریں کم ہے اس مہینے کی آمد کے ساتھ ہی جنت کے دروازے وا اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے فرزند اسلام کے اندر ایک نئے جوش و ولولہ کا حسین منظر دیکھنے کو ملتا ہے اور رمضان شروع ہوتے ہی ایسی چہل پہل نظر آنے لگی ہے جسے دوست و دشمن سبھی یہ گواہی دینے لگتے ہیں کہ

ابھی کچھ لوگ ہیں باقی جہاں میں

گویا اس کی انوار تجلیات کا ظہور عالمی طور پر ہر کاخ و کوخ ہر شہر، دیہات اور ہر محفل و مجلس میں ہونے لگتا ہے اور مسجدوں کا تو کہنا ہی کیا، جسے عرب و عجم سے لے کر افریقہ کے جنگلات اور نیپال کی ترائی اور ہمالیہ کی چوٹی تک اور کنیا کماری سے لے کشمیر کی وادی اور بنگال کی کھاڑی تک کھلی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس مبارک مہینے کے آتے ہی بہت سے گنہگار اور نافرمان بھی اسلامی احکام و شعار کی پابندی کرنے لگتے ہیں، لہٰذا بجا طور سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ رمضان المبارک کا آنے والا مہینہ نیکیوں کے موسم بہار کا مہینہ ہے یہ مہینہ گلستان عمل میں فصل بہار کی حیثیت رکھتا ہے اس کا استقبال اس لئے بھی ضروری ہے کہ کہ اس کے جلال و جمال اور اضافی امال کا مشاہدہ ہر روزہ دار کر سکتا ہے، اس کا دن بھی مبارک اور راتیں بھی مقدس، اس کے انوار برکات کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ روزہ دار کے مشام جاں کو معطر کئے رہتی ہے ۔ روزہ دار کے منہ کی بو مشک و عنبر سے بھی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ لہٰذا خوش نصیب وہ ہیں جو اس فصلِ بہار سے فائدہ اُٹھائیں اور اجر و ثواب سے اپنے جیب و دامن بھر لیں لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس ماہ میں بھی بہت سی غلطیاں اور کوتاہیاں سرزرد ہوتی ہیں نتیجتاً ایک بڑی تعداد معمولی فائدہ پر اکتفا کر کے رہ جاتی ہے ہم سب کو رسول اکرم ؐ کے اس فرمان اور عمل پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے جب آپ استقبال رمضان میں کثرت سے روزے رکھتے تھے تاکہ رمضان کے لئے اپنے آپ کو تیار کر سکیں۔

یہ مہینہ پوری عالمی برادری کے لئے ہمدردی کا مہینہ ہے، لاکھوں انسان جو فقرو فاقہ کی زندگی گزارتے ہیں، اُن کی مفلسی و محتاجگی کا احساس یہی روزے کا مہینہ دلاتا ہے جس میں وہ صدقات و زکوٰۃ کے ذریعے اُن کی مدد کرتے ہیں ۔ تمام مسلمانوں کو پوری یکجہتی اور پختہ عزم و یقین کے ساتھ آنے والے رمضان کا زبردست خیر مقدم کرنا چاہئے اور اپنے اسلامی شعائر کی ادائیگی میں کسی بھی لومتہ لائم کی پروا کئے بغیر اپنے رب کی رضا اور آخرت کی کامیابی کی نیت کے ساتھ رمضان کے تیسوں روزوں کو پوری مستعدی سے رکھنا چاہئے، چھوٹے بچوں کی ذہن سازش میں زبردست تربیت کرنی چاہئے کیونکہ افطار و سحری کے وقات نہایت پُرکیف اور فرحت بخش ہوتے ہیں۔ یہ بچوں کی ذہن سازی میں زبردست ذریعہ بن سکتے ہیں خواتین رمضان میں بشتر وقت کچن میں گزارتی ہیں۔ یہ رمضان کی بے قدری ہے ان کو بھی چاہئے کہ وہ پہلے سے مستعد ہو کر اس کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوں نہ کہ کام و دہن کی تیاری میں اپنا بیشتر وقت صرف کر دیں جبکہ اُن کا دینی علم بہت واجبی ہوتا ہے تو انہی کو مسجدوں میں جانے سے روکا جاتا ہے جو کہ سب سے متبرک جگہ ہے اور بازاروں سے نہیں روکا جاتا ہے جبکہ وہ سب سے زیادہ پُرفتن جگہ ہے۔ حدیث رسول ؐ ہے کہ اللہ کی ان بندیوں کو مساجد سے نہ روکو، لہٰذا اُن کے لئے بھی مساجد میں مناسب انتظام ہونا چاہئے۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -