پنجاب اسمبلی سے گاڑیوں کی رجسٹریشن کا ابتدائی عمل ایجنٹوں کے حوالے کا قانون منظور

پنجاب اسمبلی سے گاڑیوں کی رجسٹریشن کا ابتدائی عمل ایجنٹوں کے حوالے کا قانون ...

  

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) پنجاب اسمبلی نے صوبے میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کا ابتدائی عمل ایجنٹوں کے حوالے کرنے کا قانون منظور کرلیا۔دی پنجاب موٹر وہیکل ٹرانزکشن لائسنسز ایکٹ2015کے تحت مناسب فیس ، سکیورٹی اور ایڈوانس رقم کے عوض اچھی شہرت کے حامل شوروم مالکان اور ایجنٹوں کو لائسنس جاری کئے جائینگے۔جو نہ صرف گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس وصول کرکے چالان جاری کرینگے۔بلکہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بھی جاری کرینگے۔معلوم ہواہے کہ پنجاب اسمبلی نے بجٹ سیشن کے دوران صوبے میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے تاریخ سازقانون منظور کرلیا ہے۔دی پنجاب موٹر وہیکل ٹرانزکشن لائسنسیز ایکٹ2015نامی اس قانون کے تحت محکمے کے لائسنس حاصل کرنے والے شوروم مالکان یا ایجنٹوں کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن کا ابتدائی عمل مکمل کرتے ہوئے کسی بھی گاڑی کی معلومات کو کمپیوٹر میں فیڈ کرکے رجسٹریشن کی سرکاری فیس وصول کریں اور گاڑی کے مالک کو چالان رسید کے ہمراہ نمبر پلٹ جاری کریں۔جس کے بعد ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے انسپکٹر گاڑی کی دستاویزات کی جانچ پڑتال اور ضروری تصدیق کے بعد اگلے مرحلے میں موٹر رجسٹریشن اتھارٹی کوگاڑی کی رجسٹریشن کی سفارش کرینگے۔بتایا گیا ہے کہ نئے قانون کو بجٹ سیشن کے اختتام پر فنانس ایکٹ کے ہمراہ منظوری کے لیے گورنر کو بھیجا جائیگا۔اس قانون کے تحت ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے ڈائریکٹر کے عہدے کا افسر کسی بھی ایسے فرد یا شوروم مالک کو لائسنس جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ جو کہ نابالغ یا پاگل نہ ہو اور اس کا کرمنل ریکارڈ بھی موجود نہ ہو۔ایسے شخص کو مناسب فیس کے عوض لائسنس جاری کرنے کے بعد اس سے سکیورٹی کی مد میں رقم وصول کی جائیگی۔ جو 10سے 30لاکھ روپے تک ہوسکتی ہے۔یہ رقم محکمے کے پاس محفوظ رکھی جائیگی۔ اور لائسنس ہولڈر سے ایک مخصوص رقم مزید ایڈوانس کی صورت وصول کی جائیگی۔جوکہ وقت کے ساتھ رجسٹریشن کے لیے آنے والی گاڑیوں کی چالان کی رقم سے منہا کی جاتی رہیگی۔اور جیسے ہی لائسنس ہولڈر کی ایڈوانس دی گئی رقم اسے رجسٹریشن کی رقم کے ذریعے واپس مل گئی۔تو وہ تب تک کسی بھی نئی گاڑی کی رجسٹریشن کا ابتدائی عمل مکمل نہیں کرپائیگا۔ جب تک کہ محکمے کو نئے سرے سے ایڈانس کی رقم ادا نہیں کرتا۔لائسنس ہولڈ رکو جاری کیا جانے والا لائسنس ہر سال قابل تجدید ہوگا۔اور قانون پر عمل درآمد نہ کرنے یا کسی بھی غیر قانونی عمل میں ملوث پائے جانے کی صورت نہ صرف ایجنٹ کا لائسنس معطل یا کینسل کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ اسے قانون ہذا کے تحت چھ ماہ تک قید کی سزا بھی دی جاسکے گی۔

مزید :

صفحہ آخر -