وہ اسلامی ملک جہاں برقعہ پر پابندی لگا دی گئی کیونکہ۔۔۔

وہ اسلامی ملک جہاں برقعہ پر پابندی لگا دی گئی کیونکہ۔۔۔
وہ اسلامی ملک جہاں برقعہ پر پابندی لگا دی گئی کیونکہ۔۔۔

  

نجامینا (نیوز ڈیسک) وسطی افریقہ کے مسلمان ملک چاڈ کے دارلحکومت میں رواں ہفتے کے آغاز میں خود کش حملوں کے بعد حکومت نے برقعے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق مسلم اکثریتی ملک کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے برقعوں کو کیمو فلاج کے طور پر استعمال کیا اور خود کو چھپا کر حملے کرنے میں کامیاب ہوئے، اور یہ کہ سکیورٹی فورسز مارکیٹ میں فروخت کئے جانے والے برقعے جلانے کا آپریشن شروع کریں گی۔

مزیدپڑھیں:کروڑ پتی خاتون جو بے سہارا بچوں کی خدمت کرتے کرتے دیوالیہ ہو گئی دل دکھ دینے والی کہانی

حکومت برقعوں کے علاوہ مذہبی پگڑی پر پابندی لگانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ وزیراعظم پاہیمی ڈیوبٹ کا کہنا ہے کہ برقعے پر پابندی صرف عوامی مقامات پر نہیں بلکہ ہر جگہ لگائی جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بھی ایسا لباس جو آنکھوں کے علاوہ تمام جسم کو ڈھانپتا ہو اسے کیموفلاج قرار دیا جائے گا اور اس پر پابندی لگائی جائے گی۔چاڈ کی حکومت بازار میں سپلائی کئے گئے برقعوں کو بھی اپنے قبضے میں لینے کے لئے آپریشن کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں چاڈ کے دارالحکومت میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر خودکش حملے کئے گئے تھے جن میں 34 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ چاڈ نے ان حملوں کے لئے نائجیریا سے تعلق رکھنے والے شدت پسند گروپ بوکو حرام کو زمہ دار قرار دیا ہے۔

چاڈ میں تقریباً 53 فیصد آبادی مسلم ہے جبکہ یہاں برقعے کا رواج صدیوں پرانا ہے۔ یہاں کی مسلمان خواتین مذہبی فریضے کے طور پر برقعہ پہنتی ہیں جبکہ گرم صحرائی علاقے میں موسم کی حدت سے بچنے کے لئے بھی برقعے کا استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -