پنجاب بھر میں 2800 سے زائد سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی مکمل فراہمی

پنجاب بھر میں 2800 سے زائد سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی مکمل فراہمی

  

لاہور( لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں 2800 سے زائد سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی مکمل فراہمی کے سلسلہ میں تیزی، 50 لاکھ سے زائد گاڑیوں کو سستے فیؤل کی سہولت حاصل ہو گی اور 20 سے 22 ارب روپے ماہانہ ریونیو حاصل ہو گا۔ 90 ہزار سے زائد ورکرز کا روزگار بحال ہو گا۔ سی این جی کی بحالی پر صارفین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پورا سال سی این جی بحالی کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے سات ماہ سے بندش کے بعد سی این جی سیکرٹر کو گیس بحال کی جا رہی ہے اس سلسلہ میں لاہور میں 125 سے زائد جبکہ پورے پنجاب میں اب تک1500 سے زائد سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی فراہمی کے سلسلہ کو مکمل کر لیا گیا ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں سی این جی اسٹیشنوں کے مالکان کو زر ضمانت کی رقم فوری طور پر جمع کروانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ جس کے باعث روزانہ کی بنیاد پر 300 سے 400 سی این جی اسٹیشنوں کی گیس بحال کی جا رہی ہے اور سی این جی سیکٹر کو گیس کی مکمل بحالی کے سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ سوئی ناردرن گیس کمپنی کے ذرائع کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں تقریباً تمام سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی فراہمی کو مکمل طور پر بحال کیا جا رہا ہے جس میں لاہور میں واقع 206 سے زائد سی این جی اسٹیشنوں کو بھی مکمل طور پر گیس بحال کی جا رہی ہے جس پر لاہور میں واقع سی این جی اسٹیشنوں پر زبردست رش دیکھنے میں آ رہا ہے اور صارفین نے سی این جی کی بحالی پر سکھ کا سانس لیا ہے ۔ اس میں سی این جی صارفین کا کہنا ہے کہ سی این جی کی فراہمی کو پورا سال ممکن بنایا جانا چاہیے۔ اس سے صارفین کو سستے فیؤل کی سہولت ممکن ہو سکے گی اور سی این جی پر چلنے والی 50 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے مالکان کی پٹرول اور ڈیزل سے جان چھوٹ سکے گی۔ سی این جی کی بحالی پر ’’پاکستان‘‘ سروئے میں رکشہ، ٹیکسی، پک اپ سمیت پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں نے بھی سی این جی کی مکمل بحالی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے رکشہ اور پک اپ ڈرائیوروں محمد یامین، یاسین، لالہ رزاق، عبداللہ خان اور احسن رضا سمیت تنویر احمد اور حاجی عبداللہ نے بتایا کہ سی این جی کی بحالی سے عام شہری کو سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہو گا۔ رشتہ ، پک اپ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ کرایہ میں 30 سے 40 فیصد کمی واقع ہو جائے گی اور اس سے غریب آدمی کو رکشہ ، پک اپ اور ٹیکسی لینے میں مالی مشکلات سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا ۔ جبکہ سی این جی مالکان اور سی این جی ایسوسی ایشن کے نمائندوں کیپٹن (ر) شجاع انور، غیاث پراچہ ، ماجد زید ، ظفر اقبال نور کا کہنا ہے کہ سی این جی کی فراہمی سے سی این جی سیکٹر کی رونقیں ایک مرتبہ پھر بحال ہو گئیں ہیں ۔ اس سے جہاں سستے فیول کی فراہمی کو ممکن بنایا گیا ہے وہاں اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے معیشت بھی مضبوط ہو گی۔ حکومت کو چاہیے کہ سی این جی کی فراہمی کو پورا سال کے لئے ممکن بنائے تاکہ سی این جی صارفین سستے فیؤل سے فائدہ اٹھا سکیں۔

مزید :

صفحہ اول -