پاک ا نگلینڈ کرکٹ سیریزپردم ہے اگر تو تو نہیں خطرہ افتاد

پاک ا نگلینڈ کرکٹ سیریزپردم ہے اگر تو تو نہیں خطرہ افتاد

شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا

پاکستانی قوم نے اپنی ٹیم سے خاصی امیدیں وابستہ کررکھی ہیں

پاکستان کرکٹ ٹیم پانچ سال کے طویل عرصہ کے بعد انگلش سر زمین پرجیت کا عزم لئے اس یقین کے ساتھ روانہ ہوئی کہ اس مرتبہ انگلینڈ کی سرزمین پر منفرد کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی سمیٹے گی پاکستان کی ٹیم کے لئے ہمیشہ ہی انگلینڈ کا دورہ مشکل رہا ہے اور اس مرتبہ بھی اس کیلئے یہ دورہ کسی بہت بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے پاکستان کی ٹیم اس مرتبہ ایک نئے جوش و جذبے اور نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور امید ہے کہ اس مرتبہ وہ عمدہ پرفارمنس کا مظاہر ہ کرے گی اور پوری قوم کو جیت کا تحفہ دے گی ۔گرین شرٹس 4 ٹیسٹ، 5 ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی۔ 17 رکنی ٹیسٹ اسکواڈ میں کپتان مصباح الحق کے علاوہ محمد حفیظ، شان مسعود، سمیع اسلم، اظہر علی، یونس خان، اسد شفیق، افتخار احمد، محمد عامر، راحت علی، عمران خان سینئر، سہیل خان، وہاب ریاض، یاسر شاہ، ذوالفقار بابر، سرفراز احمد اور محمد رضوان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مکی آرتھر، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاوراور منیجر انتخاب عالم کے علاوہ دیگر کوچنگ اسٹاف بھی ٹیم کے ہمراہ ہے۔ 2010 میں ہونے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد یہ پاکستان کا پہلا دورہ انگلینڈ ہے، پاکستان اور انگلینڈ کے مابین ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ 14جولائی کو لارڈز، دوسرا میچ 22 جولائی سے مانچسٹر، تیسرا 3 اگست کو ایجبسٹن جب کہ چوتھا ٹیسٹ 11 اگست سے اوول میں شروع ہوگا۔دونوں ٹیموں کے درمیان 5 ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 24 اگست کو ساؤتھمپٹن، دوسرا 27 اگست کو لارڈز، تیسرا 30 اگست کو ناٹنگھم، چوتھا یکم ستمبر کو ہیڈنگلے اور پانچواں 4ستمبر کو کارڈف میں ہوگا۔ سیریز کا واحد ٹی ٹونٹی میچز 7 ستمبر کو مانچسٹر میں شیڈول ہے۔ قومی ٹیم نے بلاشبہ اس سیریز کے لئے بہت محنت کی ہے او ر فوجی طرز پر پہلی مرتبہ جس طرح سے ٹریننگ حاصل کی ہے اس کا اس کو ضرور فائدہ ملے گا اور ٹیم مینجمنٹ بھی نئی اور مضبوط ہے جس نے ایک اچھی ٹیم تیار کی ہے ہیڈ کوچ سمیت دیگر عملہ باصلاحیت ہے اور اس بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ اس مرتبہ قومی ٹیم اپنی عمدہ پرفارمنس سے انگلینڈ کی سر زمین پرایک نئی تاریخ رقم کرے گی۔ انگلینڈ کے خلا ف اس سے قبل جب بھی ٹیم کھیلی ہے کوئی نہ کوئی ایشو ضرور سامنے آیا ہے جس سے پاکستانی کرکٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے جیسے کہ اس سے قبل جب ٹیم نے دورہ کیا تھا تو پاکستانی باؤلرز محمد عامر، محمد آصف اور بیٹسمین سلمان بٹ پر سپاٹ فکسنگ کے الزامات لئے اور اس وجہ سے آصف اور سلمان کا تو کیرئیر ہی ختم ہوگیا مگر فاسٹ باؤلر محمد عامر اس مرتبہ ٹیم کے ساتھ ہیں اور ان کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ وہ عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کریں انگلینڈ کی فاسٹ وکٹوں پر ان کو اچھی پرفارمنس دینا بہت ضروری ہے اور امید ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کریں گے اور جیت میں اہم کردار ادا کریں گے پاکستان کر کٹ ٹیم کے نئے کوچ مکی آرتھر کے لئے بھی یہ پہلی اسائنمنٹ ہے اور اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اچھی پرفارمنس دینا پاکستانی ٹیم کا کام ہے اور اس حوالے سے میں نے اپنا کام پورا کرلیا ہے اب ٹیم نے میدان میں جاکر پرفارمنس دینا ہے اور اس لئے ان کو بیھی کھلاڑیوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں ٹیم کے کپتان اظہر علی بھی پر عزم ہیں کہ نئے جوش و جذبہ اور محنت سے کھیلیں گے اور پوری قوم کو جیت کا تحفہ دیں گے ہمیشہ سے ہی انگلینڈ کے خلاف سیریز بہت ٹف رہی ہے اور اس مرتبہ بھی امید ہے کہ ہم محنت سے کھیلیں گے پوری ٹیم اس حوالے سے ساتھ ہے جبکہ دوسری جانب ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے انگلینڈ کے خلاف سیریز ان کے کیئرئرکی آخری سیریز نہیں ہے اور اگر انہوں نے ریٹائرمنٹ لینی ہوتی تو اب تک لے چکے ہوتے ۔انہوں نے کہاکہ انگلینڈ کی ٹیم اچھا پرفارم کررہی ہے اور ان کا بولنگ اٹیک بھی اچھا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز مشکل چیلنج ہے جسے قبول کرنے کے لئے تمام ٹیم تیار ہے ۔انہوں نے کہاکہ بڑے چیلنج میں پرفارم کرنے میں زیادہ پہچان ملتی ہے ۔دورہ انگلینڈ میں قومی ٹیم کو اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کا موقع ملے گا ۔پچھلے پانچ سال میں ٹیم نے زیادہ کرکٹ نہ کھیلنے کے باوجود اچھا پرفارم کیا ہے اور انگلینڈ میں بھی اچھا پرفارم کریں گے۔ہمارے بلے بازوں نے 350تک ٹارگٹ دیدیا تو ہمارا بولنگ اٹیک بہترین ہے جو کہ مخالف ٹیم کے لئے زبردست مشکلات پیدا کرسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ دورہ انگلینڈ میں محمد عامر اور یاسر شاہ پاکستان کی فتح میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انگلینڈ میں لیگ اسپنر ز نے ہمیشہ اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے ۔ماضی میں مشتاق احمد ،دانش کنیریا اور شین وارن انگلینڈ کی وکٹوں پر کامیاب رہے ہیں اور یاسر شاہ بھی کامیاب بولر ثابت ہوگا ۔مصباح الحق نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ محمد عامر کا فکسنگ کا معاملہ تاریخ بن چکا ہے ۔وہ ڈومیسٹک کرکٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ میں کم بیک کرچکا ہے اور دورہ انگلینڈ میں بھی وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا ۔ اسے دورہ انگلینڈ میں آن دی فیلڈ اور آف دی فیلڈ میں دنیا کو ثابت کرنا چاہئے کہ وہ بدل چکا ہے ۔محمد عامر ذہنی طور پر مضبوط ہے اوردورہ کے دوران وہ ہر قسم کی سچویشن کو ہینڈ ل کرسکتا ہے ۔مصباح الحق نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ چیف سلیکٹر انضمام الحق سے ان کے اچھے تعلقات ہیں اور انضمام الحق خود بھی کپتان رہ چکے ہیں اور وہ کپتان کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور اسے سپورٹ کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دورہ انگلینڈ کے دوران ٹیم کو صرف اور صرف کرکٹ کی طرف فوکس کرنا چاہئے اور اس سے ٹیم کسی بھی غیر ضروری تنازعہ سے بچ جائے گی ۔

مزید : ایڈیشن 1