پنجاب ریونیو اتھارٹی اور ہڑتالی ملازمین کے درمیان مذاکرات پھر ناکام

پنجاب ریونیو اتھارٹی اور ہڑتالی ملازمین کے درمیان مذاکرات پھر ناکام

  

لاہور(کامرس رپورٹر)پنجاب ریونیو اتھارٹی اور ہڑتالی ملازمین کے درمیان ہونے والے مذاکرات ایک بارپھر ناکام ہو گئے ہیں۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پی آر اے نے احتجاج کرنے والے20ملازمین کے دفتر میں داخلے پرپابندی لگا دی پی آر اے کے باہر دھرنا دینے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ150میں سے70سے زائد کی تنخواہوں کے چیک تیار کر لیے ہیں جب کہ باقی کو دو ماہ کی رکی ہوئی تنخواہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔جن20افراد کے دفتر میں داخلے پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں پی ایس محمد اعجاز، شیراز اسلم اور خرم سلیم ، اسسٹنٹ میں محمد کاشف رزاق، احمد بلال ظفر، محسن علی افضل، اظہر مدنی، تابندہ جہانگیر،سائمہ اقبال، شاہد حسین علی امام اور اشتیاق حسین ، کے پی او میں عثمان ارشداور محمد قاسم ، کلرکس میں محمد عثمان اکرم اورمحمد ارسلان اسلم، محمد شعیب ڈسپیچر،ندیم شاہد ڈرائیور،نائب قاصدوں میں سے وحید انوراور محمدعابد بٹ جب کہ ذیشان اسلم مالی شامل ہے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کے ہڑتالی ملازمین کاکہنا تھاکہ کسی کے ساتھ نا انصافی برداشت نہیں کریں گے۔ پی آر اے سب ملازمین کی رکی ہوئی تنخواہیں اداکرے،ڈیلی ویجزکا سٹیٹس ختم کر کے پکاکرے یا پھر کنٹریکٹ لیٹر دے۔ ملازمین کاکہنا ہے ان کوہر روز سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتیں ہیں لیکن وہ ڈرنے والے نہیں۔ دھرنے پر بیٹھے ملازمین نے بتایاکہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔ ایک ملازم کاکہنا تھا کہ ان کے احتجاج میں کلرکس ایسوسی ایشن سمیت سرکاری ملازمین کی دوسری تنظیموں نے شرکت کی خواہش کی ہے۔ اسی ملازم کاکہنا ہے کہ اگر ایک دو روز میں ان مطالبات پورے نہ کیے گئے تو سرکاری ملازمین کے حقوق کی پاسبان دوسری تنظیموں کواس دھرنے میں شرکت کی بھر پور دعوت دی جائے گی۔

مزید :

صفحہ آخر -