ماضی سے بہت کچھ سیکھا،میچ فکسنگ کی سزاتاحیات پابندی ہونی چاہئے،محمدعامر

ماضی سے بہت کچھ سیکھا،میچ فکسنگ کی سزاتاحیات پابندی ہونی چاہئے،محمدعامر

لاہور(سپورٹس رپورٹر)پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر محمد عامر نے کہا ہے کہ کرکٹ میں کرپشن کی موجودگی کھلاڑی کے وقار کیلئے خطرناک ہوگی ،کرپشن کرنے والے کر کٹرز پر تاحیات پابندی کی سزا ہونی چاہیے، دورہ انگلینڈ کے دوران شائقین کو نیا عامر نظر آئے گا، انگلینڈ میں حمایت کے ساتھ ایک دفعہ پھر لارڈزکے اعزازی بورڈ میں اپنا نام درج کروانا چاہتا ہوں، بہتر مستقبل کیلئے ماضی کو بھول جانا چاہتا ہوں۔ انگلینڈ روانگی سے قبل غیر ملکی کر کٹ ویب سائٹ کو انٹرویو میں محمد عامر نے اپنے واقعے کو دوسرے کھلاڑیوں کیلئے مثال قرار دیتے ہوئے میچ فکسنگ کے بارے میں کہنا تھا کہ میچ فکسنگ کی کرکٹ میں اجازت نہیں ہونی چاہیے، جواس میں پکڑا جائے اس کو تاحیات پابندی ہونی چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ابھی بھی ہمارے واقعے سے سبق حاصل نہیں کرتا تو وہ بہت بے وقوف ہے، جو کچھ ہمارے ساتھ پیش آیا اور جس طرح ہمارا کیریئر دا پر لگا یہ سب کے لیے بڑی مثال ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ تصور کیجیے ان ضائع ہوئے لمحات میں ہم کیا حاصل کرسکتے تھے، میں نے اپنی زندگی کے بہترین پانچ سال برباد کئے، اگر میں ابھی تک کھیل رہا ہوتا تو ہرکوئی جانتا ہے کہ میں کس مقام پر ہوتا ۔اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں پانچ سال پابندی کا شکار رہنے والے فاسٹ بالر نے کہا کہ 'اگر کرپشن اب بھی ہورہی ہے تو یہ واقعی میں خطرے کی گھنٹی ہے اور کھلاڑی کی عزت پرشدید مسائل ہیں ۔انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں کھلاڑی خود کو الزام دیں اور کوئی اس بارے میں مدد نہیں کرسکتا، اگر کھلاڑی خود دیانت دار نہیں ہونا چاہے تو بورڈ، آئی سی سی اور نہ ہی والدین کوئی مدد نہیں کرسکتا ۔انگلینڈ کے کپتان الیسٹر کک کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں کک کے اس بیان کی حمایت کروں گا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایسے کھلاڑی پر تاحیات پابندی ہونی چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ تمام خدشات کو پس پشت ڈال کر ایک نیا آغاز کروں گا اور چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان ٹیم کی مدد کرنے کے لیے پرعزم ہوں۔محمد عامر کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی اپنی واپسی کا سوچا بھی نہیں تھا اور میں اپنے آپ کو بہت بڑا خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی ہوئی ہے ۔ نوجوان فاسٹ بالر کا کہنا تھا کہ میں اپنی واپسی چند ماہ پہلے کرچکا ہوں لیکن ٹیسٹ کرکٹ اصل کرکٹ ہے اور اس کو کھیلنے کے لیے میں پرعزم تھا ۔انگلینڈ میں پیش آنے والے گزشتہ تلخ یادوں پر ان کا کہنا تھا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں اپنا ماضی بھول چکا ہوں، میری یادوں سے2010کے بعد کے تلخ لمحات موجود ہیں لیکن اب میں بہترین کھیلنا چاہتا ہوں ۔عامر کا کہنا تھا کہ میں انگلینڈ میں حمایت کے ساتھ ایک دفعہ پھر لارڈذ کے اعزازی بورڈ میں اپنا نام درج کروانا چاہتا ہوں، میں اس دورے کو مثبت انداز میں دیکھ رہا ہوں جیسا کہ میں بہتر مستقبل کے ساتھ ماضی کو بھول جانا چاہتا ہوں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی