آصف علی زرداری کی تقریر جنرل ضیاء کے دور میں واپسی!

آصف علی زرداری کی تقریر جنرل ضیاء کے دور میں واپسی!

  

تجزیہ: چودھری خادم حسین

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس سے ایک روز پہلے ہی ایک دھماکہ خیز تقریر کر کے ہلچل مچا دی اور فوراً ہی حالات جنرل ضیاء الحق کے دور والے نظر آنے لگے ہیں، آصف علی زرداری کی تقریر سے جہاں مسلم لیگ (ن) میں ’’عقابوں‘‘ کو موقع ملا وہاں اگلے روز مرکزی مجلس عاملہ کے ارکان نے بھی دل کی بھڑاس نکالی اور آصف علی زرداری کی مفاہمتی پالیسی پر بہت نکتہ چینی کی۔ سابق وفاقی وزیر اور پارٹی کے سابق سیکریٹری جنرل چوہدری احمد مختار کا کہنا ہے کہ مجلس عاملہ نے شریک چیئرمین کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا اور کہا ’’ہم سب ساتھ ہیں‘‘ چوہدری احمد مختار کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو اور خود ذوالفقار علی بھٹو بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات اور کسی ادارے کی اہانت نہیں یہ تو افراد کی نشان دہی کی گئی ہے۔

چودھری احمد مختار نے درست کہا کہ محترمہ اور ذوالفقار علی بھٹو بھی تنقید کرتے رہے لیکن انہوں نے کبھی کھلے بندوں پریس کے سامنے ایسا نہیں کیا بلکہ ایسا انداز اختیار کیا کہ خبر حوالوں سے شائع ہو کر وضاحت کی گنجائش رہے لیکن آصف علی زرداری نے کھلے بندوں بات کی جو براہ راست بھی دکھائی گئی۔

اب اس پر ساری توجہ مرکوز ہو گئی۔ وزیر اعظم نے آصف علی زرداری سے ملاقات منسوخ کر دی لفظ موخر استعمال کیا گیا لیکن اس سے کیا ہوتا ہے طے شدہ ملاقات تو نہیں ہوئی بلکہ مسلم لیگ (ن) کے ’’عقاب‘‘ جھپٹ پڑے ہیں۔ کچھ حلقے کہہ رہے ہیں کہ آصف علی زرداری نے زچ ہو کر یہ تقریر کی کہ ان کے خلاف نہ صرف نیب تیز ہو چکا بلکہ ان کے پرانے ’’دوست‘‘ ذوالفقار مرزا کو بھی ان کے پیچھے لگا دیا گیا جو گالیاں دیتے رہے، اب ان کے خلاف مقدمات ہیں چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں داخل ہو چکا لیکن ان کو کسی نے روکا نہیں وہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے ساتھ امریکہ روانہ ہو گئے ہیں، یہ سب آصف علی زرداری کی نظر میں بھی ہے اور انہوں نے پہلے ہی سے ایسا ماحول پیدا کر دیا کہ کوئی بھی کارروائی متعصبانہ نظر آئے گی۔

مجلس عاملہ کے حوالے سے چند اہم اراکین کی شمولیت بتائی گئی ہے لیکن یہ کھوج کسی بھی رپورٹر نے نہیں لگایا کہ بی بی والی مجلس عاملہ بحال کی گئی تھی تو کیا اس دور کے اراکین نے باقاعدہ حصہ لیا ہے؟ ہماری اطلاع کے مطابق متعدد حضرات کو نہیں بلایا گیا۔

اس اجلاس میں دو اور اہم باتیں ہوئیں ایک یہ کہ راجہ پرویز اشرف نے پارٹی عہدے (سیکریٹری جنرل PPPP) سے استعفیٰ دے دیا اور اپنے چیئرمین کے خیالات سے اختلاف کیا۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ کہہ کر وائس چیئرمین کا عہدہ چھوڑا کہ بلاول کو نئی تنظیم سازی کا موقع دے رہے ہیں۔ یہ دونوں باتیں اپنی جگہ ہوں گی لیکن حقیقت ذرا مختلف ہے۔ نیب ان دونوں سابق وزرائے وزیر اعظم کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے اور ان کی گرفتاری کا بھی امکان ہے۔ اس لئے انہوں نے بروقت آصف علی زرداری سے ہی علیحدگی اختیار کر لی ہے کہ شاید کچھ رعایت ہو۔ دونوں کے خلاف ریفرنس تیار ہیں۔

جہاں تک بلاول بھٹو کے قومی اسمبلی میں آکر اپوزیشن لیڈر بننے اور خورشید شاہ کے وزیر اعلیٰ سندھ بننے کا تعلق ہے تو یہ تجویز ہے جو کوئی پہلی مرتبہ پیش نہیں ہوئی۔ سید قائم علی شاہ کو کمزور گنا جاتا ہے اس لئے حالات حاضرہ میں سید خورشید شاہ کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ تاہم ابھی فیصلہ نہیں ہوا، نوجوان بلاول بھٹو زرداری اس امر کا خود فیصلہ کریں گے۔ تاہم کافی دنوں سے کہا جا رہا تھا، بلاول آ رہا ہے وہ آ گیا ۔ اجلاس میں شریک تھا خورشید شاہ کی نشست پر تو اس کی نگاہ ہے یا نہیں البتہ سندھ کے حوالے سے وہ اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کر چکا ہوا ہے۔ ابھی تو بلاول نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آصف علی زرداری عملی سیاست اسی طرح رکھیں گے یا پھر بلاول کو فری ہینڈ دیا جائے گا یہ فیصلہ ہونا باقی ہے۔ بہرحال احتساب بیورو ریفرنس تیار کر چکا ہے۔

مزید :

تجزیہ -