ماضی سے سبق سیکھ کر،جوش نہیں ہوش کی ضرورت ہے

ماضی سے سبق سیکھ کر،جوش نہیں ہوش کی ضرورت ہے

  

سارا دن لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا ہے۔ یہ کہہ کر تھک گیا ہوں کہ کچھ بھی نہیں ہوا۔ ہر کوئی سوال کرتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ میں کہہ کہہ کر تھک گیا ہوں کہ کچھ بھی نہیں ہو نے والا۔ لیکن کوئی مان ہی نہیں رہا۔ سب سمجھ رہے ہیں کہ یا تو میں مذاق کر رہا ہوں یا پھر میں جاہل ہوں اور مجھے کچھ علم ہی نہیں ہے۔ سب کے اصرار پر میں یہ سوچنے لگ گیا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے۔ جب سب سوچنے کے بعد بھی مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا تو میں نے یہ یقین کرنے کی کوشش کی کہ جب سب کہہ رہے ہیں کہ کچھ ہونے والا ہے ۔ تو ضرور کچھ ہونے والا ہے کیونکہ آواز خلق نقارہ خدا ہو تی ہے۔ اس سے زیادہ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔

بلاول کے حوالے سے گفتگو بھی نہایت زوروں پر ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آئے گا کہ نہیں، میں نے ہر ایک سے کہا کہ بلاول کا پارلیمنٹ میں آنا یا نہ آنا کوئی قومی مسئلہ نہیں بلکہ ایک خاندانی مسئلہ ہے خاندان جب طے کرے گا وہ پارلیمنٹ میں آجائے گا۔ اس نے کونسا لاہور یا کراچی سے الیکشن لڑناہے۔ لاڑکانہ کے لوگ اگر اس کی پھوپھی کو ووٹ دے سکتے ہیں تو اس کو کیوں ووٹ نہیں دیں گے یہ کوئی اہم بات نہیں ہے۔ اس کو اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے۔ اس معاملہ کو پیپلزپارٹی کے سنٹرل ایگزیکٹو میں طے کرنا ایک ڈرامہ ہے معاملہ تو بلاول ہاؤ س میں بیٹھ کر باپ بیٹے اور بیٹیوں نے مل کر طے کرنا ہے باقی تو سب ڈرامہ ہے۔ میرے ایک سیاسی دوست نے میری جان کھا لی ہے کہ بلاول قائد حزب اختلاف بن جائے گا تو طوفان آجائے گا میں نے اسے بہت سمجھا یا ہے کہ کوئی طوفان نہیں آئے گا لیکن وہ نہ صرف بضد ہے بلکہ میرے ساتھ شرط بھی لگا نا چاہتا ہے کہ بلاول کے قائد حزب اختلاف بننے سے طوفان آئے گا۔ میں نے اس سے بہت پوچھا کہ کیا طوفان آئے گا لیکن وہ کہتا ہے کہ یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ لیکن طوفان آئے گا۔

دوستوں کا یہ بھی خیال ہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ انہوں نے ٹھیک کیا ہے ان کے پاس اس کے سوا کوئی اورراستہ ہی نہیں تھا۔ دوستوں کا یہ بھی خیال ہے کہ آصف زرداری نے الطاف حسین کو فون کر کے اور اکٹھے ساتھ چلنے کا علان کر کے اپنے پاؤں پر مزید کلہاڑی مار دی ہے۔ میں نے کہا کہ وہ پاؤں پر تو پہلے ہی کلہاڑی مار چکے تھے مزید مارنے سے کیا نقصان ۔ اب تو جو ہو نا تھا وہ ہو گیا ہے۔ اس لئے فون کرنے کا کوئی خاص نقصان نہیں تھا۔ جس کام کا کوئی خاص نقصان نہ ہو وہ کر لینا چاہئے یہ سیاست کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔

ایک اور خبر بہت گرم رہی کہ عمران فاروق کے قاتل بارڈر کراس کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ یہ وہی دو قاتل ہیں جن کے بارے میں گزشتہ کئی سالوں سے کہا جا رہا تھا کہ یہ حساس اداروں کے پاس ہیں ان کی گرفتاری بھی نہیں ڈالی جا رہی تھی۔ اب شکر ہے کہ گرفتاری ڈال دی گئی ہے اس ڈرامہ کا بھی ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ کیا اس کا بھی سابق صدر آصف زرداری کو کریڈٹ نہیں دینا چاہئے کہ ان کی تقریر کے بعد ان کی بھی کئی سال بعد گرفتاری ڈال دی گئی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ان لوگوں کو ایک کالعدم جماعت کا کارکن کہا گیا ہے جبکہ ایم کیو ایم ابھی تک کالعدم جماعت نہیں ہے۔ اس سے پہلے تو ان کی جب بھی خبر آتی تو یہ کہا جا تا تھا کہ ان کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔ ان کی گرفتاری نے بھی افواہوں کا ایک بازار گرم کر دیا ہے۔ جب بھی ایم کیو ایم کے خلاف کوئی ایکشن ہو تا ہے ۔ یہ افواہیں گرم ہو جاتی ہیں یہ کہا جا تا ہے کہ بس اب الطاف حسین کی کہانی ختم ہونے والی ہے۔ لیکن ایک سوال اہم یہ بھی ہے کہ اگر فرض کر بھی لیا جائے کہ محترم الطاف حسین کو لندن میں سزا ہو گئی ہے تو کیا ہو گا، کیا کراچی کے لوگ انہیں ووٹ دینا بند کردیں گے۔ ہر گز نہیں۔ کیا ایسا نہیں ہو گا کہ الطاف حسین جس کوبھی لندن کی جیل سے ٹکٹ دیں گے وہ کراچی میں جیت جائے گا۔ کیا یہ صورتحال زیادہ خطرناک نہیں ہو گی کیا اس کا پاکستان کو فائدہ ہو گا؟

جو بھی سندھ میں ہو رہا ہے اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جوش نہیں ہوش کی ضرورت ہے۔ بس اس کی اپیل ہی کی جا سکتی ہے۔

مزید :

کالم -