یوروکپ2016 ء ,فٹ بال کے معرکوں میں انسانی عزم و ہمت کے دلچسسپ مظاہرے

یوروکپ2016 ء ,فٹ بال کے معرکوں میں انسانی عزم و ہمت کے دلچسسپ مظاہرے

فٹ بال کی بڑی جنگ یورو کپ میں ٹیموں کا گھمسان جاری

24 ٹیمیں شرکت کررہی ہیں، فرانس میزبانی کے فرائض سر انجام دے ررہا ہے

فٹ بال پوری دنیا میں کھیلے جانے والے کھیلوں میں ہی نہ صرف مقبول کھیل ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ شائقین کی نظروں اور توجہ کا مرکز بھی ہے فٹ بال ورلڈ کپ ہو یا پھر عام میچ ہوں شائقین اس میں اپنی بھرپور دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنی اپنی ٹیموں کے کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں یورو کپ کا انعقاد فرانس کے مختلف شہروں میں جاری ہے جس میں شائقین کی ایک بہت بڑی تعداد روز میچ دیکھنے سٹیڈیم میں موجود ہوتی ہیں یورو کپ فٹ بال ورلڈ کپ کے بعد سب سے بڑا ایونٹ ہے جس میں دنیا کی تمام فٹ بال ٹیمیں شرکت کرتی ہیں اور جیت کے لئے ایک دوسرے سے بھرپور مقابلہ کر تی نظر آتی ہیں پوری دنیا سے شائقین بھی اس ایونٹ کو دیکھنے کے لئے جوق در جوق آتے ہیں اور اپنی ٹیموں کی جیت کے لئے بھرپور کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں یورو کپ میں شریک ٹیموں کی تعداد 24 ہے اور ان ٹیموں کو چار چار کے چھ گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے ہرگروپ سے دو ٹاپ ٹیمیں راؤنڈ آف 16 میں ناک آؤٹ راؤنڈ میں براہ راست کوالیفائی کرجائیں گی اور اس کے بعد تیسرے نمبر پر رہنے والی چھ میں سے ٹاپ چار ٹیمز بھی پری کوارٹر فائنلز کے لئے اگلے مرحلے میں کوالیفائی کرجائیں گی سپین کی ٹیم اس مرتبہ مسلسل تیسرا پورپیئن ٹائٹل اپنے نام کرپاتی ہے کہ نہیں یہ توہ ایونٹ کے اختتام پر معلوم ہوگا سپین 2008 اور اس کے بعد 2012 ء میں دونوں کپ اپنے نام کرچکا ہے اور اس مرتبہ جیت کر وہ ہیٹرک کرلی گی جبکہ اس کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس دوان سپین نے 2010 کا ولڈ کپ بھی اپنے نام کیا تھااس مرتبہ بھی وہ جیت کے لئے فیورٹ ہے مگر حتمی طور پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہے اگر اس نے یہ ایونٹ جیت لیا تو وہ مسلسل تین مرتبہ یہ ایونٹ جیت کر ایک نیا ریکارڈ قائم کرے گی اس ایونٹ میں شریک24 ٹیموں میں شریک کھلاڑی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے جس طرح سے محنت سے کھیل پیش کرکے شائقین کو محظوظ کررہے ہیں اس ایونٹ نے پوری دنیا کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ جوں جوں یہ ایونٹ اگے بڑھتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس میں شائقین کی دلچسپی بھی مزید بڑھے گی اس ایونٹ میں پوری دنیا سے لاکھوں کی تعداد میں شائقین شرکت کرکے اس کھیل میں اپنی دلچسپی کا جس طرح سے اظہار کررہے ہیں وہ قابل دید ہے ٹاٹ ٹیموں کا جب فیصلہ ہوگا اس کے بعد اس ایونٹ میں مزید شائقین کی دلچسپی بڑھ جائے گی جبکہ اس مرتبہ فرانس کی ٹیم میزبانی کی حثییت سے میدان میں اتر رہی ہے اور فرانس کی ٹیم فٹ بال کی دنیا میں ایک مضبوط ٹیم سمجھی جاتی ہے جبکہ یور و کپ کی تاریخ میں فرانس واحد ٹیم ہے جس نے بطور میزبان ایونٹ اپنے نام کیا ہوا ہے اور اس مرتبہ بھی جب وہ میزبانی کررہی ہے تو اس کو اس کا فائدہ ہوگزا فرانس نے 1984 میں ہونے والا یورو کپ بطور میزبان اپنے نام کیا تھااس مرتبہ بھی فرانس سے بہت سے لوگوں کی امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ یہ ایونٹ اپنے نام کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اس ایونٹ میں شریک دیگر ٹیمیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں جس میں جرمنی، بیلجیئم، امریکہ، پرتگال، برازیل، سپین و دیگر شامل ہیں اب ذدیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ جیت کا قرعہ کس ٹیم کے نام نکلتا ہے دوسری جانب اس ایونٹ کے انعقاد کی وجہ سے فرانس کے مختلف شہروں میں جس طرح رونق لگی ہوئی ہے وہ قابل دید ہے پوری دنیا سے شائقین امڈ آئے ہیں بہرحال اس مرتًبہ سیکورٹی کے بہت سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور شائقین کو بھی اس حوالے سے قابو کرنے کے لئے بھرپور سیکورٹی اقدامات کئے گئے ہیں اور اس حوالے سے یورو کپ میں شائقین کی دلچسپی بھی قابل دید ہے ۔

مزید : ایڈیشن 1