توقع تھی بجٹ میں عوام کو ریلیف ملے گا مگر مایوسی کا عالم ہے

توقع تھی بجٹ میں عوام کو ریلیف ملے گا مگر مایوسی کا عالم ہے

  

لاہور (جنرل رپورٹر، نمائندہ خصوصی) مسلم لیگ(ق) کی رکن اسمبلی خدیجہ عمر فاروقی نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 6ہزار ارب خرچ کرنے والی پنجاب حکومت بتائے کہ عام آدمی کی زندگی میں کیا بہتری آئی انہوں نے رمضان المبارک کی پیشگی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس بابرکت مہینے کی شروعات سے عوام توقع کررہی تھی کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف ملے گا مگر ہر طرف مایوسی کا عالم ہے رمضان المبارک سے قبل بجلی،پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر مافیا کو لوٹ مار کا موقع دیا گیا ،ہر طبقہ فکر اپنے مسائل کے حل کیلئے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہے میری وزیر خزانہ سے گذارش ہے کہ جو تجاویز دی ہیں آیا اس پر عملدرآمد ہو گا یا اس کو ہمیشہ کی طرح ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ میں ایک بڑا نقطہ ہاؤس کے علم میں لانا چاہتی ہوں جب بھی عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان کی ہر چیز کو آگ لگ جاتی ہے اور کھانے پینے کی چیزیں بھی بڑھ جاتی ہیں چیزوں کے بڑھ جانے سے ڈالر اور پٹرول کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے اگر پٹرول کی قیمتیں کم ہو جاتی ہیں تو اس کا اطلاق اشیاء خوردونوش پر نہیں ہوتا ہے ، میری تجویز ہے 1122 کا بجٹ ڈبل کیا جائے اور اس کا دائرہ تحصیل تک بڑھایا جائے اس کی گاڑیاں پرانی ہو چکیں ،یہ وہی گاڑیاں جو چوہدری پرویز الہٰی کے دو ر میں خریدی گئی تھیں ، وزیر اعلیٰ نے گاڑیاں بدل لیں ،اپنا ہیلی کاپٹر بدل لیا ، سرکاری افسران نے گاڑیاں بدل لیں مگر جو گاڑیاں دکھی انسانیت کی خدمت کرتی ہیں وہ کھٹارہ ہوچکیں ،جس بات کا مجھے دکھ ہے وہ یہ ہے کہ پنجاب حکومت ریسکیو 1122 کے ذمہ داروں سے کہہ رہی ہے کہ لوگوں سے زکوۃ ، خیرات ، چندہ اور بھیک مانگو تاکہ یہ سروس چلتی رہی ،جناب سپیکر حکومت توہین آمیز رویہ اختیار نہ کرے ، اگر میٹروبس کے منصوبوں کیلئے سبسڈی اور اربوں کے فنڈز ہیں تو ریسکیو 1122 کیلئے کیوں نہیں ؟ پنجاب میں سالانہ 18 ہزار ماہانہ 1500 اور روزانہ 500 حادثات ہو رہے ہیں جن کی روک تھام کیلئے ریسکیو کے دائرے کا رکو بڑھانے اور مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے مگر اس کے بجٹ کو بڑھانے کی بجائے کم کردیا گیا ، ان کو چوہدری پرویز الہٰی صاحب کے کاموں سے اتنا خوف اور ڈر کیوں ہے؟بجٹ میں خواتین کے نام پر بڑی بڑی رقوم رکھ کر ایوان اور وم کو گمراہ کیا جاتا ہے حقیقت یہ ہے کہ رواں سال خواتین کی ترقی کیلئے 421 ملین روپے مختص کیے گئے تھے جن میں صرف 50 ملین خرچ ہوئے جو مجموعی رقم کا 12 فیصد بنتا ہے ،یقینایہ 12 فیصد بھی پٹرول ، ٹی اے ڈی اے کی مدمیں خرچ ہوا ہو گا ، وزیر خزانہ بتائیں 7 سال میں صوبہ میں کتنی خواتین کو ملازمتیں دی گئیں اور خواتین کی بہبود پر کتنا بجٹ خرچ ہوا،پاپولیشن ویلفیئر خواتین اور سوسائٹی کے حوالے سے ایک اہم شعبہ ہے مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاپولیشن ویلفیئر کیلئے ایک ارب روپیہ رکھا گیا تھا جس میں سے مئی کے وسط تک صرف 15 ملین خرچ ہوئے جو مختص شدہ رقم کا 1.5 فیصد بنتا ہے ، میٹرو بس منصوبوں کیلئے ایک سال میں 50 ارب روپیہ خرچ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی حکومتی مشینری کو عوامی بہبود کے منصوبوں کے حوالے سے کیا ہوجاتا ہے اگر پاپولیشن ویلفیئر کا محکمہ حکومت کیلئے غیر اہم ہے تو پھر اس بند کیوں نہیں کر دیا جاتا ؟ حکمران اپنی ترجیحات بدلیں ۔ چوہدری علی اصغر منڈا، میاں مرغوب احمد، شوکت علی لالیکا، محمد آصف باجوہ، سیدہ عظمیٰ قادری، نگہت شیخ، شیخ علاؤالدین، حاجی عمران ظفرو دیگر اراکین نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی علم دوستی کا ثبوت اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے بجٹ کی کل رقم کا 27فیصد 310ارب 20کروڑ روپے تعلیم کے شعبہ کیلئے مختص کیا ہے۔ شعبہ تعلیم کے ترقیاتی بجٹ 990ہائی سکولوں میں کمپیوٹر لیب کی تنصیب، 7550سکولوں میں عدم دستیاب سہولتوں کی فراہمی، 4700سکولوں کی عمارات کی دوبارہ تعمیر اور 500نئے سکول کھولے جائیں گے۔ اراکین اسمبلی نے کہاکہ توانائی کے منصوبوں کی جلد تکمیل کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کرکے وزیراعلیٰ نے اندھیروں سے روشنی تک کا سفر تیز کر دیا ہے اور 150ارب روپے کھیت تا منڈی سڑکوں کیلئے فراہم کرنے سے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے سے زرعی انقلاب برپا ہوگا۔ ارکان نے کہاکہ تھانہ کلچر میں تبدیلی لانے کیلئے بجٹ میں کئے گئے مالی اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ حکومت پنجاب نے میٹرو بس پراجیکٹس شروع کرکے آرام دہ سفر کو فروغ دیا ہے اور اس طرح صاحب ثروت افراد اور عام آدمی کے فرق کو ختم کردیا ہے۔ اورنج لائن ٹرین عام آدمی کیلئے مزید آسانیاں فراہم کرے گی۔ملتان میٹرو پراجیکٹ، صاف پانی کے پراجیکٹ ، فارم ٹو مارکیٹ روڈز اور قائداعظم سولر پارک سمیت دیگر منصوبوں سے جنوبی پنجاب کے عوام کی تقدیر بدل جائے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے مسیحا بن کر جنوبی پنجاب کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر جنوبی پنجاب کے کم ترقی یافتہ اضلاع کے عوام کے سماجی و معاشی رتبہ کو بلند کرنے سے کئی پراجیکٹس جنوبی پنجاب کے علاقوں میں شروع کئے گئے ہیں جن میں بہاولپور میں شمسی توانائی کا سب سے بڑا منصوبہ قائداعظم سولر پارک شروع کیاجاچکا ہے اپوزیشن رکن مراد راس نے بجٹ بحث کے دوران کہا کہ قبرستان کیلئے جگہ نہیں ہے ایک قبر میں 7سے 8لوگوں کو دفنایا جارہا ہے ہمارے حلقے کی کل سے گیس بھی بند ہے ۔مسلم لیگ(ن) کی ایم پی اے ڈاکٹر نجمہ افضل نے کہا 400ارب کاترقیاتی کاموں کیلئے بجٹ خوشحالی کا باعث بنے گا ،تعلیم کی طرف حکومت پنجاب نے خصوصی توجہ دی ہے ،تحریک انصاف کی رکن اسمبلی پنجاب ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا گزشتہ سال پنجاب کے تمام اداروں نے مختص کیے گئے بجٹ کا 50فیصد استعمال کیا ہے اب اس سے بھی زیادہ بجٹ رکھا گیا ہے دیکھنا یہ ہے کہ ان اداروں کی آمدن زیادہ ہوتی ہے یا خرچ زیادہ کرتے ہیں،حکومت نے ٹیکس ہدف گزشتہ بھی پورا نہیں کیا اب کیسے پورا ہوگا، مسلم لیے (ن) کے رکن اسمبلی پنجاب خرم شہزاد نے کہا پارکنگ فیس کے مد میں جگہ جگہ جگا ٹیکس لیا جارہا ہے جس کی کوئی روکنے والے نہیں ہیں ،مسلم لیگ(ن) کے رکن اسمبلی پنجاب شیخ علاؤ الدین نے کہا یہاں ایک ایان علی پکڑی گئی باقی ایان علی روزانہ ملک سے بلیک منی لے کر بیرون ملک جارہی ہیں انہیں کوئی پکڑنے والا نہیں ہے،ہماری ٹیکنیکل کمیٹی میں کرپٹ ترین افراد موجود ہیں 10روپے کا ٹینڈر 10ہزار میں کردیتے ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ، تحریک انصاف کے رکن ڈاکٹر صلاح الدین نے کہا کہ میرے حلقے میں ایک بھی گرلز کالج اور ہائی سکول نہیں ہے ،سرگودھا یونیورسٹی میانوالی کمپس میں بنادی سہولیات کا فقدان ہے۔چوہدری زاہد اکرم نے کہا نہری پانی کی غیر منصفانہ تقسیم سے کاشت کا ر پریشانی کا شکار ہیں ان کے اس دیرینہ مسئلے کو حل کیا جائے۔مسلم لیگ(ق) کی خدیجہ عمر فاروقی نے کہا کہ حکومت نے کہا ہے کہ آنے والے تین سالوں میں 8فیصد شرح ہوگی اور 20لاکھ نوجوانوں کیلئے نوکریاں پیدا کی جائیں گی پہلے حکومت اپنی 7گزشتہ سالوں کی ناکامیوں کو درست کرلے ون مین شو کے باوجود بھی ترقی کا پہیہ جام ہے ۔چودھر ی علی اصغر منڈا نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صحت ، تعلیم ،زراعت اور ڈویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دی ہے ہماری 8سال کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اپوزیشن تنقید برائے تنقید کی بجائے ہمیں تجاویز دے ہم ان کو شامل کرینگے پنجاب کی عوام گواہ ہے کہ کسی طرح ماضی کی حکومتوں نے قومی اداروں کا بھٹہ بھا دیا تھا مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے ان اداروں کو دو بارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا ہے۔ لیا۔

مزید :

صفحہ آخر -