واشنگٹن، گورے نوجوان کا کالوں کے چرچ پر حملہ، 9عبادت گزار جاں بحق

واشنگٹن، گورے نوجوان کا کالوں کے چرچ پر حملہ، 9عبادت گزار جاں بحق

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) بدھ کی رات 3 بجے امریکی ریاست جنوبی کیرولینا کے شہر شارلسٹن میں ایک گورے نوجوان نے کالوں کے چرچ پر حملہ کر دیا جس سے ایک پادری سمیت عبادت میں مصروف نو افراد جاں بحق ہوگئے۔ سٹی پولیس چیف گریگ مولن کے مطابق افریقی نسل کے باشندوں کے قائم کردہ چرچ پر فائرنگ کا یہ سانحہ واضح طور پر نفرت کا جرم ہے جس میں آٹھ افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ہسپتال پہنچنے والے دو شدید زخمیوں میں سے بھی ایک شخص دم توڑ گیا۔ پولیس نے سراغ رساں کتوں کی مدد سے چودہ گھنٹے کے تعاقب کے بعد ملزم کو شمالی کیرولینا کی ریاست کے شہر شبلی سے گرفتار کرلیا۔ 21 سالہ گورے نوجوان کی شناخت ہوگئی ہے جس کا نام ڈائلن روف ہے جو جنوبی کیرولینا کے شہر لیگزنٹن کا رہنے والا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موقع پرپہنچ کر ایک ہینڈ گن سے فائرنگ کرنے سے پہلے ملزم نے کہا کہ وہ کالے لوگوں کو شوٹ کرنے کے لئے آیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق ملزم نے ایک گھنٹہ چرچ میں گزارنے کے بعد عبادت شروع ہونے پر فائرنگ کی۔ ہلاک ہونے والے کل نو افراد میں چھ خواتین اور تین مرد شامل ہیں۔ تین افراد بچ گئے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے جسے اس نے یہ کہا کہ میں تمہیں اس لئے چھوڑ رہا ہوں تاکہ تم بعد میں اس سانحے کی تفصیل بیان کرسکو۔ امریکی صدر بارک اوبامہ نے فوری طور پر ایک بیان میں اس افسوسناک واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا جو نفرت کے اس جرم کا نشانہ بننے والے پادری اور ریاستی سینیٹر کلیمنٹا پنکنی کو ذاتی طر پر جانتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ اس نوعیت کا سانحہ دوبارہ امریکہ کے دوسرے مقامات یا دوسرے ملکوں میں پیش نہ آئے۔ 41 سالہ پادری دو بچوں کا باپ تھا جو 23 سال کی عمر میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی ٹکٹ پر ریاست کا کم عمر ترین سینیٹر منتخب ہوا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اجتماعی تشدد کی اس واردات کا انداز نام نہاد مسلم دہشت گردوں جیسا ہے لیکن یہ مذہبی یا فرقہ وارانہ کارروائی نہیں بلکہ نسلی منافرت کا اظہار ہے۔ اس نوجوان نے کاروائی کیوں کی اس کا مقصد جلد معلوم ہو جائے گا۔ بندوق رکھنے کے حق کے مخالف کہتے ہیں کہ اس نوجوان کے باپ نے اسے اس کی اکیسویں سالگرہ پر گن کا یہ تحفہ دیا جسے اس نے کے لئے استعمال کیا۔ اگر اس خریداری پر پابندی ہوتی تو شاید واقعہ پیش نہ آتا۔ شوٹنگ کی یہ احمقانہ واردات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایسے واقعات کے لئے گن کنٹرول بہت ضروری ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -