بری سے بری جمہوریت اچھی آمریت سے بہتر ہے

بری سے بری جمہوریت اچھی آمریت سے بہتر ہے
بری سے بری جمہوریت اچھی آمریت سے بہتر ہے

  

ملک کا سیاسی منظر نامہ بدل رہا ہے۔ صف بندی ہو رہی ہے۔ ماحول بن رہا ہے۔ ماحول بنایا بھی جا رہا ہے۔ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں۔ ایسے میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے ساتھ ایک غیر سیاسی افطار میں ملاقات ہوئی۔ گو کہ افطار غیر سیاسی تھا۔ لیکن گفتگو سیاسی ہوئی۔ افطاری میں صرف چھ لوگ تھے۔ اس لئے گفتگو کافی سنجیدہ تھی۔ افطاری کے اکثر شرکاء پانامہ کے محرکات ، اس کے اثرات اور اس کے نتائج پر بات کرنا چاہتے تھے۔ افطاری بھی ایسے ماحول میں تھی جب ڈاکٹر طاہر القادری مال روڈ پر دھرنا دے رہے تھے۔

سب سراج الحق صاحب سے ہی کچھ نہ کچھ پوچھناچاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ پنڈی والے کہاں کھڑے ہیں۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ پنڈی والے معاملات میں دلچسپی تو بہت لے رہے ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی بات اور ڈویلپمنٹ میں ان کی دلچسپی قابل دید ہے۔ بلکہ قابل توجہ ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس وقت ان کی ہر چھوٹی چھوٹی بات پر بھی نظر ہے۔ یہ دلچسپی بلاوجہ تو نہیں ہو سکتی۔ لیکن پنڈی والے چاہتے کیا ہیں؟ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ وہ بھی دلچسپی سے معاملات کو دیکھ رہے ہیں اور ہم سب ان کی دلچسپی کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے کہ آخر کیا ہو گا تو انہوں نے کہا کہ ابھی میاں نواز شریف کے پاس بہت سے آپشن موجود ہیں۔ جنہیں وہ استعمال کر کے گیم کو بدل سکتے ہیں۔

اس سوال پر کہ میاں نواز شریف کے پاس کون کون سے آپشن ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جماعت سے نیا وزیر اعظم لا سکتے ہیں۔ یہ اختیار بھی ان کے پاس ہے کہ وہ اپنی جماعت میں سے جس کو مرضی وزیر اعظم لے آئیں۔ آپ دیکھیں جونہی وزیر اعظم یہ فیصلہ کرتے ہیں۔ ساری گیم بدل جاتی ہے۔ منظر نامہ بدل جاتا ہے۔ سیاست کا رخ ہی بدل جا تا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو شائد ممکن نہیں۔ آپ بتائیں ٹی او آرز پر کوئی مفاہمت ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی او آر پر جو فریقین مذاکرات کر رہے ہیں ۔ دونوں ہی ٹی او آرز پر کوئی مفاہمت نہیں چاہتے۔ دونوں کی ایک ہی پالیسی ہے کہ بس معاملہ کو لمبا کیا جائے۔ ڈیڈ لاک قائم رکھا جائے۔ میں نے کہا کیوں ۔وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ جو مذاکرات کر رہے ہیں۔ انہیں بھی پتہ ہے کہ اگر احتساب شروع ہو گیا تو بات صرف میاں نواز شریف پر ختم نہیں ہو گی۔ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے بعد آصف زرداری اور ان کے خاندان کی باری آئے گی۔ بے لاگ احتساب کو میاں نواز شریف پر شروع کرکے میاں نواز شریف پر ختم کرنے کی اپوزیشن کی شرط نہیں مانی جا سکتی۔ اور میاں نواز شریف کا نام نکالنے کی حکومت کی شرط نہیں مانی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی تجاویز سامنے لاتی ہے کہ کہ پانامہ پر تحقیقات اسی ترتیب سے شروع کر لی جائیں جس ترتیب سے پانامہ کی فہرست میں نام آئے ہیں۔ اب جب اپوزیشن نے حکومت کی اس تجویز کے بعد پانامہ کی فہرست کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ وزیر اعظم کے خاندان کی باری تو قیامت تک نہیں آئے گی۔

میں نے سوال کیا کہ اگر اس ڈیڈ لاک کے نتیجے میں پنڈی والے آگئے تو انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ پنڈی والے نہ آئیں۔ کیونکہ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ بری سے بری جمہوریت ا چھی آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ اس لئے بری سے بری جمہوریت کو بھی چلنا ہو گا۔ اسی میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔ آپ دیکھیں ہم نے ایک وزیر اعظم کو پھانسی لگا کر دیکھ لیا۔ ایک کو جلا وطن کر کے دیکھ لیا۔ تین کو کرپشن پر نکال کر دیکھ لیا۔ پنڈی والوں نے بھی بار بار آکر دیکھ لیا۔ کیا ہوا۔ کیا کوئی بہتری ہوئی؟کرپشن کے الزامات پر جمہوری حکومتوں کو برطرف کرنے والے کیا کرپشن کو ختم کر سکے۔ جمہوری حکومت تو پھر عوامی دباؤ اور عوامی رائے عامہ کو خاطر میں لاتی ہے۔ خیال کرتی ہے۔ آمریت میں تو عوامی دباؤ بھی بے اثر ہو جا تاہے۔ مسکراتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی میں تو ضیاء الحق کی وجہ سے بہت الزام لگتے رہے ہیں کہ ہم نے ضیاء الحق کو راستہ دیا۔ ہم اب جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ اور جمہوریت کو ہی عوام کی فلاح کا راستہ سمجھتے ہیں۔

سراج الحق صاحب کی گفتگو کافی حیران کن اور دلچسپ ہو گئی تھی۔ میں نے کہا کہ اگر یہی سوچ ہے تو جماعت اسلامی کرپشن کے خلاف تحریک کیوں چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ جماعت اسلامی کی کرپشن کے خلاف تحریک اور باقی میں فرق نہیں دیکھ رہے۔ ہم نے تو پانامہ سے بہت پہلے ملک بھر میں کرپشن کے خلاف تحریک شروع کی ہے۔باقی تو پانامہ کے بعد میدان میں آئے ہیں۔ ہم نے جب ملک بھر میں کرپشن کے خلاف تحریک شروع کی تو تب پانامہ کا کوئی وجود نہیں تھا۔

میں نے کہا کہ چلیں مان لیتے ہیں کہ باقی پانامہ سے میدان میں آئے ہیں۔ اور پانامہ سے پہلے میدان میں آئے ہیں۔ تو پھر جماعت اسلامی کیا چاہتی ہے۔ وہ کہنے لگے ہم ملک میں بلا تفریق احتساب کے لئے قانون سازی اور ماحول بنانا چاہتے ہیں۔ جب تک احتساب بلا تفریق نہیں ہو گا۔ کرپشن ختم نہیں ہو سکتی۔ اسی مقصد کے لئے ہم نے پارلیمنٹ میں ایک احتساب بل بھی پیش کیا ہے۔ جس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کا تقرر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت کی بجائے چیف جسٹس پاکستان چاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کی مشاورت سے کریں تا کہ چیئرمین نیب بلا خوف احتساب کر سکے۔ ابھی وہ کیسے احتساب کر سکتا ہے جب اس کو حکومت اور اپوزیشن نے مل کر ہی لگا یا ہو گا۔جنہوں نے لگایا ہے ان کا حتساب کون کر سکتا ہے۔

سرج الحق پر امید ہیں کہ وہ اپنی کرپشن کے خلاف تحریک سے بلا تفرقی احتساب کی راہ ہموار کر لیں گے۔ وہ کسی دھرنے میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کا اپنا پروگرام ہے۔ ہم کسی کے ایجنڈے پر نہیں چل سکتے۔ لیکن ان کا خیال ہے کہ ماحول بلا تفریق احتساب کے لئے بن رہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن اس سے بھاگ نہیں سکیں گے۔ ایک دوسرے کو بچاتے بچاتے یہ خود بخود بلا تفریق احتساب پر پہنچ جائیں گے۔ یہی ان کی منزل ہے۔ جب یہ بلا تفریق احتساب پر پہنچیں گے تو آگے جماعت اسلامی ان کا استقبال کرے گی۔

مزید : کالم